<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 15:45:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 15:45:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس 5 نومبر کو طلب کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1245547/</link>
      <description>&lt;p&gt;چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا پہلا اجلاس 5 نومبر کو طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور اس کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل نو کے بعد یہ پہلا اجلاس ہوگا جب کہ دعویٰ کا کہنا ہے کہ اجلاس میں  آئینی بینچز کی تشکیل سے متعلق اہم پیش رفت متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/kgdBZrSZtTE?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے پہلے اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ  اور  نمائندہ پاکستان بار کونسل اختر حسین بھی شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245528"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے علاوہ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک، مسلم لیگ (ن) لیگ کے شیخ آفتاب احمد شرکت کریں گے، اجلاس میں پی ٹی آئی کے عمر ایوب اور شبلی فراز بھی شرکت کریں گے، اجلاس میں خاتون ممبر روشن خورشید بھی شرکت کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے اب سے کچھ دیر قبل ہی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جوڈیشل کمیشن کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے نام سپریم جوڈیشل کمیشن کو ارسال کیے تھے اور  اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوڈیشل کمیشن کے لیے قومی اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب، مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی شیخ آفتاب کو نامزد کیا گیا جب کہ خاتون نشست پر روشن خورشید بروچہ کو نامزد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، سینیٹ سے جوڈیشل کمیشن  کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فاروق نائیک اور پی ٹی آئی کے سینیٹر اور  اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نامزد کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق تمام نامزدگیاں سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کو بھجوا دی گئی ہیں جو سپریم کورٹ کو موصول ہوگئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان قومی اسمبلی نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کے بعد نام ارسال کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد جوڈیشل کمیشن میں 5 اراکین پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا ہے، پارلیمنٹ سے بھجوائے گئے ناموں میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ ہفتےکو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 26ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن سے نام طلب کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے 13 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کے سربراہ چیف جسٹس ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26ویں آئینی ترمیم کے مطابق 13 رکنی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوں گے، جب کہ عدالت عظمیٰ کے 3 سینیئر ترین ججز بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے اور آئینی بینچ کا سینیر ترین جج بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کے ارکان میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور کم از کم 15 سالہ تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245283"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 2 حکومتی اور 2 اپوزیشن ارکان بھی رکن ہوں گے، جب کہ سینیٹ میں ٹیکنوکریٹ الیکشن لڑنے کے لیے اہل خاتون یا غیر مسلم کو بھی 2 سال کے لیے جوڈیشل کمیشن کاحصہ بنایا جائے گا، اس رکن کا تقرر چیئرمین سینیٹ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ کا سب سے سینیئر جج ہی ملک کا چیف جسٹس ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کو سنیارٹی اصول کے تحت اگلا چیف جسٹس پاکستان بننا تھے تاہم 22 اکتوبر کو چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244926"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئینی ترمیم میں سب سے زیادہ ترامیم آرٹیکل 175-اے میں کی گئی ہیں، جو سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کی تقرری کے عمل سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوڈیشل کمیشن آف پاکستان دراصل سپریم کورٹ ہائی کورٹ، یا فیڈرل شریعت کورٹ کے ججوں کی ہر اسامی کے لیے اپنی نام زدگیوں کو 8 رکنی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتا تھا جو یہ نام وزیر اعظم کو اور پھر وہ صدر کو ارسال کرتے تھے تاہم ترمیم کے بعد کمیشن اب اپنی نامزدگیوں کو براہ راست وزیر اعظم کو بھیجے گا جو انہیں تقرری کے لیے صدر کو بھیجیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترمیم کے بعد خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں قومی اسمبلی سے 8 اور سینیٹ کے 4 ارکان شامل ہوں گے، سیاسی جماعتوں کو ارکان اسمبلی کی بنیاد پر کمیٹی میں متناسب نمائندگی حاصل ہو گی، جنہیں ان کے متعلقہ پارلیمانی لیڈر نامزد کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا پہلا اجلاس 5 نومبر کو طلب کرلیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور اس کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل نو کے بعد یہ پہلا اجلاس ہوگا جب کہ دعویٰ کا کہنا ہے کہ اجلاس میں  آئینی بینچز کی تشکیل سے متعلق اہم پیش رفت متوقع ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/kgdBZrSZtTE?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے پہلے اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین شرکت کریں گے۔</p>
