<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 14:53:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 10 Apr 2026 14:53:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لچک دکھائی جائے تو آئینی ترمیم پر اتفاق رائے ہوسکتا ہے، مولانا فضل الرحمٰن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1244013/</link>
      <description>&lt;p&gt;جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ مجوزہ آئینی ترامیم کے مسودے پر اتفاق رائے اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ حکومت کی جانب سے لچک کا مظاہرہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے آج مجوزہ آئینی ترامیم سے متعلق مسودے کی کاپیاں تقسیم کیں، ہمارے وکلا  مسودے کی کاپیاں دیکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/IhYg_osv9NQ?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے دیگر اتحادیوں کو بھی مسودے پر اعتماد میں لیا جائے گا، مسودے پر اتفاق رائے اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ لچک کا مظاہرہ کیا جائے، اب تک ہم نے ووٹ نہیں دیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ترامیم کا حکومتی تصور  ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ مسودے سے قابل اعتراض مواد کو صاف کیا جائے، ہم اپنی تجاویز لا رہے ہیں، ان کو آمادہ کر  رہے ہیں، جب ہماری تجاویز پر عمل ہوگا تو ہم اس قابل ہوں گے کہ ووٹ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ترامیم ہمارے نظریے کے مطابق نہیں ہوتیں تو پھر یہ کہنا کہ ہمارے نمبر پورے ہیں، نمبر پورے ہوجائیں گے، یہ باتیں سیاسی بداخلاقی بھی ہے، اس سے آئین کو متنازع بنانے کی بھی ایک بنیاد پڑ جائے گی، کیوں نہ ہم اتفاق رائے سے چلیں، اس کا ہر سمت سے خیرمقدم ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم آج حکومتی مسودے پر غور کا آغاز کر رہے ہیں، 19ویں ترمیم ختم کرکے 18ویں ترمیم کو بحال کیا جائے، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے کی طرف جانا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 18ویں ترمیم پر بھی اسی طرح اتفاق کیا تھا، امید ہے کہ حکومت ہماری تجاویز پر راضی ہوجائے گی، 19ویں ترمیم کے خاتمے سے ججوں کے تقرر میں پارلیمان کا کردار بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت کو 19ویں آئینی ترمیم ختم کرنے کی تجویز دی ہے، جے یو آئی اور پیپلزپارٹی متفقہ مسودے کی طرف بڑھیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عدلیہ کو سیاست میں تقسیم نہ کریں، جج، جج ہوتا ہے، اس کو جج ہی رہنے دیں، جج بھی اپنے رویے سے عوام کو مطمئن کریں کہ وہ غیر جانبدار ہو کر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے دیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ مجوزہ آئینی ترامیم کے مسودے پر اتفاق رائے اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ حکومت کی جانب سے لچک کا مظاہرہ کیا جائے۔</p>
<p>اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے آج مجوزہ آئینی ترامیم سے متعلق مسودے کی کاپیاں تقسیم کیں، ہمارے وکلا  مسودے کی کاپیاں دیکھیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/IhYg_osv9NQ?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے دیگر اتحادیوں کو بھی مسودے پر اعتماد میں لیا جائے گا، مسودے پر اتفاق رائے اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ لچک کا مظاہرہ کیا جائے، اب تک ہم نے ووٹ نہیں دیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ترامیم کا حکومتی تصور  ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔</p>
<p>سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ مسودے سے قابل اعتراض مواد کو صاف کیا جائے، ہم اپنی تجاویز لا رہے ہیں، ان کو آمادہ کر  رہے ہیں، جب ہماری تجاویز پر عمل ہوگا تو ہم اس قابل ہوں گے کہ ووٹ دیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ترامیم ہمارے نظریے کے مطابق نہیں ہوتیں تو پھر یہ کہنا کہ ہمارے نمبر پورے ہیں، نمبر پورے ہوجائیں گے، یہ باتیں سیاسی بداخلاقی بھی ہے، اس سے آئین کو متنازع بنانے کی بھی ایک بنیاد پڑ جائے گی، کیوں نہ ہم اتفاق رائے سے چلیں، اس کا ہر سمت سے خیرمقدم ہونا چاہیے۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم آج حکومتی مسودے پر غور کا آغاز کر رہے ہیں، 19ویں ترمیم ختم کرکے 18ویں ترمیم کو بحال کیا جائے، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے کی طرف جانا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 18ویں ترمیم پر بھی اسی طرح اتفاق کیا تھا، امید ہے کہ حکومت ہماری تجاویز پر راضی ہوجائے گی، 19ویں ترمیم کے خاتمے سے ججوں کے تقرر میں پارلیمان کا کردار بڑھے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت کو 19ویں آئینی ترمیم ختم کرنے کی تجویز دی ہے، جے یو آئی اور پیپلزپارٹی متفقہ مسودے کی طرف بڑھیں گی۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عدلیہ کو سیاست میں تقسیم نہ کریں، جج، جج ہوتا ہے، اس کو جج ہی رہنے دیں، جج بھی اپنے رویے سے عوام کو مطمئن کریں کہ وہ غیر جانبدار ہو کر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے دیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1244013</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Oct 2024 21:31:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/1119142076c1f99.jpg?r=213156" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/1119142076c1f99.jpg?r=213156"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
