<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 11:59:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 11:59:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: نئی دہلی میں فضائی آلودگی کم کرنے کیلئے آتش بازی پر پابندی عائد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1244177/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے آتش بازی پر پابندی عائد کردی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق بھارت میں مقبول پٹاخوں پر لگائی جانے والی یہ پابندی پہلے لگائی گئی پابندیوں سے کافی زیادہ سخت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہلی پلوشن کنٹرول کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آتش بازی کے سامان کی تیاری، اسے ذخیرہ کرنے، فروخت کرنے اور استعمال کرنے پر مکمل پابندی ہوگی اور یہ حکم عوامی مفاد کو دیکھتے ہوئے آلودگی کی سطح کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دو ہفتے بعد یکم نومبر کو دیوالی کا تہوار منایا جانا ہے اور آتش بازی اس تہوار کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3 کروڑ آبادی والے دارالحکومت میں اس سے قبل عائد کی گئی پابندیوں کی اکثر خلاف وزری کی جاتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233866"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس اکثر خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف ان کے پٹاخوں سے جڑے سخت مذہبی جذبات کو دیکھتے ہوئے کارروائی کرنے سے گریز کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ ہر سال نئی دہلی خزاں کے موسم میں بدترین اسموگ کی لپیٹ میں ہوتا ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری فصلوں کی باقیات کو جلانے والے کسانوں پر عائد کی جاتی ہے تاہم دیوالی کے دوران آتش بازی میں اضافہ اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019 میں نئی دہلی میں فضائی آلودگی کی وجہ سے تقریباً 17 ہزار 500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں ماضی میں آتش بازی کے سامان کو ملک بھر میں غیر قانونی طور پر فروخت یا پھر ریاست کی سرپرستی میں اسمگل کیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس سال دہلی کی شہری انتظامیہ نے ریاستی پولیس کو آتش بازی پر پابندی لگانے اور روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کی رپورٹس پیش کرنےکی درخواست کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دارالحکومت میں آتش بازی پر پابندی سال 2024 تک جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے آتش بازی پر پابندی عائد کردی گئی۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق بھارت میں مقبول پٹاخوں پر لگائی جانے والی یہ پابندی پہلے لگائی گئی پابندیوں سے کافی زیادہ سخت ہے۔</p>
<p>دہلی پلوشن کنٹرول کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آتش بازی کے سامان کی تیاری، اسے ذخیرہ کرنے، فروخت کرنے اور استعمال کرنے پر مکمل پابندی ہوگی اور یہ حکم عوامی مفاد کو دیکھتے ہوئے آلودگی کی سطح کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دو ہفتے بعد یکم نومبر کو دیوالی کا تہوار منایا جانا ہے اور آتش بازی اس تہوار کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p>3 کروڑ آبادی والے دارالحکومت میں اس سے قبل عائد کی گئی پابندیوں کی اکثر خلاف وزری کی جاتی رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1233866"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پولیس اکثر خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف ان کے پٹاخوں سے جڑے سخت مذہبی جذبات کو دیکھتے ہوئے کارروائی کرنے سے گریز کرتی ہے۔</p>
<p>خیال رہے کہ ہر سال نئی دہلی خزاں کے موسم میں بدترین اسموگ کی لپیٹ میں ہوتا ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری فصلوں کی باقیات کو جلانے والے کسانوں پر عائد کی جاتی ہے تاہم دیوالی کے دوران آتش بازی میں اضافہ اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔</p>
<p>2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019 میں نئی دہلی میں فضائی آلودگی کی وجہ سے تقریباً 17 ہزار 500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>بھارت میں ماضی میں آتش بازی کے سامان کو ملک بھر میں غیر قانونی طور پر فروخت یا پھر ریاست کی سرپرستی میں اسمگل کیا جاتا تھا۔</p>
<p>تاہم اس سال دہلی کی شہری انتظامیہ نے ریاستی پولیس کو آتش بازی پر پابندی لگانے اور روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کی رپورٹس پیش کرنےکی درخواست کی ہے۔</p>
<p>دارالحکومت میں آتش بازی پر پابندی سال 2024 تک جاری رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1244177</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Oct 2024 20:16:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/1419121679c4a58.jpg?r=191411" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/1419121679c4a58.jpg?r=191411"/>
        <media:title>دارالحکومت میں آتش بازی پر پابندی سال 2024 تک جاری رہے گی — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/14191306516dc21.jpg?r=201710" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/14191306516dc21.jpg?r=201710"/>
        <media:title>دہلی میں آتش بازی پر مکمل پابندی ہوگی — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
