<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 02:49:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 07 Jun 2026 02:49:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اینڈرائیڈ صارفین کے لیے جی میل پر اے آئی ریپلائی کا فیچر پیش</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1243409/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے جی میل پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ریپلائی کا فیچر پیش کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی میل کے از خود اے آئی فیچر کو ابتدائی طور پر اینڈرائیڈ صارفین کے لیے پیش کیا گیا ہے، یعنی جو افراد موبائل فون پر جی میل کا استعمال کرتے ہیں، وہ مذکورہ فیچر کو استعمال کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ فیچر کے تحت اینڈرائیڈ صارفین جیسے ہی کسی بھی ای میل کو پڑھنے کے بعد اس کا ریپلائی دینا چاہیں گے تو اے آئی فیچر ازخود ایک جواب لکھ کر تجویز دے گا کہ ان کے لیے لکھے گئے جواب کو بھیجا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202162"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ فیچر کے تحت صارف کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو ملنے والی ای میل کا مختصر جواب دے یا پھر وہ چاہے تو طویل جواب کے آپشن کو منتخب کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیچر کے تحت کسی بھی ای میل کو پڑھنے کے بعد اگر صارف اس ای میل کا جواب دے گا تو جی میل کا سسٹم ازخود لکھے ہوئے ریپلائی کو بھیجنے کی تجویز دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی میل کا مذکورہ اے آئی فیچر موصول ہونے والی ای میل کو پڑھ کر اسی سے متعلق جواب دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ فیچر تک تمام ایںڈرائیڈ صارفین کو رسائی نہیں دی گئی، تاہم ترتیب وار اس پر سب کو رسائی دی جائے گی اور ممکنہ طور پر اسے ڈیسک ٹاپ صارفین سمیت آئی او ایس صارفین کے لیے بھی پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے جی میل پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ریپلائی کا فیچر پیش کردیا۔</p>
<p>جی میل کے از خود اے آئی فیچر کو ابتدائی طور پر اینڈرائیڈ صارفین کے لیے پیش کیا گیا ہے، یعنی جو افراد موبائل فون پر جی میل کا استعمال کرتے ہیں، وہ مذکورہ فیچر کو استعمال کر سکیں گے۔</p>
<p>مذکورہ فیچر کے تحت اینڈرائیڈ صارفین جیسے ہی کسی بھی ای میل کو پڑھنے کے بعد اس کا ریپلائی دینا چاہیں گے تو اے آئی فیچر ازخود ایک جواب لکھ کر تجویز دے گا کہ ان کے لیے لکھے گئے جواب کو بھیجا جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202162"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ فیچر کے تحت صارف کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو ملنے والی ای میل کا مختصر جواب دے یا پھر وہ چاہے تو طویل جواب کے آپشن کو منتخب کرے۔</p>
<p>فیچر کے تحت کسی بھی ای میل کو پڑھنے کے بعد اگر صارف اس ای میل کا جواب دے گا تو جی میل کا سسٹم ازخود لکھے ہوئے ریپلائی کو بھیجنے کی تجویز دے گا۔</p>
<p>جی میل کا مذکورہ اے آئی فیچر موصول ہونے والی ای میل کو پڑھ کر اسی سے متعلق جواب دے گا۔</p>
<p>مذکورہ فیچر تک تمام ایںڈرائیڈ صارفین کو رسائی نہیں دی گئی، تاہم ترتیب وار اس پر سب کو رسائی دی جائے گی اور ممکنہ طور پر اسے ڈیسک ٹاپ صارفین سمیت آئی او ایس صارفین کے لیے بھی پیش کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1243409</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Oct 2024 23:05:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/022052077ca824a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/022052077ca824a.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
