<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 03:00:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 03:00:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرکٹ ورلڈکپ 2023 سے بھارت کو بڑا معاشی فائدہ، پاکستان منصفانہ شیئر سے محروم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1242069/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال ہونے والے 50 اوورز کے  ورلڈکپ میں بھارتی معیشت کو ایک ارب 39 کروڑ ڈالر کا زبردست فائدہ پہنچا، تاہم احمد آباد میں روایتی حریف پاک-بھارت کے درمیان ہونے والے تاریخی میچ سے حاصل ہونے والے مالی فائدے کی تفصیلات  فراہم نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1858423/india-gets-huge-economic-boost-from-2023-world-cup-pakistan-denied-fair-share"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں آئی سی سی کی پریس ریلیز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نئی اقتصادی رپورٹ میں ’2023 کے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ‘ نے بھارت کو مجموعی طور پر 1.39 ارب ڈالر ( 11 ہزار 637 کروڑ بھارتی روپے) کامعاشی فائدہ پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حقیقت ہے کہ ورلڈ کپ میں آئی سی سی کی کمائی کا اصل ذریعہ پاکستان اور بھارت کے بڑے میچوں سے آتا ہے لیکن اس کے بدلے میں بھارت  کو آئی سی سی کی آمدنی میں سے 38.5 فیصد کے حساب سے آمدنی ملتی ہے جبکہ پاکستان کا حصہ اس میں صرف 5.75 فیصد تک محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ آئی سی سی کو زیادہ تر آمدنی کا حصہ نشریاتی معاہدوں، گیٹ منی (میچ کی ٹکٹوں کی فروخت سے آنے والی رقم) اور ٹائٹل اسپانسرشپ اور دیگر وسائل سے حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال مبینہ طور پر بھارتی نشریاتی چینل نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈکپ میچوں کی خصوصی کوریج کے لیے 2023 سے 2027 تک کے لیے 3 ارب ڈالر کی خطیر رقم کے عوض نشریاتی حقوق حاصل کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241457"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بھارت کو آئی سی سی کی کل آمدنی 60 کروڑ ڈالر میں سے ہر سال 23 کروڑ ڈالر ملتے ہیں جبکہ دیگر اہم ممالک میں انگلینڈ کو 4 کروڑ 13 لاکھ ڈالر، آسٹریلیا کو 3 کروڑ 75 لاکھ ڈالر اور پاکستان کو 3 کروڑ 45 لاکھ ڈالر کی رقم ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کا  آئی سی سی کی مجموعی آمدن میں نمایاں حصہ ہے کیونکہ کھیل کی گورننگ باڈی کو بھارت کی اسپانسر شپ سے زیادہ حصہ ملتا ہے، لیکن پاک-بھارت میچز بھی آئی سی سی کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، اس لیے پاکستان کو کم از کم انگلینڈ اور آسٹریلیا سے زیادہ حصہ ملنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی اہم رکن ممالک آسٹریلیا اور انگلینڈ کے ساتھ دو طرفہ سیریز  دونوں ممالک کے بورڈز کو مالیاتی فائدہ پہنچاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 20 سالوں میں پاک-بھارت میچوں سے  حاصل ہونے والی کل آمدنی تقریباً 10 ہزار کروڑ بھارتی روپے (1.3 ارب ڈالر) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ کا انعقاد گزشتہ سال بھارت میں 5 اکتوبر سے 19 نومبر تک 10 شہروں احمد آباد ، بنگلورو، چنئی، دہلی، دھرم شالہ، حیدرآباد، کولکتہ، لکھنؤ، ممبئی اور پونے میں کیا گیا تھا، جس نے ملک کےمختلف شعبوں اور بھارت کی معیشت  کی ترقی کو فروغ دینے  میں اہم کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں آئی سی سی اور بورڈ فار کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی)  دونوں کی جانب سے ایونٹ کے انعقاد میں براہ راست سرمایہ کاری اور ریاستی کرکٹ ایسوسی ایشنز کے ذریعے اسٹیڈیم اپ گریڈ کرنے کے منصوبوں کی وجہ سے مختلف