<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 26 May 2026 09:25:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 26 May 2026 09:25:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>منکی پاکس کی جلد تشخیص کے لیے پہلے ٹیسٹ کی منظوری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1243595/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منکی پاکس کی جلد تشخیص کے لیے تیار کیے گئے پہلے ٹیسٹ کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایچ او کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.who.int/news/item/03-10-2024-who-approves-first-mpox-diagnostic-test-for-emergency-use--boosting-global-access"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; منکی پاکس کے ٹیسٹ کےلیے تیار کردہ نئے ٹیسٹ کو ’ایلینیٹی ایم، ایم پی ایس وی ایسے‘ (Alinity m MPXV assay)کا نام دیا گیا ہے جو کہ دراصل بائیوپسی طرز کا ٹیسٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ٹیسٹ کو امریکی کمپنی ’ایبٹ مولیکیولر کارپوریشن‘ نے تیار کیا ہے، جسے عالمی ادارہ صحت نے اہم قرار دیتے ہوئے اس کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240060"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ٹیسٹ  ’ایلینیٹی ایم، ایم پی ایس وی ایسے‘ کے ذریعے متاثرہ شخص کے جسم پر نظر آنے والے سرخ دانوں، چھالوں سے نمونے لے کر ان کا ٹیسٹ کیا جائے گا اور ٹیسٹ کے ذریعے معلوم ہو سکے گا کہ مذکورہ شخص میں منکی پاکس کا وائرس موجود ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک زیادہ تر ممالک میں مختلف علامات اور ٹیسٹس کے ذریعے منکی پاکس کی تشخیص کی جا رہی ہے، اب تک اس کا کوئی مستند ٹیسٹ موجود نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منکی پاکس کے پہلے تشخیصی ٹیسٹ کی منظوری کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ اب مرض کی شناخت جلد ہوجائے گی اور ممکنہ طور پر کیسز میں بھی اضافہ ہوگا، کیوں کہ ٹیسٹ کے ذریعے مرض کی شناخت میں آسانی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوری طور پر مذکورہ ٹیسٹ کے طریقہ کار اور آلات تمام ممالک میں دستیاب نہیں ہوں گے، تاہم جلد ہی ٹیسٹ کے آلات اور طریقہ کار کو عام کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منکی پاکس کے ٹیسٹ کے طریقہ کار سے متعلق دنیا بھر کے  کلینیکل لیبارٹری کے اسٹاف اور ماہرین کو تربیت دی جائے گی اور ٹیسٹ کے آلات فراہم کیے جائیں گے، جنہیں پہلے سے ہی موجود مشینوں میں استعمال کرکے مرض کی تشخیص کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت منکی پاکس پاکستان سمیت دنیا کے درجنوں ممالک میں پھیل رہا ہے، تاہم پاکستان میں اس کا پھیلائو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منکی پاکس اس وقت یورپ اور براعظم افریقہ سمیت امریکا میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منکی پاکس کی جلد تشخیص کے لیے تیار کیے گئے پہلے ٹیسٹ کی منظوری دے دی۔</p>
<p>ڈبلیو ایچ او کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.who.int/news/item/03-10-2024-who-approves-first-mpox-diagnostic-test-for-emergency-use--boosting-global-access"><strong>مطابق</strong></a> منکی پاکس کے ٹیسٹ کےلیے تیار کردہ نئے ٹیسٹ کو ’ایلینیٹی ایم، ایم پی ایس وی ایسے‘ (Alinity m MPXV assay)کا نام دیا گیا ہے جو کہ دراصل بائیوپسی طرز کا ٹیسٹ ہے۔</p>
<p>مذکورہ ٹیسٹ کو امریکی کمپنی ’ایبٹ مولیکیولر کارپوریشن‘ نے تیار کیا ہے، جسے عالمی ادارہ صحت نے اہم قرار دیتے ہوئے اس کی منظوری دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1240060"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ ٹیسٹ  ’ایلینیٹی ایم، ایم پی ایس وی ایسے‘ کے ذریعے متاثرہ شخص کے جسم پر نظر آنے والے سرخ دانوں، چھالوں سے نمونے لے کر ان کا ٹیسٹ کیا جائے گا اور ٹیسٹ کے ذریعے معلوم ہو سکے گا کہ مذکورہ شخص میں منکی پاکس کا وائرس موجود ہے یا نہیں۔</p>
<p>اب تک زیادہ تر ممالک میں مختلف علامات اور ٹیسٹس کے ذریعے منکی پاکس کی تشخیص کی جا رہی ہے، اب تک اس کا کوئی مستند ٹیسٹ موجود نہیں تھا۔</p>
<p>منکی پاکس کے پہلے تشخیصی ٹیسٹ کی منظوری کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ اب مرض کی شناخت جلد ہوجائے گی اور ممکنہ طور پر کیسز میں بھی اضافہ ہوگا، کیوں کہ ٹیسٹ کے ذریعے مرض کی شناخت میں آسانی ہوگی۔</p>
<p>فوری طور پر مذکورہ ٹیسٹ کے طریقہ کار اور آلات تمام ممالک میں دستیاب نہیں ہوں گے، تاہم جلد ہی ٹیسٹ کے آلات اور طریقہ کار کو عام کردیا جائے گا۔</p>
<p>منکی پاکس کے ٹیسٹ کے طریقہ کار سے متعلق دنیا بھر کے  کلینیکل لیبارٹری کے اسٹاف اور ماہرین کو تربیت دی جائے گی اور ٹیسٹ کے آلات فراہم کیے جائیں گے، جنہیں پہلے سے ہی موجود مشینوں میں استعمال کرکے مرض کی تشخیص کی جائے گی۔</p>
<p>اس وقت منکی پاکس پاکستان سمیت دنیا کے درجنوں ممالک میں پھیل رہا ہے، تاہم پاکستان میں اس کا پھیلائو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔</p>
<p>منکی پاکس اس وقت یورپ اور براعظم افریقہ سمیت امریکا میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1243595</guid>
      <pubDate>Sat, 05 Oct 2024 20:26:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/0518371736852a0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/0518371736852a0.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو: ڈبلیو ایچ او
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
