<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 12:13:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 29 Apr 2026 12:13:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’ایکس‘ کی بندش سے متعلق نوٹی فکیشن واپس نہیں لیا گیا ہے، پی ٹی اے کی وضاحت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1242233/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ایکس‘ کی بندش کے نوٹی فکیشن پر واضح کردیا ہے کہ وزارت داخلہ نے بندش سے متعلق نوٹی فکیشن واپس نہیں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق پی ٹی اے کی جانب سے وکیل علی فیصل نے سندھ ہائی کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کردی جس میں عدالت سے حکم نامہ واپس لینے یا ترمیم کی استدعا کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی ڈائریکٹر لا پی ٹی اے علی اکبر سہتو اور وکیل احسن امام نے حلف نامے جمع کروا دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی ڈائریکٹر لا پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ نے بندش سے متعلق نوٹی فکیشن واپس نہیں لیا ہے، ایکس کی بندش سے متعلق نوٹی فکیشن تاحال موجود ہے جبکہ وزارت داخلہ کے نوٹی فکیشن کی واپسی کا بیان غلط فہمی کی بنیاد پر جاری ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے اسی بینچ کے روبرو ایک اور کیس بھی زیر سماعت ہے، مذکورہ کیس میں اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کا نوٹی فکیشن واپس لیا گیا ہے، غلطی سے دونوں کیسز مل گئے اور غلطی سے اس کیس میں ’ایکس‘ کی بندش سے متعلق نوٹی فکیشن واپس لینے کا بیان جاری ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے حلف نامے میں علی اکبر سہتو  کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے کے کئی مقدمات روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے لیے مقرر ہوتے ہیں، مقدمات کے دباؤ کے باعث غیر ارادی طور پر غلطی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کی جانب سے درخواست کی فوری سماعت کی استدعا بھی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 12 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ میں ’ایکس‘ کی بندش کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے وکلا بندش کے حوالے سے تذبذب کا شکار نظر آئے تھے، جہاں ایک وکیل نے بندش کا نوٹی فکیشن واپس لینے کی تصدیق کی تو دوسرے نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ رواں برس 17 فروری کو وزارت داخلہ نے ایکس پر پابندی عائد کی تھی جس کے بعد اس بندش کے خلاف مقامی صحافی احتشام عباسی نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد بار اس کی سروس کو جزوی طور پر بحال کیا گیا لیکن مکمل طور پر اسے آپریشنل نہ کیا جا سکا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ایکس‘ کی بندش کے نوٹی فکیشن پر واضح کردیا ہے کہ وزارت داخلہ نے بندش سے متعلق نوٹی فکیشن واپس نہیں لیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق پی ٹی اے کی جانب سے وکیل علی فیصل نے سندھ ہائی کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کردی جس میں عدالت سے حکم نامہ واپس لینے یا ترمیم کی استدعا کی گئی ہے۔</p>
<p>ڈپٹی ڈائریکٹر لا پی ٹی اے علی اکبر سہتو اور وکیل احسن امام نے حلف نامے جمع کروا دیے۔</p>
<p>ڈپٹی ڈائریکٹر لا پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ نے بندش سے متعلق نوٹی فکیشن واپس نہیں لیا ہے، ایکس کی بندش سے متعلق نوٹی فکیشن تاحال موجود ہے جبکہ وزارت داخلہ کے نوٹی فکیشن کی واپسی کا بیان غلط فہمی کی بنیاد پر جاری ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے اسی بینچ کے روبرو ایک اور کیس بھی زیر سماعت ہے، مذکورہ کیس میں اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کا نوٹی فکیشن واپس لیا گیا ہے، غلطی سے دونوں کیسز مل گئے اور غلطی سے اس کیس میں ’ایکس‘ کی بندش سے متعلق نوٹی فکیشن واپس لینے کا بیان جاری ہوا۔</p>
<p>اپنے حلف نامے میں علی اکبر سہتو  کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے کے کئی مقدمات روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے لیے مقرر ہوتے ہیں، مقدمات کے دباؤ کے باعث غیر ارادی طور پر غلطی ہوئی۔</p>
<p>پی ٹی اے کی جانب سے درخواست کی فوری سماعت کی استدعا بھی کی گئی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ 12 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ میں ’ایکس‘ کی بندش کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے وکلا بندش کے حوالے سے تذبذب کا شکار نظر آئے تھے، جہاں ایک وکیل نے بندش کا نوٹی فکیشن واپس لینے کی تصدیق کی تو دوسرے نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ رواں برس 17 فروری کو وزارت داخلہ نے ایکس پر پابندی عائد کی تھی جس کے بعد اس بندش کے خلاف مقامی صحافی احتشام عباسی نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔</p>
<p>گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد بار اس کی سروس کو جزوی طور پر بحال کیا گیا لیکن مکمل طور پر اسے آپریشنل نہ کیا جا سکا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1242233</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Sep 2024 20:14:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/09/14201231ba0f4cd.jpg?r=201456" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/09/14201231ba0f4cd.jpg?r=201456"/>
        <media:title>پی ٹی اے کی جانب سے درخواست کی فوری سماعت کی استدعا بھی کی گئی ہے — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
