<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 09:18:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 09:18:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں مارے گئے چینی انجینئرز کے ورثا کو معاوضہ دینے کی منظوری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1244006/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت پاکستان گزشتہ ہفتے کراچی ایئرپورٹ کے قریب خودکش حملے میں مارے گئے پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کے چینی ملازمین کے ورثا کو معاوضہ دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں کراچی میں خودکش حملے میں مارے گئے چینی انجینئرز کے ورثا کو معاوضے کی ادئیگی کی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کراچی ایئرپورٹ کے قریب خودکش حملے میں پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کے 2 چینی ملازمین سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ پولیس اور رینجرز اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ واقعے میں متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک سے مزید 5 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی منظوری بھی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241737"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کا کہنا تھا کہ چینی کی برآمد کی اجازت ملک میں دستیاب اضافی ذخائر کے باعث دی گئی، ایڈوائزری بورڈ ذخائر اور قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے اجازت منسوخ کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی کا کہنا تھا کہ 30 ستمبر تک ملک میں 20 لاکھ ٹن چینی کے ذخائر دستیاب تھے، 5 لاکھ ٹن چینی کی برآمد کے لیے مزید شرائط عائد کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے کہا کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن 21 نومبر سے نئی پیداوار کا آغاز یقینی بنائے، کوٹہ ملنے کے 90 روز میں برآمد کنندگان چینی برآمد کرنے کے پابند ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی رابطہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ کابینہ کمیٹی چینی کے برآمدی عمل کی نگرانی کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 13جون 2024 کو ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اجازت کے وقت چینی کی فی کلو اوسط قیمت 143.15 روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 2 روپے اضافی مارجن کے ساتھ فی کلو چینی کا بینچ مارک مقرر کیا تھا اور چینی کی فی کلو ریٹیل پرائس کا بینچ مارک 145.15 روپے مقرر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل وفاقی کابینہ نے گزشتہ ماہ ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی مدت میں 15 روز کی توسیع کرتے ہوئے مدت 45 روز سے بڑھا کر 60 روز کردی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت پاکستان گزشتہ ہفتے کراچی ایئرپورٹ کے قریب خودکش حملے میں مارے گئے پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کے چینی ملازمین کے ورثا کو معاوضہ دے گی۔</p>
<p>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں کراچی میں خودکش حملے میں مارے گئے چینی انجینئرز کے ورثا کو معاوضے کی ادئیگی کی منظوری دی گئی۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کراچی ایئرپورٹ کے قریب خودکش حملے میں پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کے 2 چینی ملازمین سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ پولیس اور رینجرز اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ واقعے میں متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔</p>
<p>اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک سے مزید 5 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی منظوری بھی دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241737"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کمیٹی کا کہنا تھا کہ چینی کی برآمد کی اجازت ملک میں دستیاب اضافی ذخائر کے باعث دی گئی، ایڈوائزری بورڈ ذخائر اور قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے اجازت منسوخ کرسکتا ہے۔</p>
<p>ای سی سی کا کہنا تھا کہ 30 ستمبر تک ملک میں 20 لاکھ ٹن چینی کے ذخائر دستیاب تھے، 5 لاکھ ٹن چینی کی برآمد کے لیے مزید شرائط عائد کی گئی ہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے کہا کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن 21 نومبر سے نئی پیداوار کا آغاز یقینی بنائے، کوٹہ ملنے کے 90 روز میں برآمد کنندگان چینی برآمد کرنے کے پابند ہوں گے۔</p>
<p>اقتصادی رابطہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ کابینہ کمیٹی چینی کے برآمدی عمل کی نگرانی کرے گی۔</p>
<p>واضح رہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 13جون 2024 کو ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اجازت کے وقت چینی کی فی کلو اوسط قیمت 143.15 روپے تھی۔</p>
<p>اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 2 روپے اضافی مارجن کے ساتھ فی کلو چینی کا بینچ مارک مقرر کیا تھا اور چینی کی فی کلو ریٹیل پرائس کا بینچ مارک 145.15 روپے مقرر کیا تھا۔</p>
<p>اس سے قبل وفاقی کابینہ نے گزشتہ ماہ ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی مدت میں 15 روز کی توسیع کرتے ہوئے مدت 45 روز سے بڑھا کر 60 روز کردی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1244006</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Oct 2024 18:10:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/111755226d80129.jpg?r=181025" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/111755226d80129.jpg?r=181025"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
