<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 08 Jun 2026 11:06:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 08 Jun 2026 11:06:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>احاطہ پارلیمنٹ سے پی ٹی آئی اراکین کو گرفتار کرنے پر آئی جی کی سرزنش، فوری رہا کرنے کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1241937/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے سے اراکین پارلیمنٹ کی گرفتاری پر انسپکٹر جنرل ( آئی جی) اسلام آباد پولیس کی سرزنش کی اور انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ سے ارکان کی گرفتاری  سے متعلق اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/ngpe8cExf98?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف  اعظم نذیر تارڑ، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی سمیت دیگر رہنما شریک  ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں آئی جی اسلام آباد کو بھی  طلب کیا گیا اور  پارلیمنٹیرین کی گرفتاری  کے معاملے پر ان کی سرزنش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241926"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایاز صادق  نے گرفتار ارکان پارلیمنٹ کو فوری رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق پارلیمنٹ سے باہرجس کو چاہیں گرفتارکریں،  پارلیمنٹ سے ارکان کی گرفتاری ناقابل قبول  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کی مشاورت کے بعد مسلم لیگ (ن)  کے  رہنما طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے ہدایت کی ہے کہ جو ارکان قومی اسمبلی گرفتار ہوئے ان کے پراڈکشن آرڈر جاری کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس سے رپورٹ مانگی گئی ہے کہ آپ نے کس طرح پارلیمنٹ اور لاجز سے ارکان کو گرفتار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے آگاہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے تمام گرفتار ارکان کو رہا کیا جائے گا، اسپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق پروڈکشن جاری کریں گے،گزشتہ روز کے پورے واقعے کی انکوائری ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے  پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کے رہنما علی محمد خان کے خطاب پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ کل جو ہوا، اس حوالے سے جو الزامات سامنے آ رہے ہیں، یہ پورے آئین، پوری پارلیمنٹ پر بہت سنجیدہ حملہ ہے جب کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا تھا کہ کل پارلیمنٹ میں جو ہوا، اس پر ایکشن لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایاز صادق نے کہا کہ قانون اور آئین کی پاسداری ہونی چاہیے، ہمیں گزشتہ روز کے واقعےکو سنجیدہ لینا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 2014 میں جب ایک جماعت اور اس کے کزن نے پارلمنٹ پر حملہ کیا تو بد قسمتی سے اس وقت بھی میں اس کرسی پر تھا، 2014 میں پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا اس کا مقدمہ درج ہوا تھا، جو ہوا اس پر ہم نے ایکشن لینا ہے، اس پر ہم نے خاموش نہیں رہنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو گزشتہ روز کے واقعے کی بھی ایف آئی آر کٹواؤں گا ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے یہ اقدام کیا، اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنا ہے، کل جو کچھ ہوا اس کی فوٹیجز چاہیے، تاکہ ہم نے جس پر ذمے داری ڈالنی ہے، اس پر ڈالی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں خواجہ آصف نے کل رات کے واقعہ پر ایوان کی تمام جماعتوں کا جو بھی رد عمل آنا ہے، وہ آجائے، ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں، آپ کی ہی قیادت میں موجود اسمبلی میں، ہم 3،4 مہینے پیچھلے دروازے سے آتے تھے، انہوں نے اس کے احاطے پر قبضہ کیے رکھا، وہ ان کو یاد نہیں ہےؕ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بطور کسٹوڈین جو بات آپ نے کی، اس سے صائب رائے نہیں ہوسکتی، ہمیں اپنے جذبات پر قابو رکھنا ہے، زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو، اگر آپ زہر بوئیں گے تو پھول نکلیں گے لیکن ہوں گے زہریلے، میٹھا بویا کریں، میٹھا بوئیں گے تو میٹھا، تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر نے بہت اچھی بات کی، یہ اس ایوان کے تقدس کا مسئلہ ہے، ہم سب اسپیکر کے چیمبر میں آجاتے ہیں، لیکن اس کے بنیادی اسباب کو بھی دیکھنا چاہیے، اگر کمرے میں ہاتھی ہے تو اس کو کہیں، اس طرح کے نظریات رکھ کر، اس طرح کی گفتگو کرکے یہ توقع رکھنا کہ رد عمل نہیں آئے گا، یہ نہیں ہوگا، قانون و آئین کی پاسداری ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون نے کہا کہ یقین دلاتا ہوں کہ جہاں ہماری غلطی ہوئی، اس کو مانیں گے، اس کی درستگی بھی کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے سے اراکین پارلیمنٹ کی گرفتاری پر انسپکٹر جنرل ( آئی جی) اسلام آباد پولیس کی سرزنش کی اور انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ سے ارکان کی گرفتاری  سے متعلق اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/ngpe8cExf98?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف  اعظم نذیر تارڑ، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی سمیت دیگر رہنما شریک  ہوئے۔</p>
