<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 19:46:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Apr 2026 19:46:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پلاسٹک ذرات کھانے یا نگلنے سے موٹاپے کا خطرہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1241902/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگرچہ ماضی میں سامنے آنے والی متعدد تحقیقات سے معلوم ہو چکا ہے کہ پلاسٹک ذرات یعنی مائکروپلاسٹک انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں لیکن اب تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انہیں نگلنے یا کھانے سے انسان کے موٹے ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ویب سائٹ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.webmd.com/obesity/news/20240905/how-microplastics-may-trigger-weight-gain"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; مائکروپلاسٹک جو کہ پلاسٹک کی پانی کی بوتلوں، مختلف غذائوں کی پیکنگ سمیت مختلف ذرائع سے انسانی خوراک کا حصہ بن کر انسانی جسم میں داخل ہو رہے ہیں، وہ اندر جاکر انسانی ہارمونز کو بھی تبدیل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پلاسٹک ذرات جہاں فالج، امراض قلب، مردانہ بانجھ پن سمیت دیگر امراض کا سبب بن رہے ہیں، وہیں یہ نظر نہ آنے والے ذرات انسانی جسم میں داخل ہوکر ہارمونز کے نظام میں بھی داخل ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1109338"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ پلاسٹک ذرات اسٹریس اور انسانی جسم کے خون سمیت مختلف معاملات کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز میں داخل ہوکر مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پلاسٹک ذرات کارٹیسول، اسٹروجن، اسٹریس ہارمون سمیت دیگر ہارمونز میں شامل ہوکر نہ صرف وزن بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں بلکہ اس سے خون میں انفلیمیشن بڑھنے سے بلڈ پریشر، شوگر اور جلن سمیت دیگر امراض بھی ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق پلاسٹک ذرات خصوصی طور پر کارٹیسول کو متاثر کرکے نہ صرف وزن بڑھنے کا سبب بن رہے ہیں بلکہ ان سے نظام ہاضمہ بھی خراب ہو رہا ہے کیوں کہ مذکورہ ہارمون نہ صرف گردوں کو بہتر انداز میں کام کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے بلکہ یہ خون کی ترسیل کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل سامنے آنے والی متعدد تحقیقاتی رپورٹس میں بھی پلاسٹک ذرات یا مائکرو پلاسٹک کو انسانی زندگی کے لیے خطرہ قرار دیا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگرچہ ماضی میں سامنے آنے والی متعدد تحقیقات سے معلوم ہو چکا ہے کہ پلاسٹک ذرات یعنی مائکروپلاسٹک انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں لیکن اب تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انہیں نگلنے یا کھانے سے انسان کے موٹے ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>طبی ویب سائٹ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.webmd.com/obesity/news/20240905/how-microplastics-may-trigger-weight-gain"><strong>مطابق</strong></a> مائکروپلاسٹک جو کہ پلاسٹک کی پانی کی بوتلوں، مختلف غذائوں کی پیکنگ سمیت مختلف ذرائع سے انسانی خوراک کا حصہ بن کر انسانی جسم میں داخل ہو رہے ہیں، وہ اندر جاکر انسانی ہارمونز کو بھی تبدیل کر رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پلاسٹک ذرات جہاں فالج، امراض قلب، مردانہ بانجھ پن سمیت دیگر امراض کا سبب بن رہے ہیں، وہیں یہ نظر نہ آنے والے ذرات انسانی جسم میں داخل ہوکر ہارمونز کے نظام میں بھی داخل ہو رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1109338"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ پلاسٹک ذرات اسٹریس اور انسانی جسم کے خون سمیت مختلف معاملات کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز میں داخل ہوکر مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پلاسٹک ذرات کارٹیسول، اسٹروجن، اسٹریس ہارمون سمیت دیگر ہارمونز میں شامل ہوکر نہ صرف وزن بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں بلکہ اس سے خون میں انفلیمیشن بڑھنے سے بلڈ پریشر، شوگر اور جلن سمیت دیگر امراض بھی ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق پلاسٹک ذرات خصوصی طور پر کارٹیسول کو متاثر کرکے نہ صرف وزن بڑھنے کا سبب بن رہے ہیں بلکہ ان سے نظام ہاضمہ بھی خراب ہو رہا ہے کیوں کہ مذکورہ ہارمون نہ صرف گردوں کو بہتر انداز میں کام کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے بلکہ یہ خون کی ترسیل کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل سامنے آنے والی متعدد تحقیقاتی رپورٹس میں بھی پلاسٹک ذرات یا مائکرو پلاسٹک کو انسانی زندگی کے لیے خطرہ قرار دیا جاچکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1241902</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Sep 2024 22:57:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/09/092009045804e3b.jpg?r=200947" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/09/092009045804e3b.jpg?r=200947"/>
        <media:title>—فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
