<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 12:18:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Apr 2026 12:18:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عدم مساوات میں اضافے کے باعث محنت کشوں کی آمدنی میں کمی ہوئی ہے، آئی ایل او</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1241615/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے خبردار کیا ہے کہ محنت کشوں کی آمدنی کا حصہ جو معیشت میں کام کرنے والے افراد کی کُل آمدنی کے تناسب کی نمائندگی کرتا ہے اس میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران 1.6 فیصد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1857015/labour-income-falls-amid-rising-inequality-ilo"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق بدھ کو جاری کیے گئے ’ورلڈ ایمپلائمنٹ اینڈ سوشل آؤٹ لُک: ستمبر 2024 اپڈیٹ‘ کے مطابق نئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ محنت کشوں کی آمدنی کے حصے کا تناسب  2019 سے مسلسل کم ہو کر 2022 میں 52.3  فیصد تک جبکہ 2023 اور 2024 میں اتنے تناسب پر ہی برقرار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ کرونا سے پہلے کی شرح کے مقابلے میں 0.6 فیصد کم ہے، اگرچہ یہ کمی پوائنٹ فیصد کے حساب سے معمولی نظر آتی ہے لیکن یہ محنت کشوں کی آمدنی میں قابل ذکر اور مسلسل کمی کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیداواری صلاحیت بڑھنے کے ساتھ گزشتہ 20 سالوں میں محنت کشوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہونے کے باوجود ان کی آمدنی کا حصہ کم ہوا ہے، اس کمی نے عدم مساوات میں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1235571"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عدم مساوات میں اضافے کی بڑی وجہ محنت کشوں کی آمدنی کے حصوں کے منجمد ہونے اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کے تعلیم، ٹریننگ سے محروم اور بےروزگاری کی وجہ سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کووڈ 19 وبا کو اس منفی رجحان کی ایک نمایاں وجہ قرار دیا گیا ہے، سال 2020 سے 2022 کے وبائی سالوں کے دوران محنت کشوں کی آمدنی میں 40 فیصد کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر عوامل میں اقتصادی مطالعے نے ٹیکنالوجی کو محنت کشوں کی آمدنی کے حصوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ کے طور پر شناخت کیا ہے، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حالیہ پیش رفت نے ٹیکنالوجی اور مزدوروں کی آمدنی کے حصہ کے درمیان تعلق کے تجزیہ کرنے کو اہم بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایل او نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی میں جدت بشمول آٹومیشن نے اس رجحان میں اہم کردار ادا کیا ہے، اگرچہ ان ایجادات نے جہاں  پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور پیداوار میں اضافہ کیا ہے وہی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ ورکرز کو اس ضمن میں حاصل ہونے والے فوائد سے برابری کا حصہ نہیں مل رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے فوائد کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کو یقینی بنانے کے لیے جامع پالیسیوں کے بغیر، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حالیہ پیش رفت عدم مساوات کو مزید گہرا کر سکتی ہے جس سے ایس ڈی جیز کی کامیابیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے آئی ایل او کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سیلیسٹ ڈریک نے کہا کہ ’محنت کشوں کی آمدنی میں کمی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ممالک کو اقدامات کرنے ہوں گے، ہمیں ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جو اقتصادی فوائد کی مساوی تقسیم، بشمول ایسوسی ایشن کی آزادی، اجتماعی سمجھوتے اور مؤثر لیبر ایڈمنسٹریشن کو فروغ دیں تاکہ سب کے لیے پائیدار ترقی کا راستہ بنایا جا سکے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے خبردار کیا ہے کہ محنت کشوں کی آمدنی کا حصہ جو معیشت میں کام کرنے والے افراد کی کُل آمدنی کے تناسب کی نمائندگی کرتا ہے اس میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران 1.6 فیصد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1857015/labour-income-falls-amid-rising-inequality-ilo">رپورٹ</a></strong> کے مطابق بدھ کو جاری کیے گئے ’ورلڈ ایمپلائمنٹ اینڈ سوشل آؤٹ لُک: ستمبر 2024 اپڈیٹ‘ کے مطابق نئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ محنت کشوں کی آمدنی کے حصے کا تناسب  2019 سے مسلسل کم ہو کر 2022 میں 52.3  فیصد تک جبکہ 2023 اور 2024 میں اتنے تناسب پر ہی برقرار رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ کرونا سے پہلے کی شرح کے مقابلے میں 0.6 فیصد کم ہے، اگرچہ یہ کمی پوائنٹ فیصد کے حساب سے معمولی نظر آتی ہے لیکن یہ محنت کشوں کی آمدنی میں قابل ذکر اور مسلسل کمی کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>پیداواری صلاحیت بڑھنے کے ساتھ گزشتہ 20 سالوں میں محنت کشوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہونے کے باوجود ان کی آمدنی کا حصہ کم ہوا ہے، اس کمی نے عدم مساوات میں اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1235571"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عدم مساوات میں اضافے کی بڑی وجہ محنت کشوں کی آمدنی کے حصوں کے منجمد ہونے اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کے تعلیم، ٹریننگ سے محروم اور بےروزگاری کی وجہ سے ہے۔</p>
<p>کووڈ 19 وبا کو اس منفی رجحان کی ایک نمایاں وجہ قرار دیا گیا ہے، سال 2020 سے 2022 کے وبائی سالوں کے دوران محنت کشوں کی آمدنی میں 40 فیصد کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p>دیگر عوامل میں اقتصادی مطالعے نے ٹیکنالوجی کو محنت کشوں کی آمدنی کے حصوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ کے طور پر شناخت کیا ہے، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حالیہ پیش رفت نے ٹیکنالوجی اور مزدوروں کی آمدنی کے حصہ کے درمیان تعلق کے تجزیہ کرنے کو اہم بنا دیا ہے۔</p>
<p>آئی ایل او نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی میں جدت بشمول آٹومیشن نے اس رجحان میں اہم کردار ادا کیا ہے، اگرچہ ان ایجادات نے جہاں  پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور پیداوار میں اضافہ کیا ہے وہی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ ورکرز کو اس ضمن میں حاصل ہونے والے فوائد سے برابری کا حصہ نہیں مل رہا۔</p>
<p>رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے فوائد کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کو یقینی بنانے کے لیے جامع پالیسیوں کے بغیر، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حالیہ پیش رفت عدم مساوات کو مزید گہرا کر سکتی ہے جس سے ایس ڈی جیز کی کامیابیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔</p>
<p>اس حوالے سے آئی ایل او کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سیلیسٹ ڈریک نے کہا کہ ’محنت کشوں کی آمدنی میں کمی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ممالک کو اقدامات کرنے ہوں گے، ہمیں ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جو اقتصادی فوائد کی مساوی تقسیم، بشمول ایسوسی ایشن کی آزادی، اجتماعی سمجھوتے اور مؤثر لیبر ایڈمنسٹریشن کو فروغ دیں تاکہ سب کے لیے پائیدار ترقی کا راستہ بنایا جا سکے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1241615</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Sep 2024 18:01:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/09/05141515a258e43.jpg?r=175856" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/09/05141515a258e43.jpg?r=175856"/>
        <media:title>2023 اور 2024 میں آمدنی کا حصہ 52.3  فیصد پر برقرار رہا — فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