<p>اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں آئی جی اسلام آباد کو بھی  طلب کیا گیا اور  پارلیمنٹیرین کی گرفتاری  کے معاملے پر ان کی سرزنش کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241926"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایاز صادق  نے گرفتار ارکان پارلیمنٹ کو فوری رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق پارلیمنٹ سے باہرجس کو چاہیں گرفتارکریں،  پارلیمنٹ سے ارکان کی گرفتاری ناقابل قبول  ہے۔</p>
<p>اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کی مشاورت کے بعد مسلم لیگ (ن)  کے  رہنما طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے ہدایت کی ہے کہ جو ارکان قومی اسمبلی گرفتار ہوئے ان کے پراڈکشن آرڈر جاری کریں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس سے رپورٹ مانگی گئی ہے کہ آپ نے کس طرح پارلیمنٹ اور لاجز سے ارکان کو گرفتار کیا۔</p>
<p>سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے آگاہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے تمام گرفتار ارکان کو رہا کیا جائے گا، اسپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق پروڈکشن جاری کریں گے،گزشتہ روز کے پورے واقعے کی انکوائری ہوگی۔</p>
<p>واضح رہے کہ اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے  پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کے رہنما علی محمد خان کے خطاب پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ کل جو ہوا، اس حوالے سے جو الزامات سامنے آ رہے ہیں، یہ پورے آئین، پوری پارلیمنٹ پر بہت سنجیدہ حملہ ہے جب کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا تھا کہ کل پارلیمنٹ میں جو ہوا، اس پر ایکشن لیں گے۔</p>
<p>ایاز صادق نے کہا کہ قانون اور آئین کی پاسداری ہونی چاہیے، ہمیں گزشتہ روز کے واقعےکو سنجیدہ لینا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 2014 میں جب ایک جماعت اور اس کے کزن نے پارلمنٹ پر حملہ کیا تو بد قسمتی سے اس وقت بھی میں اس کرسی پر تھا، 2014 میں پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا اس کا مقدمہ درج ہوا تھا، جو ہوا اس پر ہم نے ایکشن لینا ہے، اس پر ہم نے خاموش نہیں رہنا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو گزشتہ روز کے واقعے کی بھی ایف آئی آر کٹواؤں گا ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے یہ اقدام کیا، اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنا ہے، کل جو کچھ ہوا اس کی فوٹیجز چاہیے، تاکہ ہم نے جس پر ذمے داری ڈالنی ہے، اس پر ڈالی جا سکے۔</p>
<p>بعد ازاں خواجہ آصف نے کل رات کے واقعہ پر ایوان کی تمام جماعتوں کا جو بھی رد عمل آنا ہے، وہ آجائے، ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں، آپ کی ہی قیادت میں موجود اسمبلی میں، ہم 3،4 مہینے پیچھلے دروازے سے آتے تھے، انہوں نے اس کے احاطے پر قبضہ کیے رکھا، وہ ان کو یاد نہیں ہےؕ</p>
<p>اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بطور کسٹوڈین جو بات آپ نے کی، اس سے صائب رائے نہیں ہوسکتی، ہمیں اپنے جذبات پر قابو رکھنا ہے، زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو، اگر آپ زہر بوئیں گے تو پھول نکلیں گے لیکن ہوں گے زہریلے، میٹھا بویا کریں، میٹھا بوئیں گے تو میٹھا، تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر نے بہت اچھی بات کی، یہ اس ایوان کے تقدس کا مسئلہ ہے، ہم سب اسپیکر کے چیمبر میں آجاتے ہیں، لیکن اس کے بنیادی اسباب کو بھی دیکھنا چاہیے، اگر کمرے میں ہاتھی ہے تو اس کو کہیں، اس طرح کے نظریات رکھ کر، اس طرح کی گفتگو کرکے یہ توقع رکھنا کہ رد عمل نہیں آئے گا، یہ نہیں ہوگا، قانون و آئین کی پاسداری ہونی چاہیے۔</p>
<p>وزیر قانون نے کہا کہ یقین دلاتا ہوں کہ جہاں ہماری غلطی ہوئی، اس کو مانیں گے، اس کی درستگی بھی کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1241937</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Sep 2024 15:54:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/09/101508074811db3.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/09/101508074811db3.png"/>
        <media:title>
فائل فوٹو: ایکس

</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/09/101530416f09e36.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/09/101530416f09e36.jpg"/>
        <media:title>فوٹو:ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
