<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 12:41:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 12:41:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ بدھ کو ایران کا دورہ کریں گے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1246109/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے سربراہ رافیل گروسی آئندہ چند روز میں سرکاری حکام کے ساتھ بات چیت کے لیے ایران کا دورہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘  نے ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ’ارنا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سرکاری دورے پر بدھ کو ایران پہنچیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی کے مطابق، ایران میں رافیل گروسی کی سرکاری ملاقاتیں جمعرات کو ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رافیل گروسی نے آخری دفعہ مئی میں ایران کے دورے کے دوران اصفہان میں ہونے والی نیوز کانفرنس میں ایران کے جوہری پروگرام کو تقویت دینے کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ دورہ حالیہ امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246098"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ اپنے پہلے دور حکومت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر واشنگٹن کو ایک اہم جوہری معاہدے سے الگ کیا تھا جس کا مقصد پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران کے جوہری پروگرام پر قدغن لگانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، یورپی یونین کی جانب سے واشنگٹن کو دوبارہ شامل کرنے اور تہران کو دوبارہ معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے کے لیے کی جانے والی کوششیں ناکام ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران بھی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوگیا تھا جبکہ معاہدے کی تعمیل کی وجہ سے تہران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان مسقتل تناؤ کی صورتحال برقرار رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں عہدہ سنبھالنے والے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے معاہدے کو بحال کرنے کی حمایت کی ہے اور اپنے ملک کی تنہائی کو ختم کرنے پر زور دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر رواں ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ وہ ایران کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کریں گے لیکن ایران جوہری ہتھیار  نہیں رکھ سکتا۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، ایرانی نائب صدر محمد جواد ظریف نے ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی پچھلے دور صدارت میں ایران کے خلاف اختیار کی جانے والی ’زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی میں تبدیلی پر زور دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے سربراہ رافیل گروسی آئندہ چند روز میں سرکاری حکام کے ساتھ بات چیت کے لیے ایران کا دورہ کریں گے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘  نے ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ’ارنا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سرکاری دورے پر بدھ کو ایران پہنچیں گے۔</p>
<p>ایجنسی کے مطابق، ایران میں رافیل گروسی کی سرکاری ملاقاتیں جمعرات کو ہوں گی۔</p>
<p>رافیل گروسی نے آخری دفعہ مئی میں ایران کے دورے کے دوران اصفہان میں ہونے والی نیوز کانفرنس میں ایران کے جوہری پروگرام کو تقویت دینے کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیا تھا۔</p>
<p>ان کا یہ دورہ حالیہ امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246098"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ اپنے پہلے دور حکومت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر واشنگٹن کو ایک اہم جوہری معاہدے سے الگ کیا تھا جس کا مقصد پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران کے جوہری پروگرام پر قدغن لگانا تھا۔</p>
<p>دریں اثنا، یورپی یونین کی جانب سے واشنگٹن کو دوبارہ شامل کرنے اور تہران کو دوبارہ معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے کے لیے کی جانے والی کوششیں ناکام ہوگئی تھی۔</p>
<p>ایران بھی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوگیا تھا جبکہ معاہدے کی تعمیل کی وجہ سے تہران اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان مسقتل تناؤ کی صورتحال برقرار رہی تھی۔</p>
<p>جولائی میں عہدہ سنبھالنے والے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے معاہدے کو بحال کرنے کی حمایت کی ہے اور اپنے ملک کی تنہائی کو ختم کرنے پر زور دیا ہے۔</p>
<p>ادھر رواں ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ وہ ایران کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کریں گے لیکن ایران جوہری ہتھیار  نہیں رکھ سکتا۔’</p>
<p>دوسری طرف، ایرانی نائب صدر محمد جواد ظریف نے ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی پچھلے دور صدارت میں ایران کے خلاف اختیار کی جانے والی ’زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی میں تبدیلی پر زور دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1246109</guid>
      <pubDate>Sun, 10 Nov 2024 19:10:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/10185958792eccb.png?r=190740" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/10185958792eccb.png?r=190740"/>
        <media:title>اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے سربراہ رافیل گروسی — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
