<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 12:00:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 12:00:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>26ویں آئینی ترمیم اکتوبر کے پہلے ہفتے میں منظوری کے لیے پیش کردی جائے گی، مشیر قانون</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1242721/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مسودہ منظوری کے لیے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں پارلیمنٹ میں پیش کردی جائے گی اور ملک کے موجودہ قانون کے تحت جسٹس منصور علی شاہ نئے چیف جسٹس ہوں گے کیونکہ وہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ آئینی ترمیم کسی خاص شخص کی وجہ سے نہیں کررہے نہ ہی یہ ہمارا آئیڈیا تھا، اپوزیشن کی جانب سے اس طرح کے الزامات لگتے ہیں لیکن کسی کو اس کی عمر کی وجہ سے اس سے عمل سے باہر کردیں تو ان کی جانب سے کسی شخص کو نشانہ بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں سب سے بڑی کامیابی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہے اور یہ دنیا کی پہلی پارلیمنٹ ہو گی جس نے ماحولیاتی تبدیلی کو آئینی حق دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242301"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم 26ویں آئینی ترمیم پر مارچ اپریل سے کام کررہے ہیں، وزیر اعظم خود اس آئینی اصلاحات کمیٹی کی سربراہی کرتے ہیں اور ہمارے اس سلسلے میں کئی اجلاس ہوئے جس میں وزیر قانون، وزیر اطلاعات اور ہمارے اتحادی بھی شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں مشیر قانون نے کہا کہ آئینی ترمیم کے حوالے سے ہمارا ہوم ورک مکمل نہ ہوتا تو ہم اجلاس کبھی بھی نہ بلاتے، مولانا صاحب کے ساتھ اصولی طور پر اتفاق ہوا تھا اور گفتگو چل رہی تھی، وزیر قانون نے دو دفعہ ان کو بریفنگ دی اور انہیں اہم نکات بتائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے دو چار نکات کے حوالے سے تحفظات تھے جو ہم نے دور کردیے ہیں، اس کے علاوہ عمر کے حوالے سے مشاورت جاری ہے اور اس پر حتمی فیصلہ قانون برادری اور دیگر سے مشاورت کے بعد ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے دو تین شقوں پر اتفاق نہ ہونے کے بعد مزید وقت مانگا اور یہ بہتر ہوا کیونکہ تمام تر اسٹیک ہولڈرز اس پر وسیع تر مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے، ایک ہفتے میں قانونی برادری کی بھی گزارشات آ جائیں گی اور اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے کے بعد اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اسے پیش کردیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر ترامیم آپ کو زیادہ لگ رہی ہیں لیکن اتنی ہیں نہیں، پہلے دن سے اس میں تین چار چیزیں زیر بحث تھیں، ہماری کوشش ہے کہ مولانا کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کریں، وہ اپنا مسودہ تیار کررہے ہیں، بلاول اپنا مسودہ تیار کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ جب قانون برادری اور تمام فریقین کی باتیں سامنے آجائیں گی تو تینوں چاروں مسودے ساتھ رکھیں گے، جن چیزوں پر اتفاق رائے ہو گیا ہے ان کو لے آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں مشیر قانون نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 375(اے) کی ذیلی شق نمبر کے تحت وہ سینئر ترین جج ہیں اور وہ ہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے اور اس وقت تو قانون یہی کہتا ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میڈیا کی طرف سے زیادہ دباؤ آ رہا ہے کہ نئے چیف جسٹس کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہونا چاہیے، 25 اکتوبر کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریٹائر ہونا ہے اور جب وہ ریٹائر ہوں گے تو نئے چیف جسٹس کا نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مسودہ منظوری کے لیے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں پارلیمنٹ میں پیش کردی جائے گی اور ملک کے موجودہ قانون کے تحت جسٹس منصور علی شاہ نئے چیف جسٹس ہوں گے کیونکہ وہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں۔</p>
<p>ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ آئینی ترمیم کسی خاص شخص کی وجہ سے نہیں کررہے نہ ہی یہ ہمارا آئیڈیا تھا، اپوزیشن کی جانب سے اس طرح کے الزامات لگتے ہیں لیکن کسی کو اس کی عمر کی وجہ سے اس سے عمل سے باہر کردیں تو ان کی جانب سے کسی شخص کو نشانہ بنایا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں سب سے بڑی کامیابی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہے اور یہ دنیا کی پہلی پارلیمنٹ ہو گی جس نے ماحولیاتی تبدیلی کو آئینی حق دے دیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242301"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم 26ویں آئینی ترمیم پر مارچ اپریل سے کام کررہے ہیں، وزیر اعظم خود اس آئینی اصلاحات کمیٹی کی سربراہی کرتے ہیں اور ہمارے اس سلسلے میں کئی اجلاس ہوئے جس میں وزیر قانون، وزیر اطلاعات اور ہمارے اتحادی بھی شریک ہوئے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں مشیر قانون نے کہا کہ آئینی ترمیم کے حوالے سے ہمارا ہوم ورک مکمل نہ ہوتا تو ہم اجلاس کبھی بھی نہ بلاتے، مولانا صاحب کے ساتھ اصولی طور پر اتفاق ہوا تھا اور گفتگو چل رہی تھی، وزیر قانون نے دو دفعہ ان کو بریفنگ دی اور انہیں اہم نکات بتائے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے دو چار نکات کے حوالے سے تحفظات تھے جو ہم نے دور کردیے ہیں، اس کے علاوہ عمر کے حوالے سے مشاورت جاری ہے اور اس پر حتمی فیصلہ قانون برادری اور دیگر سے مشاورت کے بعد ہو گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے دو تین شقوں پر اتفاق نہ ہونے کے بعد مزید وقت مانگا اور یہ بہتر ہوا کیونکہ تمام تر اسٹیک ہولڈرز اس پر وسیع تر مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے، ایک ہفتے میں قانونی برادری کی بھی گزارشات آ جائیں گی اور اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے کے بعد اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اسے پیش کردیں گے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر ترامیم آپ کو زیادہ لگ رہی ہیں لیکن اتنی ہیں نہیں، پہلے دن سے اس میں تین چار چیزیں زیر بحث تھیں، ہماری کوشش ہے کہ مولانا کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کریں، وہ اپنا مسودہ تیار کررہے ہیں، بلاول اپنا مسودہ تیار کررہے ہیں۔</p>
<p>بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ جب قانون برادری اور تمام فریقین کی باتیں سامنے آجائیں گی تو تینوں چاروں مسودے ساتھ رکھیں گے، جن چیزوں پر اتفاق رائے ہو گیا ہے ان کو لے آئیں گے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں مشیر قانون نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 375(اے) کی ذیلی شق نمبر کے تحت وہ سینئر ترین جج ہیں اور وہ ہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے اور اس وقت تو قانون یہی کہتا ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میڈیا کی طرف سے زیادہ دباؤ آ رہا ہے کہ نئے چیف جسٹس کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہونا چاہیے، 25 اکتوبر کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریٹائر ہونا ہے اور جب وہ ریٹائر ہوں گے تو نئے چیف جسٹس کا نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1242721</guid>
      <pubDate>Sun, 22 Sep 2024 22:49:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/09/2222464744f0a05.png?r=224713" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/09/2222464744f0a05.png?r=224713"/>
        <media:title>وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
