<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 17 May 2026 03:46:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 17 May 2026 03:46:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1241003/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے  سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد  بڑھا کر  23 کرنے کا فیصلہ کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق  حکومت نے قومی اسمبلی کے  آئندہ اجلاس میں سپریم کورٹ ترمیمی بل پیش کرنے فیصلہ کیا ہے جس میں  چیف جسٹس کے علاوہ سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 22 کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کے مطابق ججز کی تعداد بڑھانے سے سپریم کورٹ کے زیر التوا کیسز حل کرنے میں مدد ملے گی، ججز کی تعداد بڑھانے سے سپریم کورٹ سائلین کو انصاف کی بروقت یقین دہانی کرا سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ججز تعیناتی میں ان کی ماحولیات، بین الاقوامی تجارت اور سائبر کرائم کے قوانین میں مہارت مدنظر رکھی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238621"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1847860"&gt;24 جولائی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے بیشتر ارکان نے  اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججوں کی منظور شدہ تعداد میں اضافے کی ضرورت پر اتفاق کیا تاہم اس حوالے سے بل پر غور ان کے اگلے اجلاس تک موخر کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ججز کی تعداد کا تعین زیر التوا تفصیلات کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے،ہمیں اسے 17 سے بڑھا کر 24 کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1238621"&gt;26 جولائی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو صدر مملکت آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں دو ایڈہاک ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی تھی جس کے بعد ججز کی تعداد 17 سے بڑھ کر 19 ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1231862"&gt;27  اپریل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو سپریم کورٹ میں فیصلوں کے منتظر مقدمات کی تعداد 57 ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1184857"&gt;2022&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ملک کی اعلیٰ اور نچلی عدالتیں 21 لاکھ 44 ہزار زیر التوا مقدمات کے ایک بڑے بیک لاگ سے نمٹ رہی ہیں کیونکہ 2021 کے دوران 41 لاکھ 2 ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا گیا اور 40 لاکھ 60 ہزار نئے مقدمات دائر کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 کے آغاز میں تمام عدالتوں میں مجموعی طور پر 21 لاکھ 60 ہزار مقدمات زیر التوا تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت نے  سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد  بڑھا کر  23 کرنے کا فیصلہ کرلیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق  حکومت نے قومی اسمبلی کے  آئندہ اجلاس میں سپریم کورٹ ترمیمی بل پیش کرنے فیصلہ کیا ہے جس میں  چیف جسٹس کے علاوہ سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 22 کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>بل کے مطابق ججز کی تعداد بڑھانے سے سپریم کورٹ کے زیر التوا کیسز حل کرنے میں مدد ملے گی، ججز کی تعداد بڑھانے سے سپریم کورٹ سائلین کو انصاف کی بروقت یقین دہانی کرا سکے گی۔</p>
<p>بل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ججز تعیناتی میں ان کی ماحولیات، بین الاقوامی تجارت اور سائبر کرائم کے قوانین میں مہارت مدنظر رکھی جائے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1238621"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1847860">24 جولائی</a></strong> کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے بیشتر ارکان نے  اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججوں کی منظور شدہ تعداد میں اضافے کی ضرورت پر اتفاق کیا تاہم اس حوالے سے بل پر غور ان کے اگلے اجلاس تک موخر کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ججز کی تعداد کا تعین زیر التوا تفصیلات کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے،ہمیں اسے 17 سے بڑھا کر 24 کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1238621">26 جولائی</a></strong> کو صدر مملکت آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں دو ایڈہاک ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی تھی جس کے بعد ججز کی تعداد 17 سے بڑھ کر 19 ہوگئی تھی۔</p>
<p>واضح رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1231862">27  اپریل</a></strong> کو سپریم کورٹ میں فیصلوں کے منتظر مقدمات کی تعداد 57 ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1184857">2022</a></strong> میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ملک کی اعلیٰ اور نچلی عدالتیں 21 لاکھ 44 ہزار زیر التوا مقدمات کے ایک بڑے بیک لاگ سے نمٹ رہی ہیں کیونکہ 2021 کے دوران 41 لاکھ 2 ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا گیا اور 40 لاکھ 60 ہزار نئے مقدمات دائر کیے گئے۔</p>
<p>2021 کے آغاز میں تمام عدالتوں میں مجموعی طور پر 21 لاکھ 60 ہزار مقدمات زیر التوا تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1241003</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Aug 2024 12:23:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عرفان سدوزئیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/08/281155043ed4ca4.gif" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/08/281155043ed4ca4.gif"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
