<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:24:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:24:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد: 2 بچوں سے زیادتی کے الزام میں سب انسپکٹر گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1242817/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد میں 2 بچوں کو غیر قانونی طور پر 2 دن حراست میں رکھنے اور زیادتی کے الزام میں ایک سب انسپکٹر کو معطل اورگرفتار کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1860687/islamabad-sub-inspector-arrested-for-abusing-two-minor-children"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سب انسپکٹر کے خلاف کارروائی بچوں کے اہلخانہ کی طرف سے انسپکٹر جنرل آف پولیس ( آئی جی) سید علی ناصر رضوی کے پاس درج کرائی گئی شکایت پر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق شکایت میں مؤقف اپنایا گیاکہ پولیس اہلکار نے دونوں بچوں کو اٹھا کر تھانے میں بند کرنے کے علاوہ ان پر جسمانی تشدد کیا، بعد ازاں انہیں ایدھی سینٹر چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی پولیس نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل  (ڈی آئی جی) سید علی رضا کو واقعہ کی تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کا حکم دیا،  تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہو گیا کہ سب انسپکٹر نے دونوں کمسن بچوں کو 16 ستمبر کو کراچی کمپنی میں بھیک مانگتے ہوئے اٹھایا تھا، جن کی عمریں 10 اور 12 سال ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242199"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق بعد میں سب انسپکٹر بچوں کو شمس کالونی کے پولیس اسٹیشن لے گیا، جہاں وہ تعینات تھا اور وہاں اس نے مبینہ طور پر بچوں کو دو دن تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا، 18 ستمبر کو وہ بچوں کو ایدھی سینٹر لے گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکایت کنندگان نے پولیس اہلکار پر بچوں کی غیر قانونی حراست کے دوران انہیں زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام بھی لگایا، ان الزامات پر بچوں کا طبی معائنہ کرایا گیا جس میں اس بات کی تصدیق ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب انسپکٹر پر الزامات ثابت ہونے کے بعد ڈی آئی جی سید علی رضا نے انہیں معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رابطہ کرنے پر ڈی آئی جی نے ڈان کو بتایا کہ سب انسپکٹر زیر حراست ہے اور آئی جی پولیس کی ہدایت پر ان کو ملازمت سے برطرف کرنے کے لیے محکمانہ کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی پولیس سید علی رضا کا کہنا تھا کہ وفاقی پولیس قانون کے نفاذ کے لیے سخت اقدامات کو یقینی بنائے گی اور کسی بھی غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمی میں ملوث  افسر یا اہلکار کو جوابدہ بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پولیس افسران اور اہلکار قانون سے بالاتر نہیں ہیں اور ان میں سے کسی نے بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تو اسے سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد میں 2 بچوں کو غیر قانونی طور پر 2 دن حراست میں رکھنے اور زیادتی کے الزام میں ایک سب انسپکٹر کو معطل اورگرفتار کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1860687/islamabad-sub-inspector-arrested-for-abusing-two-minor-children"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق سب انسپکٹر کے خلاف کارروائی بچوں کے اہلخانہ کی طرف سے انسپکٹر جنرل آف پولیس ( آئی جی) سید علی ناصر رضوی کے پاس درج کرائی گئی شکایت پر کی گئی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق شکایت میں مؤقف اپنایا گیاکہ پولیس اہلکار نے دونوں بچوں کو اٹھا کر تھانے میں بند کرنے کے علاوہ ان پر جسمانی تشدد کیا، بعد ازاں انہیں ایدھی سینٹر چھوڑ دیا۔</p>
<p>آئی جی پولیس نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل  (ڈی آئی جی) سید علی رضا کو واقعہ کی تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کا حکم دیا،  تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہو گیا کہ سب انسپکٹر نے دونوں کمسن بچوں کو 16 ستمبر کو کراچی کمپنی میں بھیک مانگتے ہوئے اٹھایا تھا، جن کی عمریں 10 اور 12 سال ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242199"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پولیس کے مطابق بعد میں سب انسپکٹر بچوں کو شمس کالونی کے پولیس اسٹیشن لے گیا، جہاں وہ تعینات تھا اور وہاں اس نے مبینہ طور پر بچوں کو دو دن تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا، 18 ستمبر کو وہ بچوں کو ایدھی سینٹر لے گیا۔</p>
<p>شکایت کنندگان نے پولیس اہلکار پر بچوں کی غیر قانونی حراست کے دوران انہیں زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام بھی لگایا، ان الزامات پر بچوں کا طبی معائنہ کرایا گیا جس میں اس بات کی تصدیق ہوئی۔</p>
<p>سب انسپکٹر پر الزامات ثابت ہونے کے بعد ڈی آئی جی سید علی رضا نے انہیں معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>رابطہ کرنے پر ڈی آئی جی نے ڈان کو بتایا کہ سب انسپکٹر زیر حراست ہے اور آئی جی پولیس کی ہدایت پر ان کو ملازمت سے برطرف کرنے کے لیے محکمانہ کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈی آئی جی پولیس سید علی رضا کا کہنا تھا کہ وفاقی پولیس قانون کے نفاذ کے لیے سخت اقدامات کو یقینی بنائے گی اور کسی بھی غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمی میں ملوث  افسر یا اہلکار کو جوابدہ بنایا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پولیس افسران اور اہلکار قانون سے بالاتر نہیں ہیں اور ان میں سے کسی نے بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تو اسے سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1242817</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Sep 2024 12:11:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (منور عظیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/09/24114249755eab3.jpg?r=114300" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/09/24114249755eab3.jpg?r=114300"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
