<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 02:15:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 02:15:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی تشکیل نو کردی، جسٹس منیب اختر دوبارہ شامل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1244994/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی تشکیل نو کرتے ہوئے کمیٹی میں جسٹس منیب اختر کو دوبارہ شامل کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجسٹرار سپریم کورٹ جزیلہ اسلم کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمیٹی مقدمات کو مقرر کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے چارج سنبھالتے ہی فل کورٹ اجلاس طلب کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی جانب سے فل کورٹ اجلاس 28 اکتوبر بروز پیر کو بلایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244989"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 20 ستمبر کو صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط بعد سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 نافذ ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اطلاعات و نشریات عطا اﷲ تارڑ نے کہا تھا کہ مفاد عامہ اور عدالتی عمل کی شفافیت کے فروغ کے لیے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈنینس 2024 نافذ کردیا گیا ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ آرٹیکل 184 (3) کے تحت کسی مقدمے میں عدالت عظمی کی جانب سے سنائے گئے فیصلے پراپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرڈیننس کے مطابق چیف جسٹس آٖف پاکستان، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل کمیٹی کیس مقرر کرے گی، اس سے قبل چیف جسٹس اور 2 سینئر ترین ججوں کا تین رکنی بینچ مقدمات مقرر کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمیٹی میں جسٹس منیب اختر کو ہٹا کر جسٹس امین الدین خان کا شامل کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;23 ستمبر کو جسٹس منصور علی شاہ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے بعد نئی تشکیل کردہ ججز کمیٹی کا حصہ بننے سے معذرت کرتے ہوئے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو خط لکھ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242781"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُسی دن پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے بعد پہلا اجلاس منعقد ہوا تھا، کمیٹی اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منصور علی شاہ نے کہا تھا کہ آرڈیننس کے اجرا کے چند گھنٹوں میں وجوہات بتائے بغیر نئی کمیٹی کی تشکیل کیسے ہوئی؟ اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوسرے اور تیسرے نمبر کے سینئر ترین جج کو کمیٹی کے لیے کیوں نہیں چنا؟۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا تھا کہ یہ آرڈیننس سپریم کورٹ کے رولز بنانے کے اختیار میں پارلیمنٹ کی مداخلت ہے، آرڈیننس سے سپریم کورٹ میں ون مین شو قائم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں جسٹس منیب اختر کو دوبارہ شامل کر لیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی تشکیل نو کرتے ہوئے کمیٹی میں جسٹس منیب اختر کو دوبارہ شامل کر لیا۔</p>
<p>رجسٹرار سپریم کورٹ جزیلہ اسلم کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر شامل ہوں گے۔</p>
<p>یہ کمیٹی مقدمات کو مقرر کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے چارج سنبھالتے ہی فل کورٹ اجلاس طلب کر لیا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی جانب سے فل کورٹ اجلاس 28 اکتوبر بروز پیر کو بلایا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244989"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ 20 ستمبر کو صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط بعد سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 نافذ ہو گیا تھا۔</p>
<p>وزیر اطلاعات و نشریات عطا اﷲ تارڑ نے کہا تھا کہ مفاد عامہ اور عدالتی عمل کی شفافیت کے فروغ کے لیے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈنینس 2024 نافذ کردیا گیا ہے</p>
<p>انہوں نے کہا تھا کہ آرٹیکل 184 (3) کے تحت کسی مقدمے میں عدالت عظمی کی جانب سے سنائے گئے فیصلے پراپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔</p>
<p>آرڈیننس کے مطابق چیف جسٹس آٖف پاکستان، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور چیف جسٹس کے نامزد جج پر مشتمل کمیٹی کیس مقرر کرے گی، اس سے قبل چیف جسٹس اور 2 سینئر ترین ججوں کا تین رکنی بینچ مقدمات مقرر کرتا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں، اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمیٹی میں جسٹس منیب اختر کو ہٹا کر جسٹس امین الدین خان کا شامل کر لیا تھا۔</p>
<p>23 ستمبر کو جسٹس منصور علی شاہ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے بعد نئی تشکیل کردہ ججز کمیٹی کا حصہ بننے سے معذرت کرتے ہوئے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو خط لکھ دیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242781"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اُسی دن پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے بعد پہلا اجلاس منعقد ہوا تھا، کمیٹی اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل تھی۔</p>
<p>جسٹس منصور علی شاہ نے کہا تھا کہ آرڈیننس کے اجرا کے چند گھنٹوں میں وجوہات بتائے بغیر نئی کمیٹی کی تشکیل کیسے ہوئی؟ اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوسرے اور تیسرے نمبر کے سینئر ترین جج کو کمیٹی کے لیے کیوں نہیں چنا؟۔</p>
<p>خط میں کہا گیا تھا کہ یہ آرڈیننس سپریم کورٹ کے رولز بنانے کے اختیار میں پارلیمنٹ کی مداخلت ہے، آرڈیننس سے سپریم کورٹ میں ون مین شو قائم ہوا۔</p>
<p>تاہم، چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں جسٹس منیب اختر کو دوبارہ شامل کر لیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1244994</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Oct 2024 16:43:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمرمہتابویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/26153153527b726.png?r=153212" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/26153153527b726.png?r=153212"/>
        <media:title>— فوٹو: ویب سائٹ / سپریم کورٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
