<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 05:29:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 05:29:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈاکٹر شاہنواز کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بدترین تشدد کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1244563/</link>
      <description>&lt;p&gt;توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار اور میرپورخاص میں ہونے والے مقابلے میں مارے جانے والے ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ان کی لاش پر وحشیانہ تشدد کے نشانات ملے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1866335/autopsy-reveals-torture-marks-on-umerkot-doctor-shahnawazs-body"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 16 اکتوبر کو ڈاکٹر کنبھر کی لاش کو میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں نکالا گیا تھا اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ٹوٹی ہوئی ہڈیوں سمیت جسم پر متعدد زخموں کا انکشاف ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسپیشل میڈیکل بورڈ کے اراکین کی متفقہ رائے ہے کہ مرنے والے کے سینے پر آتشیں ہتھیار کے زخم تھے جو عام حالات میں موت کا سبب بننے کے لیے کافی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر وسیم خان، ڈاکٹر طاہر قریشی، پروفیسر ڈاکٹر واحد نہیون، ڈاکٹر عبدالصمد میمن اور پیتھالوجسٹ ڈاکٹر راحیل خان کی جانب سے دستخط شدہ رپورٹ میں کہا گیا کہ متوفی ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کی نچلی چار پسلیوں میں فریکچر دراصل ان کے سینے کے پچھلے حصے پر طاقت کے برملا استعمال کا عندیا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتائج جسمانی معائنے اور ایکسرے کے نتائج پر اخذ کیے گئے جس میں انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر شاہنواز کی چار پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر کنبھر کے اہل خانہ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرپورخاص میں پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ہسپتال پر تشدد کے شواہد کو چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں سے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 201 کے تحت ثبوت چھپانے کے الزام میں پوچھ گچھ کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکایت گزار ابراہیم کنبھر نے کہا کہ ان پر کس نے شواہد پر پردہ ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالا؟ سچ سامنے آنا چاہیے،، اب پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا جس میں موت کی وجہ گولی بتائی گئی تھی، ہو سکتا ہے کہ انہیں تشدد کا نشانہ بناکر مارا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لواحقین نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کو قتل کرنے سے قبل ایک ممتاز مذہبی شخصیت کی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں ثبوت مٹانے کے لیے ان کی لاش کو آگ لگا دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے ٹھاکر نذیر نے کہا کہ تشدد کے الزامات کا پتا لگانے کے لیے قبر کشائی کر کے لاش نکالی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار اور میرپورخاص میں ہونے والے مقابلے میں مارے جانے والے ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ان کی لاش پر وحشیانہ تشدد کے نشانات ملے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1866335/autopsy-reveals-torture-marks-on-umerkot-doctor-shahnawazs-body">رپورٹ</a></strong> 16 اکتوبر کو ڈاکٹر کنبھر کی لاش کو میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں نکالا گیا تھا اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ٹوٹی ہوئی ہڈیوں سمیت جسم پر متعدد زخموں کا انکشاف ہوا ہے۔</p>
<p>ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسپیشل میڈیکل بورڈ کے اراکین کی متفقہ رائے ہے کہ مرنے والے کے سینے پر آتشیں ہتھیار کے زخم تھے جو عام حالات میں موت کا سبب بننے کے لیے کافی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹر وسیم خان، ڈاکٹر طاہر قریشی، پروفیسر ڈاکٹر واحد نہیون، ڈاکٹر عبدالصمد میمن اور پیتھالوجسٹ ڈاکٹر راحیل خان کی جانب سے دستخط شدہ رپورٹ میں کہا گیا کہ متوفی ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کی نچلی چار پسلیوں میں فریکچر دراصل ان کے سینے کے پچھلے حصے پر طاقت کے برملا استعمال کا عندیا دیتا ہے۔</p>
<p>یہ نتائج جسمانی معائنے اور ایکسرے کے نتائج پر اخذ کیے گئے جس میں انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر شاہنواز کی چار پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔</p>
<p>ڈاکٹر کنبھر کے اہل خانہ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرپورخاص میں پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے ہسپتال پر تشدد کے شواہد کو چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں سے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 201 کے تحت ثبوت چھپانے کے الزام میں پوچھ گچھ کی جائے۔</p>
<p>شکایت گزار ابراہیم کنبھر نے کہا کہ ان پر کس نے شواہد پر پردہ ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالا؟ سچ سامنے آنا چاہیے،، اب پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا جس میں موت کی وجہ گولی بتائی گئی تھی، ہو سکتا ہے کہ انہیں تشدد کا نشانہ بناکر مارا گیا ہو۔</p>
<p>لواحقین نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کو قتل کرنے سے قبل ایک ممتاز مذہبی شخصیت کی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں ثبوت مٹانے کے لیے ان کی لاش کو آگ لگا دی گئی۔</p>
<p>سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے ٹھاکر نذیر نے کہا کہ تشدد کے الزامات کا پتا لگانے کے لیے قبر کشائی کر کے لاش نکالی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1244563</guid>
      <pubDate>Sun, 20 Oct 2024 14:07:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ( اے بی آریسر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/20131012bed089f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/20131012bed089f.jpg"/>
        <media:title>توہین مذہب کے الزام میں دوران حراست 19 ستمبر کو مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے ڈاکٹر شاہنواز کنبھر— فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
