<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Karachi</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 09:52:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 09:52:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کارساز حادثہ کیس: ملزمہ نتاشہ کی منشیات کے مقدمے میں بھی ضمانت منظور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1243224/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ  نے کارساز حادثے کی ملزمہ نتاشہ کی منشیات کے مقدمے میں 10 لاکھ روپے کے عوض ضمانت منظور کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کریم خان آغا نے کیس کی سماعت کی، ملزمہ کی جانب سے فاروق ایچ نائیک ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت ملزمہ کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ ہماری ایک فرسٹ انفارمیشن رپورٹ  (ایف آئی آر) میں درخواست ضمانت منظور کی جاچکی ہے، اس کیس کی مرکزی ایف آئی آر میں فریقین کے درمیان صلح ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت میں سرکاری وکیل نے مؤقف اپنایا کہ جب نتاشہ گاڑی چلا رہی تھی وہ اس وقت نشے کی حالت میں تھی، جس پر ملزمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل رپورٹ میں بھی ابہام ہے کیونکہ خون میں میتھا فیٹا مائن موجود نہیں لیکن یورین میں موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ یورین میں میتھا فیٹا مائن کی کتنی مقدار موجود تھی؟ جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ اس کی مقدار کے حوالے سے میڈیکل رپورٹ میں ذکر نہیں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242760"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت فاروق ایچ نائیک ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ نتاشہ کا سائیکیٹرسٹ سے برسوں سے علاج بھی جاری ہے، ایسا بھی ممکن ہے کوئی ایسی دوا دی گئی ہو جس کا ذکر میڈیکل رپورٹ میں آیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس کریم خان آغا  نے ریمارکس دیے کہ یہ  بھی ایک بڑی بات ہے کہ اس کیس کے متاثرین کی جانب سے ملزمہ کے ساتھ صلح کرلی گئی ہے، ملزمہ تین بچوں کی والدہ ہے اور پچھلے ڈیڑھ ماہ سے جیل میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، عدالت نے ملزمہ کو ضمانت کے عوض 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ  پولیس کی جانب سے ملزمہ کے خلاف امتناع منشیات کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمہ کے وکلا کی جانب سے ٹرائل کورٹ کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی گئی تھی، ملزمہ کو کارساز حادثہ کیس میں پہلے ہی ضمانت دی جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1242387"&gt;17 ستمبر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو سندھ ہائی کورٹ نے کارساز حادثہ کی مرکزی ملزمہ نتاشہ کی منشیات کیس میں درخواست ضمانت پر استغاثہ کو نوٹس جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ ابتدائی طور پر ملزمہ کو کراچی میں کارساز روڈ پر ڈرائیونگ کے دوران غفلت برتنے اور 60 سالہ عمران عارف اور ان کی 22 سالہ بیٹی آمنہ کو ہلاک کرنے اور 3 افراد کو زخمی کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ان کے خلاف 1979 کے (حد آرڈیننس) کی دفعہ 11 کے تحت ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;6 ستمبر کو سیشن کورٹ نے انہیں متوفی کے ورثا کے ’معاف‘ کرنے کے بعد ٹریفک حادثے کے مقدمے میں ضمانت دی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ ہائی کورٹ  نے کارساز حادثے کی ملزمہ نتاشہ کی منشیات کے مقدمے میں 10 لاکھ روپے کے عوض ضمانت منظور کرلی۔</p>
<p>سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کریم خان آغا نے کیس کی سماعت کی، ملزمہ کی جانب سے فاروق ایچ نائیک ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔</p>
<p>دوران سماعت ملزمہ کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ ہماری ایک فرسٹ انفارمیشن رپورٹ  (ایف آئی آر) میں درخواست ضمانت منظور کی جاچکی ہے، اس کیس کی مرکزی ایف آئی آر میں فریقین کے درمیان صلح ہوگئی ہے۔</p>
<p>عدالت میں سرکاری وکیل نے مؤقف اپنایا کہ جب نتاشہ گاڑی چلا رہی تھی وہ اس وقت نشے کی حالت میں تھی، جس پر ملزمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل رپورٹ میں بھی ابہام ہے کیونکہ خون میں میتھا فیٹا مائن موجود نہیں لیکن یورین میں موجود تھا۔</p>
<p>عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ یورین میں میتھا فیٹا مائن کی کتنی مقدار موجود تھی؟ جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ اس کی مقدار کے حوالے سے میڈیکل رپورٹ میں ذکر نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242760"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوران سماعت فاروق ایچ نائیک ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ نتاشہ کا سائیکیٹرسٹ سے برسوں سے علاج بھی جاری ہے، ایسا بھی ممکن ہے کوئی ایسی دوا دی گئی ہو جس کا ذکر میڈیکل رپورٹ میں آیا ہو۔</p>
<p>جسٹس کریم خان آغا  نے ریمارکس دیے کہ یہ  بھی ایک بڑی بات ہے کہ اس کیس کے متاثرین کی جانب سے ملزمہ کے ساتھ صلح کرلی گئی ہے، ملزمہ تین بچوں کی والدہ ہے اور پچھلے ڈیڑھ ماہ سے جیل میں ہے۔</p>
<p>بعد ازاں، عدالت نے ملزمہ کو ضمانت کے عوض 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>خیال رہے کہ  پولیس کی جانب سے ملزمہ کے خلاف امتناع منشیات کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔</p>
<p>ملزمہ کے وکلا کی جانب سے ٹرائل کورٹ کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی گئی تھی، ملزمہ کو کارساز حادثہ کیس میں پہلے ہی ضمانت دی جاچکی ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1242387">17 ستمبر</a></strong> کو سندھ ہائی کورٹ نے کارساز حادثہ کی مرکزی ملزمہ نتاشہ کی منشیات کیس میں درخواست ضمانت پر استغاثہ کو نوٹس جاری کیا تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ ابتدائی طور پر ملزمہ کو کراچی میں کارساز روڈ پر ڈرائیونگ کے دوران غفلت برتنے اور 60 سالہ عمران عارف اور ان کی 22 سالہ بیٹی آمنہ کو ہلاک کرنے اور 3 افراد کو زخمی کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں ان کے خلاف 1979 کے (حد آرڈیننس) کی دفعہ 11 کے تحت ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔</p>
<p>6 ستمبر کو سیشن کورٹ نے انہیں متوفی کے ورثا کے ’معاف‘ کرنے کے بعد ٹریفک حادثے کے مقدمے میں ضمانت دی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1243224</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Sep 2024 12:18:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکشفیع بلوچ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/09/30111609c15202c.jpg?r=120011" type="image/jpeg" medium="image" height="403" width="672">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/09/30111609c15202c.jpg?r=120011"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
