<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:51:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:51:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک پر مجوزہ پابندی کےخلاف امریکی عدالت میں سماعت کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1242402/</link>
      <description>&lt;p&gt;شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر امریکا میں ممکنہ پابندی کے خلاف ٹک ٹاک اور امریکی حکومت کے درمیان عدالتی جنگ کا آغاز ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/tiktok-justice-department-face-off-court-over-potential-us-ban-2024-09-16/"&gt;&lt;strong&gt;رائٹرز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ٹک ٹاک اور امریکی حکومت کے درمیان قانونی جنگ کی پہلی سماعت 16 ستمبر کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے ضلع کولمبیا کی ٹرائل کورٹ میں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیس کی پہلی سماعت دو گھنٹے تک جاری رہی، جس میں ٹک ٹاک کے وکیل سمیت امریکی حکومت کے وکیل نے بھی دلائل دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک کے وکیل Andrew Pincus نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک امریکی قومی سلامتی کے لیے کسی طرح بھی خطرہ نہیں بلکہ اس پر پابندی امریکا کے 17 کروڑ عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے، ایپ کے امریکا میں 17 کروڑ صارفین ہے اور معلومات تک رسائی ان کا حق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1234559"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک نے امریکی حکومت کو متعدد بار پیش کش بھی کی لیکن ہر بار حکومت ان کی پیش کش کو مسترد کردیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح امریکی حکومت کے وکیل Daniel Tenny نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک کا  الگورتھم کا کوڈ 2 ارب لائنوں پر مشتمل ہے جو پورے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم سے 40 گنا بڑا ہے اور اسے روزانہ ایک ہزار بار بدلا جاتا ہے، اس لیے ہمیں شک ہے کہ اس کے ذریعے جاسوسی کی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین کی خواہش ہے کہ عدالت دسمبر 2024 تک اپنا حتمی فیصلہ سنائے، کیوں کہ امریکی قانون کے تحت ٹک ٹاک 19 جنوری 2025 تک خود کو کسی امریکی کمپنی یا شخص کو فروخت کرنے کی پابند ہے، دوسری صورت میں اس پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف امریکا کے ایوان نمائندگان یعنی کانگریس نے 20 اپریل جب کہ سینیٹ نے 24 اپریل کو بل منظور کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ایوانوں سے بل کے منظور ہونے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے 25 اپریل کو بل پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد وہ قانون بن گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کے تحت ٹک ٹاک کو آئندہ 9 ماہ یعنی جنوری 2025 تک کسی امریکی شخص یا امریکی کمپنی کو فروخت کیا جانا لازمی ہوگا، دوسری صورت میں اس پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کے تحت امریکی صدر چاہیں تو ٹک ٹاک کو فروخت کرنے کی مدت میں 9 ماہ کے بعد مزید تین ماہ کا اضافہ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ڈٖونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت بھی عدالتوں نے پابندی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر امریکا میں ممکنہ پابندی کے خلاف ٹک ٹاک اور امریکی حکومت کے درمیان عدالتی جنگ کا آغاز ہوگیا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/tiktok-justice-department-face-off-court-over-potential-us-ban-2024-09-16/"><strong>رائٹرز</strong></a> کے مطابق ٹک ٹاک اور امریکی حکومت کے درمیان قانونی جنگ کی پہلی سماعت 16 ستمبر کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے ضلع کولمبیا کی ٹرائل کورٹ میں ہوا۔</p>
<p>کیس کی پہلی سماعت دو گھنٹے تک جاری رہی، جس میں ٹک ٹاک کے وکیل سمیت امریکی حکومت کے وکیل نے بھی دلائل دیے۔</p>
<p>ٹک ٹاک کے وکیل Andrew Pincus نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک امریکی قومی سلامتی کے لیے کسی طرح بھی خطرہ نہیں بلکہ اس پر پابندی امریکا کے 17 کروڑ عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے، ایپ کے امریکا میں 17 کروڑ صارفین ہے اور معلومات تک رسائی ان کا حق ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1234559"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک نے امریکی حکومت کو متعدد بار پیش کش بھی کی لیکن ہر بار حکومت ان کی پیش کش کو مسترد کردیتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح امریکی حکومت کے وکیل Daniel Tenny نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک کا  الگورتھم کا کوڈ 2 ارب لائنوں پر مشتمل ہے جو پورے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم سے 40 گنا بڑا ہے اور اسے روزانہ ایک ہزار بار بدلا جاتا ہے، اس لیے ہمیں شک ہے کہ اس کے ذریعے جاسوسی کی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>دونوں فریقین کی خواہش ہے کہ عدالت دسمبر 2024 تک اپنا حتمی فیصلہ سنائے، کیوں کہ امریکی قانون کے تحت ٹک ٹاک 19 جنوری 2025 تک خود کو کسی امریکی کمپنی یا شخص کو فروخت کرنے کی پابند ہے، دوسری صورت میں اس پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔</p>
<p>امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف امریکا کے ایوان نمائندگان یعنی کانگریس نے 20 اپریل جب کہ سینیٹ نے 24 اپریل کو بل منظور کیا تھا۔</p>
<p>دونوں ایوانوں سے بل کے منظور ہونے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے 25 اپریل کو بل پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد وہ قانون بن گیا تھا۔</p>
<p>قانون کے تحت ٹک ٹاک کو آئندہ 9 ماہ یعنی جنوری 2025 تک کسی امریکی شخص یا امریکی کمپنی کو فروخت کیا جانا لازمی ہوگا، دوسری صورت میں اس پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔</p>
<p>قانون کے تحت امریکی صدر چاہیں تو ٹک ٹاک کو فروخت کرنے کی مدت میں 9 ماہ کے بعد مزید تین ماہ کا اضافہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل ڈٖونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت بھی عدالتوں نے پابندی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1242402</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Sep 2024 22:53:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/09/17195616c2d61cb.jpg?r=195709" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/09/17195616c2d61cb.jpg?r=195709"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
