<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 03 May 2026 14:04:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 03 May 2026 14:04:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسپنرز کی تاریخی باؤلنگ، پاکستان کی ہوم گراؤنڈ پر 2021 کے بعد پہلی فتح</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1244449/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستانی ٹیم کی ہوم گراونڈ پر شکستوں کے سلسلہ تھم گیا اور پاکستان نے اسپنرز کی تاریخ ساز باؤلنگ کی بدولت ہوم گراونڈ پر تقریباً پونے چار سال بعد پہلا ٹیسٹ میچ اپنے نام کر لیا جہاں اس میچ میں انگلینڈ کی تمام 20 وکٹیں پاکستانی اسپنرز نے حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ہوم گراؤنڈ پر آخری فتح ستمبر 2021 میں جنوبی افریقہ کے خلاف حاصل کی تھی لیکن اس کے بعد اپنی سرزمین پر مسلسل ٹیسٹ میچز کے انعقاد کے باوجود پاکستانی ٹیم ٹیسٹ میچ میں فتح حاصل نہ کر سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوم گراونڈ پر ناکامیوں کے سلسلے کا آغاز آسٹریلیا کے خلاف 2022 میں ہوا تھا جہاں آسٹریلیا نے پاکستان کو قادر بینوا سیریز میں 0-1 سے شکست دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد 2022 میں انگلینڈ کے سابقہ دورہ پاکستان نے مہمان ٹیم نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے سیریز میں کلین سوئپ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان آئی تو قومی ٹیم کو کسی میچ میں شکست تو نہ ہوئی لیکن وہ کوئی میچ جیت بھی نہ سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں بنگلہ دیش کی ٹیم سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان آئی تو امید تھی کہ قومی ٹیم شکستوں کے اس سلسلے سے جان چھڑانے میں کامیاب ہو سکے گی لیکن شان مسعود کی زیر قیادت کی ٹیم کو دونوں میچوں میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد انگلینڈ نے بھی پاکستان کو پہلے میچ میں باآسانی شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے فتح کے حصول سے قبل اس تمام عرصے میں مجموعی طور پر 11 ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں سے 7 میں اسے شکست ہوئی اور چار ڈرا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پاکستان کی 1969 اور 1975 کے بعد ہوم گراونڈ پر سب سے خراب کارکردگی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="دو-باؤلرز-کی-20-وکٹیں" href="#دو-باؤلرز-کی-20-وکٹیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دو باؤلرز کی 20 وکٹیں&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ میچ میں انگلینڈ کی 10 وکٹیں بھی نہ لینے والی پاکستانی ٹیم کے دو اسپنرز نے ہی اس مرتبہ انگلینڈ کا کام تمام کردیا اور ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا 52سال بعد ہوا ہے کہ کسی ٹیم کے دو کھلاڑیوں نے حریف ٹیم کے تمام 20 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے اسپنرز نعمان علی اور ساجد خان نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے انگلش باؤلرز کو اپنی باؤلنگ سے مسحور کردیا اور گزشتہ میچ میں 800 سے زائد رنز بنانے والی ٹیم کے بلے باز پاکستانی اسپنرز کی جوڑی کے سامنے بے بس نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی اننگز میں ساجد نے 7 اور نعمان نے تین وکٹیں لیں تو دوسری اننگز میں نعمان کا جادو سر چڑھ کر بولا جنہوں نے 8 انگلش بلے بازوں کو شکار کیا اور ساجد نے بھی دو مہمان بلے بازوں کو چلتا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ میں مجموعی طور پر نعمان نے 11 اور ساجد نے 9 وکٹیں اپنے نام کیں اور پاکستان کی جانب سے دو باؤلرز نے حریف ٹیم کے 20 کھلاڑیوں کو چلتا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیسٹ کرکٹ میں 1972 کے بعد ایسا پہلی بار ہوا کہ کسی ٹیم کے دو باؤلرز نے حریف کے 20 کھلاڑیوں کو چلتا کیا ہو جہاں 52سال قبل آسٹریلیا کے باب میسی اور ڈینس للی نے انگلینڈ ہی کے خلاف یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستانی ٹیم کی ہوم گراونڈ پر شکستوں کے سلسلہ تھم گیا اور پاکستان نے اسپنرز کی تاریخ ساز باؤلنگ کی بدولت ہوم گراونڈ پر تقریباً پونے چار سال بعد پہلا ٹیسٹ میچ اپنے نام کر لیا جہاں اس میچ میں انگلینڈ کی تمام 20 وکٹیں پاکستانی اسپنرز نے حاصل کیں۔</p>
