<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Kashmir</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 23:40:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 23:40:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1246017/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرنے کے 2019 کے متنازع فیصلے کی بھرپور حمایت کی اور وادی کے نومنتخب قانون سازوں کی جانب سے اس کی بحالی کے مطالبے کو مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی کا کہنا تھاکہ ’مقبوضہ کشمیر میں صرف باباصاحب امبیڈکر کا آئین چلے گا، دنیا کی کوئی طاقت مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 بحال نہیں کرا سکتی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی نے یہ بات مغربی ریاست مہاراشٹر میں ریاستی انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران کہی، جہاں سے باباصاحب امبیڈکر کا تعلق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 6 نومبر 2024 کو مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نےکثرت رائے سے منظور کردہ قرارداد میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی قابض حکومت سے 2019 میں یکطرفہ طور پر منسوخ کی گئی مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون ساز اسمبلی میں اکثریت سے منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ’ یہ اسمبلی بھارتی حکومت کو مقبوضہ کشمیر کے منتخب نمائندوں کے ساتھ وادی کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے بات چیت شروع کرنے پر زور دیتی ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108251/"&gt;&lt;strong&gt;5 اگست 2019&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو بھارتی صدر نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بتایا گیا تھا کہ خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرنے کے 2019 کے متنازع فیصلے کی بھرپور حمایت کی اور وادی کے نومنتخب قانون سازوں کی جانب سے اس کی بحالی کے مطالبے کو مسترد کردیا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی کا کہنا تھاکہ ’مقبوضہ کشمیر میں صرف باباصاحب امبیڈکر کا آئین چلے گا، دنیا کی کوئی طاقت مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 بحال نہیں کرا سکتی‘۔</p>
<p>نریندر مودی نے یہ بات مغربی ریاست مہاراشٹر میں ریاستی انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران کہی، جہاں سے باباصاحب امبیڈکر کا تعلق تھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ 6 نومبر 2024 کو مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نےکثرت رائے سے منظور کردہ قرارداد میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی قابض حکومت سے 2019 میں یکطرفہ طور پر منسوخ کی گئی مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>قانون ساز اسمبلی میں اکثریت سے منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ’ یہ اسمبلی بھارتی حکومت کو مقبوضہ کشمیر کے منتخب نمائندوں کے ساتھ وادی کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے بات چیت شروع کرنے پر زور دیتی ہے۔’</p>
<p>واضح رہے کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1108251/"><strong>5 اگست 2019</strong></a> کو بھارتی صدر نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیئے تھے۔</p>
<p>بتایا گیا تھا کہ خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا۔</p>
<p>مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1246017</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Nov 2024 23:19:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/0823155843daf9e.jpg?r=231611" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/0823155843daf9e.jpg?r=231611"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
