<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 18:51:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 18:51:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی کا خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے الگ رہنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1244660/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے مکمل طور پر الگ رہنے کا اعلان کر دیا، یہ کمیٹی چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے تشکیل دی گئی ہے جس کا اجلاس آج شام 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے جاری سیاسی کمیٹی جلاس کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم پرپارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے اراکین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانےکی منظوری دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ ‏آئینی ترمیم کو ووٹ دینے والے اراکینِ کی بنیادی جماعتی رکنیت کی منسوخی سمیت ان کے خلاف حتمی تادیبی کارروائی پراتفاق ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق ‏پارٹی سے روابط منقطع کرنے والے دیگر اراکین کو شوکاز نوٹسز کے اجرا کی بھی منظوری دی گئی ہے جبکہ ‏ان اراکین کے شوکازنوٹس کے جوابات کی روشنی میں ان کے آئندہ کے مستقبل کا تعین کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سینیٹ کے بعد 21 اکتوبر کو  قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد وزیراعظم کی ارسال کردہ سمری پر صدر مملکت کے دستخط کے نتیجے میں 26ویں آئینی ترمیمی بل قانون بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244653"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئے قانون کے نافذ العمل ہونے کے ساتھ ہی چیف جسٹس کی تقرری کا طریقہ کار بھی تبدیل ہو گیا ہے جہاں اس سے قبل چیف جسٹس کے بعد عدالت عظمیٰ سب سے سینئر ترین جج کو اس عہدے پر تعینات کیا جاتا تھا البتہ اب 26ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں بننے والے قانون سے صورتحال بدل گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے قانون کی روشنی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حکومت اور اپوزیشن کے اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں کے ناموں پر مشاورت کے بعد ایک حتمی نام چیف جسٹس کے عہدے کے لیے وزیراعظم کو بھیجے گی اور وزیراعظم اس نام کو منظوری کے لیے صدر کے پاس بھیجیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز اس قانون کی روشنی میں چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی جس کا اجلاس آج (منگل) شام 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹی فکیشن میں بتایا گیا تھا کہ کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف، احسن اقبال، شائستہ ملک، سینیٹر اعظم تارڑ اور پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف، فاروق ایچ نائیک اور نوید قمر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹر علی ظفر، سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا بھی کمیٹی کا حصہ ہیں جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کی رکن رعنا انصار اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری نوٹی فکیشن کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی نامزدگی کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منگل کی شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے کنسٹی ٹیوشن روم میں ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے مکمل طور پر الگ رہنے کا اعلان کر دیا، یہ کمیٹی چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے تشکیل دی گئی ہے جس کا اجلاس آج شام 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے جاری سیاسی کمیٹی جلاس کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم پرپارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والے اراکین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانےکی منظوری دی گئی ہے۔</p>
<p>پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ ‏آئینی ترمیم کو ووٹ دینے والے اراکینِ کی بنیادی جماعتی رکنیت کی منسوخی سمیت ان کے خلاف حتمی تادیبی کارروائی پراتفاق ہوا ہے۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق ‏پارٹی سے روابط منقطع کرنے والے دیگر اراکین کو شوکاز نوٹسز کے اجرا کی بھی منظوری دی گئی ہے جبکہ ‏ان اراکین کے شوکازنوٹس کے جوابات کی روشنی میں ان کے آئندہ کے مستقبل کا تعین کیا جائے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ سینیٹ کے بعد 21 اکتوبر کو  قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد وزیراعظم کی ارسال کردہ سمری پر صدر مملکت کے دستخط کے نتیجے میں 26ویں آئینی ترمیمی بل قانون بن گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244653"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس نئے قانون کے نافذ العمل ہونے کے ساتھ ہی چیف جسٹس کی تقرری کا طریقہ کار بھی تبدیل ہو گیا ہے جہاں اس سے قبل چیف جسٹس کے بعد عدالت عظمیٰ سب سے سینئر ترین جج کو اس عہدے پر تعینات کیا جاتا تھا البتہ اب 26ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں بننے والے قانون سے صورتحال بدل گئی ہے۔</p>
<p>نئے قانون کی روشنی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حکومت اور اپوزیشن کے اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں کے ناموں پر مشاورت کے بعد ایک حتمی نام چیف جسٹس کے عہدے کے لیے وزیراعظم کو بھیجے گی اور وزیراعظم اس نام کو منظوری کے لیے صدر کے پاس بھیجیں گے۔</p>
<p>گزشتہ روز اس قانون کی روشنی میں چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی جس کا اجلاس آج (منگل) شام 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔</p>
<p>نوٹی فکیشن میں بتایا گیا تھا کہ کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف، احسن اقبال، شائستہ ملک، سینیٹر اعظم تارڑ اور پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف، فاروق ایچ نائیک اور نوید قمر شامل ہیں۔</p>
<p>ان کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹر علی ظفر، سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا بھی کمیٹی کا حصہ ہیں جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کی رکن رعنا انصار اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>جاری نوٹی فکیشن کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی نامزدگی کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منگل کی شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے کنسٹی ٹیوشن روم میں ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1244660</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Oct 2024 09:02:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/22085802501d851.jpg?r=085804" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/22085802501d851.jpg?r=085804"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/22084844154cc7a.png?r=085804" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/22084844154cc7a.png?r=085804"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
