<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 10:59:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 10:59:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وکی پیڈیا کو بھارت میں قانونی جنگ کا سامنا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1245405/</link>
      <description>&lt;p&gt;آن لائن مفت اور غیر تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے والی انسائیکلو پیڈیا ویب سائٹ ’وکی پیڈیا‘ کو بھارت میں قانونی جنگ کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکی پیڈیا کے خلاف بھارتی خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) نے 2 کروڑ ہتک عزت کا دعویٰ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے این آئی نے وکی پیڈیا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایجنسی سے متعلق پیج میں لکھا کہ ایشین نیوز انٹرنیشنل بھارتی حکومت کی پروپیگنڈا نیوز ایجنسی ہے، جس کے ذریعے حکومت کی جھوٹی خبریں مختلف ویب سائٹس پر بڑے پیمانے پر پھیلائی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cdrdydkypv7o"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; اے این آئی نے اگست 2024 میں دہلی ہائی کورٹ میں وکی پیڈیا کے خلاف 2 کروڑ بھارتی روپے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195776"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے نے اپنے مقدمے میں وکی پیڈیا پر اپنے خلاف غلط معلومات پھیلانے اور لوگوں کو گمراہ کرنے جیسے الزامات لگائے تھے اور مذکورہ کیس تاحال زیر سماعت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق وکی پیڈیا پر جرم ثابت ہونے پر اس پر بھارت میں ممکنہ طور پر پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے تصدیقی طور پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے این آئی کے الزامات پر وکی پیڈیا نے عدالت کو بتایا کہ ویب سائٹ پر دستیاب مواد یا مضامین پر انتظامیہ کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، اسے رضاکار شائع کرتے اور مواد سے متعلق حقائق کی تصدیق کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکی پیڈیا کے مؤقف کے بعد اے این آئی کی وکیل کی درخواست پر ویب سائٹ انتظامیہ نے مذکورہ مضمون لکھنے والے رضاکاروں کی معلومات فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکی پیڈیا کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ عدالت میں اے این آئی سے متعلق مضمون لکھنے والے رضاکاروں کی لفافہ بند معلومات فراہم کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آن لائن مفت اور غیر تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے والی انسائیکلو پیڈیا ویب سائٹ ’وکی پیڈیا‘ کو بھارت میں قانونی جنگ کا سامنا ہے۔</p>
<p>وکی پیڈیا کے خلاف بھارتی خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) نے 2 کروڑ ہتک عزت کا دعویٰ کردیا۔</p>
<p>اے این آئی نے وکی پیڈیا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایجنسی سے متعلق پیج میں لکھا کہ ایشین نیوز انٹرنیشنل بھارتی حکومت کی پروپیگنڈا نیوز ایجنسی ہے، جس کے ذریعے حکومت کی جھوٹی خبریں مختلف ویب سائٹس پر بڑے پیمانے پر پھیلائی جاتی ہیں۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cdrdydkypv7o"><strong>مطابق</strong></a> اے این آئی نے اگست 2024 میں دہلی ہائی کورٹ میں وکی پیڈیا کے خلاف 2 کروڑ بھارتی روپے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195776"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خبر رساں ادارے نے اپنے مقدمے میں وکی پیڈیا پر اپنے خلاف غلط معلومات پھیلانے اور لوگوں کو گمراہ کرنے جیسے الزامات لگائے تھے اور مذکورہ کیس تاحال زیر سماعت ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق وکی پیڈیا پر جرم ثابت ہونے پر اس پر بھارت میں ممکنہ طور پر پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے تصدیقی طور پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔</p>
<p>اے این آئی کے الزامات پر وکی پیڈیا نے عدالت کو بتایا کہ ویب سائٹ پر دستیاب مواد یا مضامین پر انتظامیہ کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، اسے رضاکار شائع کرتے اور مواد سے متعلق حقائق کی تصدیق کرتے ہیں۔</p>
<p>وکی پیڈیا کے مؤقف کے بعد اے این آئی کی وکیل کی درخواست پر ویب سائٹ انتظامیہ نے مذکورہ مضمون لکھنے والے رضاکاروں کی معلومات فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔</p>
<p>وکی پیڈیا کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ عدالت میں اے این آئی سے متعلق مضمون لکھنے والے رضاکاروں کی لفافہ بند معلومات فراہم کردی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1245405</guid>
      <pubDate>Thu, 31 Oct 2024 20:41:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/31175221e212b56.jpg?r=175324" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/31175221e212b56.jpg?r=175324"/>
        <media:title>— فوٹو: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
