<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 16:24:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 16:24:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومتی حلقوں میں 27ویں آئینی ترمیم پر کوئی بات چیت نہیں کی گئی، عطا تارڑ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1245172/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے صرف میڈیا پر بازگشت سنی ہے، حکومت کے کسی اجلاس میں اور ہماری قانونی کمیٹیوں کے اندر آئینی ترمیم کا ذکر نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی نیوز چینل ’جیو‘ کے پروگرام ’ آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں بات کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومتی حلقوں میں کوئی ایسا معاملہ زیر غور نہیں آیا اور نہ ہی اس پر کوئی گفت و شنید کی گئی ہے، قیاس آرائیوں سے پرہیز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے چیف جسٹس کی تقرری کی گئی، پریکٹس اور پروسیجر میں بالکل واضح ہے کہ بینچ میں کون بیٹھے گا اور کس طرح فیصلہ سازی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کا مقصد قانونی اصلاحات کرنا ہے، اگر پارلیمان یہ سمجھے گا کہ مزید قانونی اصلاحات ہونی چاہئیں اور اس پر مشاورت کی ضرورت ہے تو اس کے اور بڑے پہلو ہیں جو زیر غور آسکتے ہیں، پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی اگر اپنا کام جاری رکھتی ہے تو یہ ملک کے لیے اور جمہوریت کے لیے خوش آئند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت کمیٹی میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس منصور علی شاہ کی شمولیت کے سوال پر عطا تارڑ نے کہا کہ چیف جسٹس کی تعیناتی آئینی اور قانونی طریقے کار کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بالکل واضح ہے، اس میں تمام طریقہ کار کو طے کیا گیا ہے، حکومت کو اس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہے، ہم اس ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پارلیمان نے ہی پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بنایا ہے جس کے تحت عدالت بااختیار ہے وہ  کمیٹی بنائے اور فیصلے کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244994"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت معاملات بڑے واضح ہیں، آئینی بینچ میں جانے سے وہ نہیں سمجھتے کہ کوئی جج  متنازع ہوجائے گا، آئینی بینچ کا مقصد یہی تھا کہ کوئی جانبدار نہ رہے اور آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ 63 اے کے فیصلے میں آئین کو ری رائٹ کیا گیا، مخصوص نشستوں کا فیصلہ آیا اور بار بار آئین کو پامال کیا گیا جس کی وجہ سے آئینی بینچ بنایا گیا تاکہ آئین کو سامنے رکھتے ہوئے شفاف فیصلے کیے جاسکیں، آئینی بینچ کی تشکیل پارلیمان کی خودمختاری کو دیکھتے ہوئے کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آئینی ترمیم میں شامل تھی، ان کی جو شکایات تھی ان کو دور کیا گیا، پی ٹی آئی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے احتجاج کا اعلان کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اندرونی انتشار کا شکار ہے، بشریٰ بی بی کا اور علیمہ خان کا الگ گروپ ہے، اس گروپنگ کی وجہ سے پارٹی رہنما ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے صرف میڈیا پر بازگشت سنی ہے، حکومت کے کسی اجلاس میں اور ہماری قانونی کمیٹیوں کے اندر آئینی ترمیم کا ذکر نہیں کیا گیا۔</p>
<p>نجی نیوز چینل ’جیو‘ کے پروگرام ’ آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں بات کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومتی حلقوں میں کوئی ایسا معاملہ زیر غور نہیں آیا اور نہ ہی اس پر کوئی گفت و شنید کی گئی ہے، قیاس آرائیوں سے پرہیز کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے چیف جسٹس کی تقرری کی گئی، پریکٹس اور پروسیجر میں بالکل واضح ہے کہ بینچ میں کون بیٹھے گا اور کس طرح فیصلہ سازی ہوگی۔</p>
<p>پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کا مقصد قانونی اصلاحات کرنا ہے، اگر پارلیمان یہ سمجھے گا کہ مزید قانونی اصلاحات ہونی چاہئیں اور اس پر مشاورت کی ضرورت ہے تو اس کے اور بڑے پہلو ہیں جو زیر غور آسکتے ہیں، پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی اگر اپنا کام جاری رکھتی ہے تو یہ ملک کے لیے اور جمہوریت کے لیے خوش آئند ہے۔</p>
<p>پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت کمیٹی میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس منصور علی شاہ کی شمولیت کے سوال پر عطا تارڑ نے کہا کہ چیف جسٹس کی تعیناتی آئینی اور قانونی طریقے کار کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بالکل واضح ہے، اس میں تمام طریقہ کار کو طے کیا گیا ہے، حکومت کو اس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہے، ہم اس ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پارلیمان نے ہی پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بنایا ہے جس کے تحت عدالت بااختیار ہے وہ  کمیٹی بنائے اور فیصلے کرے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244994"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت معاملات بڑے واضح ہیں، آئینی بینچ میں جانے سے وہ نہیں سمجھتے کہ کوئی جج  متنازع ہوجائے گا، آئینی بینچ کا مقصد یہی تھا کہ کوئی جانبدار نہ رہے اور آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔</p>
<p>وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ 63 اے کے فیصلے میں آئین کو ری رائٹ کیا گیا، مخصوص نشستوں کا فیصلہ آیا اور بار بار آئین کو پامال کیا گیا جس کی وجہ سے آئینی بینچ بنایا گیا تاکہ آئین کو سامنے رکھتے ہوئے شفاف فیصلے کیے جاسکیں، آئینی بینچ کی تشکیل پارلیمان کی خودمختاری کو دیکھتے ہوئے کی جائے گی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آئینی ترمیم میں شامل تھی، ان کی جو شکایات تھی ان کو دور کیا گیا، پی ٹی آئی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے احتجاج کا اعلان کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اندرونی انتشار کا شکار ہے، بشریٰ بی بی کا اور علیمہ خان کا الگ گروپ ہے، اس گروپنگ کی وجہ سے پارٹی رہنما ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1245172</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Oct 2024 00:34:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/28234253a41ed78.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/28234253a41ed78.png"/>
        <media:title>پی ٹی آئی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے احتجاج کا اعلان کررہی ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