<p>پاکستان نے ہوم گراؤنڈ پر آخری فتح ستمبر 2021 میں جنوبی افریقہ کے خلاف حاصل کی تھی لیکن اس کے بعد اپنی سرزمین پر مسلسل ٹیسٹ میچز کے انعقاد کے باوجود پاکستانی ٹیم ٹیسٹ میچ میں فتح حاصل نہ کر سکی۔</p>
<p>ہوم گراونڈ پر ناکامیوں کے سلسلے کا آغاز آسٹریلیا کے خلاف 2022 میں ہوا تھا جہاں آسٹریلیا نے پاکستان کو قادر بینوا سیریز میں 0-1 سے شکست دی تھی۔</p>
<p>اس کے بعد 2022 میں انگلینڈ کے سابقہ دورہ پاکستان نے مہمان ٹیم نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے سیریز میں کلین سوئپ کیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان آئی تو قومی ٹیم کو کسی میچ میں شکست تو نہ ہوئی لیکن وہ کوئی میچ جیت بھی نہ سکی۔</p>
<p>حال ہی میں بنگلہ دیش کی ٹیم سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان آئی تو امید تھی کہ قومی ٹیم شکستوں کے اس سلسلے سے جان چھڑانے میں کامیاب ہو سکے گی لیکن شان مسعود کی زیر قیادت کی ٹیم کو دونوں میچوں میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔</p>
<p>اس کے بعد انگلینڈ نے بھی پاکستان کو پہلے میچ میں باآسانی شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی تھی۔</p>
<p>پاکستان نے فتح کے حصول سے قبل اس تمام عرصے میں مجموعی طور پر 11 ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں سے 7 میں اسے شکست ہوئی اور چار ڈرا رہے تھے۔</p>
<p>یہ پاکستان کی 1969 اور 1975 کے بعد ہوم گراونڈ پر سب سے خراب کارکردگی تھی۔</p>
<h1><a id="دو-باؤلرز-کی-20-وکٹیں" href="#دو-باؤلرز-کی-20-وکٹیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دو باؤلرز کی 20 وکٹیں</h1>
<p>گزشتہ میچ میں انگلینڈ کی 10 وکٹیں بھی نہ لینے والی پاکستانی ٹیم کے دو اسپنرز نے ہی اس مرتبہ انگلینڈ کا کام تمام کردیا اور ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا 52سال بعد ہوا ہے کہ کسی ٹیم کے دو کھلاڑیوں نے حریف ٹیم کے تمام 20 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔</p>
<p>پاکستان کے اسپنرز نعمان علی اور ساجد خان نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے انگلش باؤلرز کو اپنی باؤلنگ سے مسحور کردیا اور گزشتہ میچ میں 800 سے زائد رنز بنانے والی ٹیم کے بلے باز پاکستانی اسپنرز کی جوڑی کے سامنے بے بس نظر آئے۔</p>
<p>پہلی اننگز میں ساجد نے 7 اور نعمان نے تین وکٹیں لیں تو دوسری اننگز میں نعمان کا جادو سر چڑھ کر بولا جنہوں نے 8 انگلش بلے بازوں کو شکار کیا اور ساجد نے بھی دو مہمان بلے بازوں کو چلتا کیا۔</p>
<p>میچ میں مجموعی طور پر نعمان نے 11 اور ساجد نے 9 وکٹیں اپنے نام کیں اور پاکستان کی جانب سے دو باؤلرز نے حریف ٹیم کے 20 کھلاڑیوں کو چلتا کیا۔</p>
<p>ٹیسٹ کرکٹ میں 1972 کے بعد ایسا پہلی بار ہوا کہ کسی ٹیم کے دو باؤلرز نے حریف کے 20 کھلاڑیوں کو چلتا کیا ہو جہاں 52سال قبل آسٹریلیا کے باب میسی اور ڈینس للی نے انگلینڈ ہی کے خلاف یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1244449</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Oct 2024 12:58:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/18125733a17bdfe.png?r=125815" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/18125733a17bdfe.png?r=125815"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/181257366e1a035.png?r=125815" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/181257366e1a035.png?r=125815"/>
        <media:title>پاکستان کے اسپنرز نعمان علی اور ساجد خان نے انگلینڈ کی تمام 20 وکٹیں حاصل کیں— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
