<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:27:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:27:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 2 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط موصول</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1243094/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض کی پہلی قسط پاکستان کو موصول ہوگئی ہے اور اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 2 کروڑ 69 لاکھ ڈالر وصول ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے7 ارب ڈالر پر مشتمل 37 ماہ کی توسیعی فنڈ سہولت کی منظوری کے بعد آج آئی ایم ایف سے ایک ارب 2 کروڑ 69 لاکھ ڈالرکی پہلی قسط موصول ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ رقم اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں جمع کی جائے گی جو 3 اکتوبر 2024 بروز جمعرات جاری کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242943"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ دو روز قبل آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دے دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جورجیوا کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا تھا جس میں پاکستان کا ایجنڈا سر فہرست تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کا قرض پروگرام 37 ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا، پاکستان کو فوری طور پر ایک ارب ڈالرز کی قسط جاری کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے جولائی میں اس معاہدے پر اتفاق کیا تھا، پاکستان گزشتہ سال ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گیا تھا کیونکہ 2022 کے مون سون کے تباہ کن سیلابوں اور کئی دہائیوں کی بدانتظامی کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی بدحالی کے بعد سیاسی افراتفری کے درمیان معیشت سکڑ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حکومت دوست ممالک کے قرضوں کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کے ریسکیو پیکج کی وجہ سے بچ گئی تھی لیکن اس کی مالیات بدستور بدحالی کا شکار ہے، جس میں مہنگائی میں اضافہ اور عوامی قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242979"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شریف نے قرض معاہدے پر اتفاق ہونے کے بعد کہا تھا کہ اس پروگرام کو آخری پروگرام سمجھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ نے نئے قرض معاہدے کے لیے آئی ایم ایف حکام سے مہینوں تک مذاکرات کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ ان اصلاحات کی شرط پر ہوا ہے جس میں مستقل طور پر بحران کا شکار توانائی کے شعبے کے تدارک کے لیے گھریلو بلوں میں اضافہ اور ٹیکسوں کو بڑھانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض کی پہلی قسط پاکستان کو موصول ہوگئی ہے اور اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 2 کروڑ 69 لاکھ ڈالر وصول ہوگئے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے7 ارب ڈالر پر مشتمل 37 ماہ کی توسیعی فنڈ سہولت کی منظوری کے بعد آج آئی ایم ایف سے ایک ارب 2 کروڑ 69 لاکھ ڈالرکی پہلی قسط موصول ہوگئی ہے۔</p>
<p>اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ رقم اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں جمع کی جائے گی جو 3 اکتوبر 2024 بروز جمعرات جاری کی جائیں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242943"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ دو روز قبل آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دے دی تھی۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جورجیوا کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا تھا جس میں پاکستان کا ایجنڈا سر فہرست تھا۔</p>
<p>آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کا قرض پروگرام 37 ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا، پاکستان کو فوری طور پر ایک ارب ڈالرز کی قسط جاری کی جائے گی۔</p>
<p>حکومت نے جولائی میں اس معاہدے پر اتفاق کیا تھا، پاکستان گزشتہ سال ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گیا تھا کیونکہ 2022 کے مون سون کے تباہ کن سیلابوں اور کئی دہائیوں کی بدانتظامی کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی بدحالی کے بعد سیاسی افراتفری کے درمیان معیشت سکڑ گئی تھی۔</p>
<p>تاہم حکومت دوست ممالک کے قرضوں کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کے ریسکیو پیکج کی وجہ سے بچ گئی تھی لیکن اس کی مالیات بدستور بدحالی کا شکار ہے، جس میں مہنگائی میں اضافہ اور عوامی قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242979"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیر اعظم شریف نے قرض معاہدے پر اتفاق ہونے کے بعد کہا تھا کہ اس پروگرام کو آخری پروگرام سمجھا جانا چاہیے۔</p>
<p>وزارت خزانہ نے نئے قرض معاہدے کے لیے آئی ایم ایف حکام سے مہینوں تک مذاکرات کیے۔</p>
<p>یہ معاہدہ ان اصلاحات کی شرط پر ہوا ہے جس میں مستقل طور پر بحران کا شکار توانائی کے شعبے کے تدارک کے لیے گھریلو بلوں میں اضافہ اور ٹیکسوں کو بڑھانا شامل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1243094</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Sep 2024 19:38:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/09/2719383759f1681.jpg?r=193857" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/09/2719383759f1681.jpg?r=193857"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
