<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 28 May 2026 17:47:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 28 May 2026 17:47:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوئٹزرلینڈ: برقع پہننے پر ایک ہزار ڈالر سے زائد جرمانہ، پابندی کا اطلاق اگلے سال سے ہوگا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1245913/</link>
      <description>&lt;p&gt;سوئس حکومت کی جانب سے عوامی مقامات پر چہرے کو ڈھانپنے سے متعلق متنازع قانون  (برقع پر پابندی) کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق 2021 میں سوئٹرزلینڈ میں ایک ریفرنڈم میں منظور کیے جانے والے اس قانون کی مسلم تنطیموں نے مذمت کی تھی، اس اقدام کا آغاز 2009 میں نئے میناروں کی تعمیر پر پابندی لگانے والے گروپ نے کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئس حکومت کی گورننگ فیڈرل کونسل کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس نے برقع پر پابندی کو عملی طور پر نافذ العمل کرنے کی تاریخ طے کرلی ہے اور جو بھی اس پابندی کی خلاف ورزی کرے گا اس پر ایک ہزار سوئس فرانک (1144 ڈالر) تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1189581"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق اس پابندی کا اطلاق ہوائی جہازوں، سفارتی یا قونصلر خانے کی حدود پر نہیں ہوگا جبکہ عبادت گاہوں یا دیگر مقدس مقامات پر بھی چہرہ ڈھانپا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متنازہ قانون میں چہرے کو ڈھانپنے کی اجازت صحت، حفاظت سے متعلق وجوہات اور مقامی رسم و رواج یا موسمی حالات کی وجہ سے رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چہرے کو ڈھانپنے کی اجازت فنکارانہ اور تفریحی بنیادوں پر اور اشتہارات کے لیے بھی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق اگر ذاتی تحفظ کے لیے چہرے کو ڈھانپنے کی ضرورت پیش آئے تو یہ متعلقہ حکام کی اجازت سے مشروط ہوگی بشرطیکہ امن عامہ کو کوئی خطرہ  لاحق نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ سال سوئٹزرلینڈ کی پارلیمان نے چہرے کو ڈھانپنے والے برقع اور نقاب کے پہننے پر پابندی سے متعلق قانون منظور کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سوئس حکومت کی جانب سے عوامی مقامات پر چہرے کو ڈھانپنے سے متعلق متنازع قانون  (برقع پر پابندی) کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق 2021 میں سوئٹرزلینڈ میں ایک ریفرنڈم میں منظور کیے جانے والے اس قانون کی مسلم تنطیموں نے مذمت کی تھی، اس اقدام کا آغاز 2009 میں نئے میناروں کی تعمیر پر پابندی لگانے والے گروپ نے کیا تھا۔</p>
<p>سوئس حکومت کی گورننگ فیڈرل کونسل کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس نے برقع پر پابندی کو عملی طور پر نافذ العمل کرنے کی تاریخ طے کرلی ہے اور جو بھی اس پابندی کی خلاف ورزی کرے گا اس پر ایک ہزار سوئس فرانک (1144 ڈالر) تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1189581"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان کے مطابق اس پابندی کا اطلاق ہوائی جہازوں، سفارتی یا قونصلر خانے کی حدود پر نہیں ہوگا جبکہ عبادت گاہوں یا دیگر مقدس مقامات پر بھی چہرہ ڈھانپا جاسکتا ہے۔</p>
<p>متنازہ قانون میں چہرے کو ڈھانپنے کی اجازت صحت، حفاظت سے متعلق وجوہات اور مقامی رسم و رواج یا موسمی حالات کی وجہ سے رہے گی۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چہرے کو ڈھانپنے کی اجازت فنکارانہ اور تفریحی بنیادوں پر اور اشتہارات کے لیے بھی ہوگی۔</p>
<p>بیان کے مطابق اگر ذاتی تحفظ کے لیے چہرے کو ڈھانپنے کی ضرورت پیش آئے تو یہ متعلقہ حکام کی اجازت سے مشروط ہوگی بشرطیکہ امن عامہ کو کوئی خطرہ  لاحق نہ ہو۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ سال سوئٹزرلینڈ کی پارلیمان نے چہرے کو ڈھانپنے والے برقع اور نقاب کے پہننے پر پابندی سے متعلق قانون منظور کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1245913</guid>
      <pubDate>Thu, 07 Nov 2024 18:11:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/071718435bfa0c0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/071718435bfa0c0.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
