<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 12:55:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 12:55:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک بھر میں وی پی این سروسز میں تعطل، انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی کی شکایات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1246117/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں متعدد انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے انٹرنیٹ سروسز میں دشواری کے ساتھ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک ( وی پی این) تک محدود رسائی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ وی پی این اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب ملک میں کوئی ویب سائٹ یا ایپلی کیشن بند ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اٹھارٹی ( پی ٹی اے) نے وی پی این کے استعمال پر سختی شروع کردی تھی، جس کا مقصد پہلے سے پابندی کا شکار مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ’ایکس‘ تک رسائی کو محدود کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے روز پاکستان میں متعدد ایکس صارفین نے پلیٹ فارم پر لکھا کہ وی پی این کی رفتار کو کم کیا جارہا ہے اور اس کی رسائی کو  محدود کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/11/10221907c90e55f.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ اور ویب سائٹس کی بندش کو مانیٹر کرنے والی سائٹ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://downdetector.pk/search/?q=VPN"&gt;ڈاؤن ڈیٹیکٹر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق صارفین نے وی پی این سروسز  ’وی پی این انلمیٹڈ‘ اور ’ٹنل بیئر‘ پر  سروس میں تعطل کی شکایت کی، سائٹ پر درج کی گئی تمام شکایات کا تعلق ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورک سے کنیکٹ ہونے میں مشکلات کے حوالے سے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243526"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویب سائٹ پر موجود گراف میں دیکھا گیا ہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://downdetector.pk/status/vpn-unlimited/"&gt;وی پی این ان لمیٹڈ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے صارفین سروسز  میں تعطل کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے جس میں 10 رپورٹس شام 6 بج کر 15 منٹ پر درج کی گئی ہیں، اسی طرح &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://downdetector.pk/status/tunnelbear/"&gt;ٹنل بیئر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے صارفین نے رات 7 بج کر 29 منٹ پر وی پی این کے حوالے سے شکایات درج کروائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان ڈاٹ کام نے پی ٹی اے سے سروس میں تعطل کے حوالے سے رابطہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ ایکس صارفین نے پاکستان میں اب بھی فعال وی پی این سروسز کی فہرستیں پوسٹ کرنا شروع کی ہیں جبکہ  ڈان ڈاٹ کام کے کچھ عملے کو بھی وی پی این کی سروسز سے کنیکٹ ہونے کے بعد مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/11/101957208a1c82d.png'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل سیکیورٹی کی ماہر فریحہ عزیز نے ڈان کو بتایا کہ انہیں وی پی این کلاؤڈ فیئر اور اوبوٹ سے کنیکٹ ہونے میں مشکلات درپیش آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈجیٹل ڈیجیٹل حقوق کے ماہر اور کارکن اسامہ خلجی نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے لوگوں سے کچھ لوگوں سے رابطہ کیا جنہوں نے وی پی این سروسز میں تعطل کا سامنا کرنے کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسامہ خلجی کا کہنا تھا کہ ’یہ اقدام ریاست کی جانب سے وی پی این پر پابندی لگانے اور شہریوں پر سخت سینسرشپ اور نگرانی نافذ کرنے کے منصوبے کے مطابق ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’اس سے کاروبار پر، خاص طور پر مالی اور ٹیکنالوجی سے متعلق صنعتوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں متعدد انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے انٹرنیٹ سروسز میں دشواری کے ساتھ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک ( وی پی این) تک محدود رسائی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ وی پی این اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب ملک میں کوئی ویب سائٹ یا ایپلی کیشن بند ہو۔</p>
<p>اگست میں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اٹھارٹی ( پی ٹی اے) نے وی پی این کے استعمال پر سختی شروع کردی تھی، جس کا مقصد پہلے سے پابندی کا شکار مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ’ایکس‘ تک رسائی کو محدود کرنا تھا۔</p>
<p>اتوار کے روز پاکستان میں متعدد ایکس صارفین نے پلیٹ فارم پر لکھا کہ وی پی این کی رفتار کو کم کیا جارہا ہے اور اس کی رسائی کو  محدود کیا جارہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/11/10221907c90e55f.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>انٹرنیٹ اور ویب سائٹس کی بندش کو مانیٹر کرنے والی سائٹ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://downdetector.pk/search/?q=VPN">ڈاؤن ڈیٹیکٹر</a></strong> کے مطابق صارفین نے وی پی این سروسز  ’وی پی این انلمیٹڈ‘ اور ’ٹنل بیئر‘ پر  سروس میں تعطل کی شکایت کی، سائٹ پر درج کی گئی تمام شکایات کا تعلق ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورک سے کنیکٹ ہونے میں مشکلات کے حوالے سے تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243526"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ویب سائٹ پر موجود گراف میں دیکھا گیا ہے کہ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://downdetector.pk/status/vpn-unlimited/">وی پی این ان لمیٹڈ</a></strong> کے صارفین سروسز  میں تعطل کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے جس میں 10 رپورٹس شام 6 بج کر 15 منٹ پر درج کی گئی ہیں، اسی طرح <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://downdetector.pk/status/tunnelbear/">ٹنل بیئر</a></strong> کے صارفین نے رات 7 بج کر 29 منٹ پر وی پی این کے حوالے سے شکایات درج کروائیں۔</p>
<p>ڈان ڈاٹ کام نے پی ٹی اے سے سروس میں تعطل کے حوالے سے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p>کچھ ایکس صارفین نے پاکستان میں اب بھی فعال وی پی این سروسز کی فہرستیں پوسٹ کرنا شروع کی ہیں جبکہ  ڈان ڈاٹ کام کے کچھ عملے کو بھی وی پی این کی سروسز سے کنیکٹ ہونے کے بعد مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/11/101957208a1c82d.png'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈیجیٹل سیکیورٹی کی ماہر فریحہ عزیز نے ڈان کو بتایا کہ انہیں وی پی این کلاؤڈ فیئر اور اوبوٹ سے کنیکٹ ہونے میں مشکلات درپیش آرہی ہیں۔</p>
<p>ڈجیٹل ڈیجیٹل حقوق کے ماہر اور کارکن اسامہ خلجی نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے لوگوں سے کچھ لوگوں سے رابطہ کیا جنہوں نے وی پی این سروسز میں تعطل کا سامنا کرنے کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>اسامہ خلجی کا کہنا تھا کہ ’یہ اقدام ریاست کی جانب سے وی پی این پر پابندی لگانے اور شہریوں پر سخت سینسرشپ اور نگرانی نافذ کرنے کے منصوبے کے مطابق ہے۔‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’اس سے کاروبار پر، خاص طور پر مالی اور ٹیکنالوجی سے متعلق صنعتوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1246117</guid>
      <pubDate>Sun, 10 Nov 2024 23:43:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/102204253b1269c.jpg?r=221122" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/102204253b1269c.jpg?r=221122"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
