<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 01:49:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 01:49:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی رولز منظور، اداروں، شخصیات کیخلاف پروپیگنڈے پر15سال قید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1244761/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی کابینہ نے نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی رولز (این سی سی آئی اے) کی منظوری دے دی، جس کے تحت سوشل میڈیا پرپروپیگنڈا، ہراسانی اور افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق 11ماہ بعد بالآخر  این سی سی آئی اے پورے اختیارات کے ساتھ فعال ہوگئی، سائبر کرائم کے خلاف سخت کارروائی اور ڈیجیٹل رائٹس کے تحفظ کا آغاز ہوگیا، ریاستی اداروں اور سرکاری شخصیات کے خلاف پروپیگنڈے پر بھی سخت کارروائی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائبر کرائمز میں ملوث افراد کو 5 تا 15 سال تک سزا اور بھاری جرمانہ عائد ہوسکیں گے، این سی سی آئی اے سائبر کرائمز کے  خلاف کارروائی کے لیے عالمی اداروں سے رابطے کی مجاز  ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ نگران حکومت نے دسمبر 2023 میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اینڈ ایجنسی قائم کرنے کی منظوری دی تھی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232372"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3 مئی 2024 کو وفاقی حکومت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے سائبر کرائم کی تحقیقات کا اختیار واپس لے لیا تھا اور سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نام سے الگ ادارہ قائم کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بتایا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیش ایجنسی کے سربراہ کے لیے ایسا ڈائریکٹر جنرل تعینات کرے گی جو کم سے کم 21 گریڈ کا افسر یا 63 برس سے کم عمر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی کو صوبے کے آئی جی کے برابر اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ ان کے ماتحت ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی کابینہ نے نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی رولز (این سی سی آئی اے) کی منظوری دے دی، جس کے تحت سوشل میڈیا پرپروپیگنڈا، ہراسانی اور افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق 11ماہ بعد بالآخر  این سی سی آئی اے پورے اختیارات کے ساتھ فعال ہوگئی، سائبر کرائم کے خلاف سخت کارروائی اور ڈیجیٹل رائٹس کے تحفظ کا آغاز ہوگیا، ریاستی اداروں اور سرکاری شخصیات کے خلاف پروپیگنڈے پر بھی سخت کارروائی ہوگی۔</p>
<p>سائبر کرائمز میں ملوث افراد کو 5 تا 15 سال تک سزا اور بھاری جرمانہ عائد ہوسکیں گے، این سی سی آئی اے سائبر کرائمز کے  خلاف کارروائی کے لیے عالمی اداروں سے رابطے کی مجاز  ہوگی۔</p>
<p>واضح رہے کہ نگران حکومت نے دسمبر 2023 میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اینڈ ایجنسی قائم کرنے کی منظوری دی تھی</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1232372"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>3 مئی 2024 کو وفاقی حکومت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے سائبر کرائم کی تحقیقات کا اختیار واپس لے لیا تھا اور سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نام سے الگ ادارہ قائم کردیا گیا تھا۔</p>
<p>بتایا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیش ایجنسی کے سربراہ کے لیے ایسا ڈائریکٹر جنرل تعینات کرے گی جو کم سے کم 21 گریڈ کا افسر یا 63 برس سے کم عمر ہو۔</p>
<p>ڈی جی کو صوبے کے آئی جی کے برابر اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ ان کے ماتحت ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کام کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1244761</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Oct 2024 13:26:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ثناء اللہویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/23125530a91bad8.jpg?r=125607" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/23125530a91bad8.jpg?r=125607"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
