<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Karachi</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 08:38:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 08:38:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: 14 سال پرانے پولیس اہلکاروں کے قتل اور اغوا کیس میں عزیر بلوچ بری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1245421/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس اہلکار سمیت 4 افراد کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ سمیت 3 ملزمان کو عدم ثبوت پر بری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر عزیر بلوچ، ریاض سرور اور شیر افسر کو بری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمان کے وکلا کے مطابق عزیر بلوچ و دیگر ملزمان کے خلاف استغاثہ کے پاس کوئی شواہد موجود نہیں تھے جس کی بنیاد پر عدالت نے انہیں بری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق 2010 میں پولیس اہلکار لالا امین، شیر افضل خان، غازی خان و دیگر کا قتل ہوا تھا، مقتولین کو میوہ شاہ قبرستان کے پاس سے دیگر ملزمان نے اغوا کرکے عزیر بلوچ کے حوالے کیا تھا، عزیر بلوچ نے اپنے ساتھیوں سکندر عرف سکو، سرور بلوچ اور اکبر بلوچ کے ساتھ مل کر قتل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ عزیر بلوچ اب تک 2 درجن سے زائد مقدمات میں بنیادی طور پر عدم ثبوت کی وجہ سے بری ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1239548"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 اگست کو کراچی کی ایک سیشن عدالت نے عزیر بلوچ اور ان کے ساتھی غفار ماما کو 15 سال پرانے پولیس مقابلے اور اقدام قتل کے کیس میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا تھا کہ استغاثہ عزیر بلوچ اور غفار ماما کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1196063"&gt;26 جنوری 2023&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کو ہنگامہ آرائی، پولیس پر حملے اور دہشت گردی سے متعلق 11 سال پرانے ایک اور مقدمے میں عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1193973/"&gt;17 دسمبر 2022&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کو کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کو مزید دو مقدمات میں بری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس اہلکار سمیت 4 افراد کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ سمیت 3 ملزمان کو عدم ثبوت پر بری کردیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر عزیر بلوچ، ریاض سرور اور شیر افسر کو بری کیا۔</p>
<p>ملزمان کے وکلا کے مطابق عزیر بلوچ و دیگر ملزمان کے خلاف استغاثہ کے پاس کوئی شواہد موجود نہیں تھے جس کی بنیاد پر عدالت نے انہیں بری کیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق 2010 میں پولیس اہلکار لالا امین، شیر افضل خان، غازی خان و دیگر کا قتل ہوا تھا، مقتولین کو میوہ شاہ قبرستان کے پاس سے دیگر ملزمان نے اغوا کرکے عزیر بلوچ کے حوالے کیا تھا، عزیر بلوچ نے اپنے ساتھیوں سکندر عرف سکو، سرور بلوچ اور اکبر بلوچ کے ساتھ مل کر قتل کیا تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ عزیر بلوچ اب تک 2 درجن سے زائد مقدمات میں بنیادی طور پر عدم ثبوت کی وجہ سے بری ہو چکے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1239548"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>7 اگست کو کراچی کی ایک سیشن عدالت نے عزیر بلوچ اور ان کے ساتھی غفار ماما کو 15 سال پرانے پولیس مقابلے اور اقدام قتل کے کیس میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا تھا۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا تھا کہ استغاثہ عزیر بلوچ اور غفار ماما کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1196063">26 جنوری 2023</a></strong> کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کو ہنگامہ آرائی، پولیس پر حملے اور دہشت گردی سے متعلق 11 سال پرانے ایک اور مقدمے میں عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کیا تھا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1193973/">17 دسمبر 2022</a></strong> کو کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کو مزید دو مقدمات میں بری کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1245421</guid>
      <pubDate>Thu, 31 Oct 2024 23:19:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/10/31211257c8f77d4.jpg?r=213812" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/10/31211257c8f77d4.jpg?r=213812"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