شعبوں میں  بھارتی کاروباروں کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال ہونے والے 50 اوورز کے  ورلڈکپ میں بھارتی معیشت کو ایک ارب 39 کروڑ ڈالر کا زبردست فائدہ پہنچا، تاہم احمد آباد میں روایتی حریف پاک-بھارت کے درمیان ہونے والے تاریخی میچ سے حاصل ہونے والے مالی فائدے کی تفصیلات  فراہم نہیں کی گئی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1858423/india-gets-huge-economic-boost-from-2023-world-cup-pakistan-denied-fair-share">رپورٹ</a></strong> میں آئی سی سی کی پریس ریلیز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نئی اقتصادی رپورٹ میں ’2023 کے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ‘ نے بھارت کو مجموعی طور پر 1.39 ارب ڈالر ( 11 ہزار 637 کروڑ بھارتی روپے) کامعاشی فائدہ پہنچایا ہے۔</p>
<p>یہ حقیقت ہے کہ ورلڈ کپ میں آئی سی سی کی کمائی کا اصل ذریعہ پاکستان اور بھارت کے بڑے میچوں سے آتا ہے لیکن اس کے بدلے میں بھارت  کو آئی سی سی کی آمدنی میں سے 38.5 فیصد کے حساب سے آمدنی ملتی ہے جبکہ پاکستان کا حصہ اس میں صرف 5.75 فیصد تک محدود ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ آئی سی سی کو زیادہ تر آمدنی کا حصہ نشریاتی معاہدوں، گیٹ منی (میچ کی ٹکٹوں کی فروخت سے آنے والی رقم) اور ٹائٹل اسپانسرشپ اور دیگر وسائل سے حاصل ہوتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال مبینہ طور پر بھارتی نشریاتی چینل نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈکپ میچوں کی خصوصی کوریج کے لیے 2023 سے 2027 تک کے لیے 3 ارب ڈالر کی خطیر رقم کے عوض نشریاتی حقوق حاصل کیے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241457"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق بھارت کو آئی سی سی کی کل آمدنی 60 کروڑ ڈالر میں سے ہر سال 23 کروڑ ڈالر ملتے ہیں جبکہ دیگر اہم ممالک میں انگلینڈ کو 4 کروڑ 13 لاکھ ڈالر، آسٹریلیا کو 3 کروڑ 75 لاکھ ڈالر اور پاکستان کو 3 کروڑ 45 لاکھ ڈالر کی رقم ملتی ہے۔</p>
<p>بھارت کا  آئی سی سی کی مجموعی آمدن میں نمایاں حصہ ہے کیونکہ کھیل کی گورننگ باڈی کو بھارت کی اسپانسر شپ سے زیادہ حصہ ملتا ہے، لیکن پاک-بھارت میچز بھی آئی سی سی کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، اس لیے پاکستان کو کم از کم انگلینڈ اور آسٹریلیا سے زیادہ حصہ ملنا چاہیے۔</p>
<p>بھارت کی اہم رکن ممالک آسٹریلیا اور انگلینڈ کے ساتھ دو طرفہ سیریز  دونوں ممالک کے بورڈز کو مالیاتی فائدہ پہنچاتی ہے۔</p>
<p>بھارتی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 20 سالوں میں پاک-بھارت میچوں سے  حاصل ہونے والی کل آمدنی تقریباً 10 ہزار کروڑ بھارتی روپے (1.3 ارب ڈالر) ہے۔</p>
<p>ورلڈ کپ کا انعقاد گزشتہ سال بھارت میں 5 اکتوبر سے 19 نومبر تک 10 شہروں احمد آباد ، بنگلورو، چنئی، دہلی، دھرم شالہ، حیدرآباد، کولکتہ، لکھنؤ، ممبئی اور پونے میں کیا گیا تھا، جس نے ملک کےمختلف شعبوں اور بھارت کی معیشت  کی ترقی کو فروغ دینے  میں اہم کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>مزید برآں آئی سی سی اور بورڈ فار کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی)  دونوں کی جانب سے ایونٹ کے انعقاد میں براہ راست سرمایہ کاری اور ریاستی کرکٹ ایسوسی ایشنز کے ذریعے اسٹیڈیم اپ گریڈ کرنے کے منصوبوں کی وجہ سے مختلف شعبوں میں  بھارتی کاروباروں کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1242069</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Sep 2024 13:53:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/09/1212175652849e2.jpg?r=121931" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/09/1212175652849e2.jpg?r=121931"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
