<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 16:44:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 16:44:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئی قانون سازی 26 ویں آئینی ترمیم کی توہین ہے، مولانا فضل الرحمٰن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1245669/</link>
      <description>&lt;p&gt;سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ  حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم 26 ویں آئینی ترمیم کی توہین اور جمہوریت کے چہرے پر کالک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  آرمی چیف کی مدت ملازمت میں اضافہ کرنا یا توسیع دینا انتظامی معاملات ہوتے ہیں، یہ ہر حکومت میں دیے گئے ہیں، گوکہ میں ذاتی طور پر اس کے حق میں نہیں ہوں لیکن پھر بھی ایک انتظامی معاملہ ہے، ہر حکومت اپنے اختیار کے تحت یہ فیصلہ کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایک نہیں تو دوسرے یا پھر تیسرے جنرل آئیں گے، ہمارے لیے تو سب جنرل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی شک کی بنیاد پر 90 روز اپنی تحویل میں رکھنے اور تحویل کی مدت میں اضافہ کرنا ملک میں سول مارشل لا قائم کرنے کے مترادف اور جمہوریت کے چہرے پر ایک دھبہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244344"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور ووٹ کو عزت دینے کے علمبردار  پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)  آج ایک ایسا ایکٹ پاس کر رہے ہیں جو اپنے ہاتھوں سے جمہوریت کے چہرے پر کالک لگانے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت کو سوچنا چاہیے کہ وہ 26 ویں آئینی ترمیم میں کن شقوں کو واپس لینے پر آمادہ ہوئی ہے، کیا آج کا ترمیمی ایکٹ آئین کے روح کے منافی نہیں ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سربراہ جے یو آئی (ف) نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ آئین کا تقاضہ ہوگا کہ کل آپ نے وہ سارے اختیارات واپس لیے جس سے جمہوریت کو خطرہ تھا؟  آج حکومت نے ایکٹ پاس کرکے اپنے ہی اس عمل کی نفی کی ہے، یہ آئین اور پارلیمنٹ کی توہین ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیر جے یو آئی (ف) نے کہا کہ اس سے قبل اسلام آباد کی حدود تک پاس کیے گئے وقف املاک ایکٹ کو جے یو آئی غیر شرعی قرار دے چکی ہے، یہ ہمارے جماعت کی نہیں امت کی اجتماعی رائے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے منظور کیے گئے غیر شرعی قانون اور سپریم کورٹ کی طرف سے کسی بھی غیر شرعی فیصلے کو نہیں مانیں گے، عدالت قران اور سنت کے مطابق فیصلے دینے کی پابند ہے، ہم جمہوری لوگ ہیں، آئینی جدوجہد جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ان کا اختلاف مختلف جماعتوں سے ہے لیکن اس کے ساتھ ان کے تعلقات بھی قائم ہیں اور تلخیاں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ اگر ہم پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے ساتھ تلخیوں کا خاتمہ کرکے  معمول کی سیاست کو بحال کرتے ہیں تو میرے خیال میں  یہ پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی کہلائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ  حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم 26 ویں آئینی ترمیم کی توہین اور جمہوریت کے چہرے پر کالک ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  آرمی چیف کی مدت ملازمت میں اضافہ کرنا یا توسیع دینا انتظامی معاملات ہوتے ہیں، یہ ہر حکومت میں دیے گئے ہیں، گوکہ میں ذاتی طور پر اس کے حق میں نہیں ہوں لیکن پھر بھی ایک انتظامی معاملہ ہے، ہر حکومت اپنے اختیار کے تحت یہ فیصلہ کرسکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایک نہیں تو دوسرے یا پھر تیسرے جنرل آئیں گے، ہمارے لیے تو سب جنرل ہیں۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی شک کی بنیاد پر 90 روز اپنی تحویل میں رکھنے اور تحویل کی مدت میں اضافہ کرنا ملک میں سول مارشل لا قائم کرنے کے مترادف اور جمہوریت کے چہرے پر ایک دھبہ ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244344"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور ووٹ کو عزت دینے کے علمبردار  پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)  آج ایک ایسا ایکٹ پاس کر رہے ہیں جو اپنے ہاتھوں سے جمہوریت کے چہرے پر کالک لگانے کے مترادف ہے۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت کو سوچنا چاہیے کہ وہ 26 ویں آئینی ترمیم میں کن شقوں کو واپس لینے پر آمادہ ہوئی ہے، کیا آج کا ترمیمی ایکٹ آئین کے روح کے منافی نہیں ہے؟</p>
<p>سربراہ جے یو آئی (ف) نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ آئین کا تقاضہ ہوگا کہ کل آپ نے وہ سارے اختیارات واپس لیے جس سے جمہوریت کو خطرہ تھا؟  آج حکومت نے ایکٹ پاس کرکے اپنے ہی اس عمل کی نفی کی ہے، یہ آئین اور پارلیمنٹ کی توہین ہے۔</p>
<p>امیر جے یو آئی (ف) نے کہا کہ اس سے قبل اسلام آباد کی حدود تک پاس کیے گئے وقف املاک ایکٹ کو جے یو آئی غیر شرعی قرار دے چکی ہے، یہ ہمارے جماعت کی نہیں امت کی اجتماعی رائے ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے منظور کیے گئے غیر شرعی قانون اور سپریم کورٹ کی طرف سے کسی بھی غیر شرعی فیصلے کو نہیں مانیں گے، عدالت قران اور سنت کے مطابق فیصلے دینے کی پابند ہے، ہم جمہوری لوگ ہیں، آئینی جدوجہد جاری رکھیں گے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ان کا اختلاف مختلف جماعتوں سے ہے لیکن اس کے ساتھ ان کے تعلقات بھی قائم ہیں اور تلخیاں نہیں ہیں۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ اگر ہم پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے ساتھ تلخیوں کا خاتمہ کرکے  معمول کی سیاست کو بحال کرتے ہیں تو میرے خیال میں  یہ پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی کہلائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1245669</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Nov 2024 23:02:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/04182746c51e147.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/04182746c51e147.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
