<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Africa</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 21 May 2026 09:13:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 21 May 2026 09:13:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جمہوریہ کانگو میں جیل توڑنے کی کوشش کے دوران 129 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1241446/</link>
      <description>&lt;p&gt;جمہوریہ کانگو  کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جیل کو توڑنے کی کوشش کے دوران کم از کم 129 افراد ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق وزیر جیکومین شبانی نے منگل کو ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں 129 لوگ مارے گئے جن میں 24 وہ  افراد بھی شامل ہیں جنہیں انتباہ کے بعد گولی مار دی گئی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ دارالحکومت کنشاسا کی مکالا جیل میں دیگر 59  افراد زخمی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی وزارت نے بتایا کہ کئی لوگ کچلا گئے  یا ان کا دم گھٹ گیا اور متعدد خواتین کا ریپ بھی کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ پیر کی صبح تقریباً 2 بجے جیل میں فائرنگ شروع ہوئی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دارالحکومت میں رہنے والے 40 سالہ الیکٹریشن دادی سوسو نے اطلاع دی  کہ سیکیورٹی فورس کی گاڑیاں صبح سویرے لاشیں  لے کر روانہ ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حکام نے اس حوالے  وضاحت  نہیں کی  کہ اس واقعے میں کتنے قیدی فرار ہوئے یا کتنوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی، لیکن پیر کی صبح حکومت کے ترجمان پیٹرک مویا نے قومی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ صورتحال کنٹرول میں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جمہوریہ کانگو  کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جیل کو توڑنے کی کوشش کے دوران کم از کم 129 افراد ہلاک ہو گئے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق وزیر جیکومین شبانی نے منگل کو ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں 129 لوگ مارے گئے جن میں 24 وہ  افراد بھی شامل ہیں جنہیں انتباہ کے بعد گولی مار دی گئی ۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ دارالحکومت کنشاسا کی مکالا جیل میں دیگر 59  افراد زخمی ہوئے ہیں۔</p>
<p>ان کی وزارت نے بتایا کہ کئی لوگ کچلا گئے  یا ان کا دم گھٹ گیا اور متعدد خواتین کا ریپ بھی کیا گیا۔</p>
<p>عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ پیر کی صبح تقریباً 2 بجے جیل میں فائرنگ شروع ہوئی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔</p>
<p>دارالحکومت میں رہنے والے 40 سالہ الیکٹریشن دادی سوسو نے اطلاع دی  کہ سیکیورٹی فورس کی گاڑیاں صبح سویرے لاشیں  لے کر روانہ ہوگئیں۔</p>
<p>تاہم حکام نے اس حوالے  وضاحت  نہیں کی  کہ اس واقعے میں کتنے قیدی فرار ہوئے یا کتنوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی، لیکن پیر کی صبح حکومت کے ترجمان پیٹرک مویا نے قومی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ صورتحال کنٹرول میں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1241446</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Sep 2024 15:41:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/09/031536449c0f7dd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="364" width="606">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/09/031536449c0f7dd.jpg"/>
        <media:title>فوٹو: الجزیرہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