<p>اجلاس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ  اور  نمائندہ پاکستان بار کونسل اختر حسین بھی شرکت کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245528"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کے علاوہ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک، مسلم لیگ (ن) لیگ کے شیخ آفتاب احمد شرکت کریں گے، اجلاس میں پی ٹی آئی کے عمر ایوب اور شبلی فراز بھی شرکت کریں گے، اجلاس میں خاتون ممبر روشن خورشید بھی شرکت کریں گی۔</p>
<p>یاد رہے اب سے کچھ دیر قبل ہی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جوڈیشل کمیشن کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے نام سپریم جوڈیشل کمیشن کو ارسال کیے تھے اور  اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا۔</p>
<p>جوڈیشل کمیشن کے لیے قومی اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب، مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی شیخ آفتاب کو نامزد کیا گیا جب کہ خاتون نشست پر روشن خورشید بروچہ کو نامزد کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>علاوہ ازیں، سینیٹ سے جوڈیشل کمیشن  کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فاروق نائیک اور پی ٹی آئی کے سینیٹر اور  اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نامزد کیے گئے۔</p>
<p>ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق تمام نامزدگیاں سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کو بھجوا دی گئی ہیں جو سپریم کورٹ کو موصول ہوگئی ہیں۔</p>
<p>ترجمان قومی اسمبلی نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کے بعد نام ارسال کیے۔</p>
<p>ترجمان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد جوڈیشل کمیشن میں 5 اراکین پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا ہے، پارلیمنٹ سے بھجوائے گئے ناموں میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ گزشتہ ہفتےکو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 26ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن سے نام طلب کیے تھے۔</p>
<p>سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے 13 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کے سربراہ چیف جسٹس ہوں گے۔</p>
<p>26ویں آئینی ترمیم کے مطابق 13 رکنی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوں گے، جب کہ عدالت عظمیٰ کے 3 سینیئر ترین ججز بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے اور آئینی بینچ کا سینیر ترین جج بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوگا۔</p>
<p>کمیشن کے ارکان میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور کم از کم 15 سالہ تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245283"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 2 حکومتی اور 2 اپوزیشن ارکان بھی رکن ہوں گے، جب کہ سینیٹ میں ٹیکنوکریٹ الیکشن لڑنے کے لیے اہل خاتون یا غیر مسلم کو بھی 2 سال کے لیے جوڈیشل کمیشن کاحصہ بنایا جائے گا، اس رکن کا تقرر چیئرمین سینیٹ کریں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ کا سب سے سینیئر جج ہی ملک کا چیف جسٹس ہوتا تھا۔</p>
<p>26ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کو سنیارٹی اصول کے تحت اگلا چیف جسٹس پاکستان بننا تھے تاہم 22 اکتوبر کو چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244926"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آئینی ترمیم میں سب سے زیادہ ترامیم آرٹیکل 175-اے میں کی گئی ہیں، جو سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کی تقرری کے عمل سے متعلق ہے۔</p>
<p>جوڈیشل کمیشن آف پاکستان دراصل سپریم کورٹ ہائی کورٹ، یا فیڈرل شریعت کورٹ کے ججوں کی ہر اسامی کے لیے اپنی نام زدگیوں کو 8 رکنی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتا تھا جو یہ نام وزیر اعظم کو اور پھر وہ صدر کو ارسال کرتے تھے تاہم ترمیم کے بعد کمیشن اب اپنی نامزدگیوں کو براہ راست وزیر اعظم کو بھیجے گا جو انہیں تقرری کے لیے صدر کو بھیجیں گے۔</p>
<p>ترمیم کے بعد خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں قومی اسمبلی سے 8 اور سینیٹ کے 4 ارکان شامل ہوں گے، سیاسی جماعتوں کو ارکان اسمبلی کی بنیاد پر کمیٹی میں متناسب نمائندگی حاصل ہو گی، جنہیں ان کے متعلقہ پارلیمانی لیڈر نامزد کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1245547</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Nov 2024 20:08:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکعمرمہتاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/02180909c0d81e0.jpg?r=181014" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/02180909c0d81e0.jpg?r=181014"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
