<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 07:58:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 16 Jun 2026 07:58:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مصر کے نئے دارالخلافہ میں افریقہ کی بلند ترین عمارت تیار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1241573/</link>
      <description>&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ کے اہم ترین اسلامی ملک مصر کے نئے تیار ہونے والے دارالخلافہ میں افریقہ کی بلند ترین عمارت تیار ہوگئی، جسے 75 فیصد بجلی سولر سسٹم کے ذریعے مہیا کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/style/cairo-forbes-international-tower-hydrogen-nac-spc/index.html"&gt;&lt;strong&gt;سی این این&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق نئے بننے والے مصری دارالحکومت شہر کا بڑا کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے، وہاں افریقہ کی بلند ترین اور خوبصورت ترین عمارت بھی تیار ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ عمارت کو ”دی فوربز انٹرنیشنل ٹاور“ کا نام دیا گیا ہے جو کہ 787 فٹ بلند ہے، عمارت کی چھت پر ہیلی پیڈ بھی بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2024/09/0421234878362cc.jpg'  alt='&amp;mdash;فوٹو: سی این این' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—فوٹو: سی این این&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دور سے شیشے کی عمارت کی طرح نظر آنے والی بلڈنگ کو 75 فیصد بجلی سولر سسٹم سے فراہم کی جائے گی جب کہ عمارت میں استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی لگائے گئے ہیں، جس سے عمارت کی پانی کی ضروریات بھی آسانی سے پوری ہو سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے بننے والے دارالحکومت شہر کو تاحال مصری حکومت نے نام نہیں دیا، اس کی تعمیر کا اعلان 2015 میں کیا گیا تھا اور اس پر مرمتی کام کا آغاز 2016 میں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیا داالحکومت شہر حالیہ دارالخلافہ قاہرہ سے 45 کلو میٹر کی دوری پر بنایا گیا ہے اور نیا شہر بھی بحیرہ احمر کے ساحل پر بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے دارالحکومت شہر میں 65 لاکھ افراد رہائش اختیار کر سکیں گے، شہر میں نیا پارلیمنٹ ہاؤس، صدارتی محل، متعدد سرکاری دفاتر، عدالتیں، پولیس تھانے، تعلیمی ادارے، بلند و بالا و خوبصورت شاپنگ سینٹرز، لائبریریاں، مساجد اور مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا چرچ بھی تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے دارالخلافہ میں مصری حکومت کے دفاتر کی منتقلی کا کام رواں برس کے اختتام سے قبل شروع ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مشرق وسطیٰ کے اہم ترین اسلامی ملک مصر کے نئے تیار ہونے والے دارالخلافہ میں افریقہ کی بلند ترین عمارت تیار ہوگئی، جسے 75 فیصد بجلی سولر سسٹم کے ذریعے مہیا کی جائے گی۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/style/cairo-forbes-international-tower-hydrogen-nac-spc/index.html"><strong>سی این این</strong></a> کے مطابق نئے بننے والے مصری دارالحکومت شہر کا بڑا کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے، وہاں افریقہ کی بلند ترین اور خوبصورت ترین عمارت بھی تیار ہوگئی۔</p>
<p>مذکورہ عمارت کو ”دی فوربز انٹرنیشنل ٹاور“ کا نام دیا گیا ہے جو کہ 787 فٹ بلند ہے، عمارت کی چھت پر ہیلی پیڈ بھی بنایا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2024/09/0421234878362cc.jpg'  alt='&mdash;فوٹو: سی این این' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—فوٹو: سی این این</figcaption>
    </figure></p>
<p>دور سے شیشے کی عمارت کی طرح نظر آنے والی بلڈنگ کو 75 فیصد بجلی سولر سسٹم سے فراہم کی جائے گی جب کہ عمارت میں استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی لگائے گئے ہیں، جس سے عمارت کی پانی کی ضروریات بھی آسانی سے پوری ہو سکیں گی۔</p>
<p>نئے بننے والے دارالحکومت شہر کو تاحال مصری حکومت نے نام نہیں دیا، اس کی تعمیر کا اعلان 2015 میں کیا گیا تھا اور اس پر مرمتی کام کا آغاز 2016 میں ہوا تھا۔</p>
<p>نیا داالحکومت شہر حالیہ دارالخلافہ قاہرہ سے 45 کلو میٹر کی دوری پر بنایا گیا ہے اور نیا شہر بھی بحیرہ احمر کے ساحل پر بنایا گیا ہے۔</p>
<p>نئے دارالحکومت شہر میں 65 لاکھ افراد رہائش اختیار کر سکیں گے، شہر میں نیا پارلیمنٹ ہاؤس، صدارتی محل، متعدد سرکاری دفاتر، عدالتیں، پولیس تھانے، تعلیمی ادارے، بلند و بالا و خوبصورت شاپنگ سینٹرز، لائبریریاں، مساجد اور مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا چرچ بھی تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>نئے دارالخلافہ میں مصری حکومت کے دفاتر کی منتقلی کا کام رواں برس کے اختتام سے قبل شروع ہوجائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1241573</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Sep 2024 23:03:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/09/04212201224cb6a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/09/04212201224cb6a.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو: سی این این
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
