<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 11:00:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 11:00:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا پاکستانی اسکریبل پلیئرز کو ویزے دینے سے انکار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1246181/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ہائی کمیشن نے زیادہ تر پاکستانی اسکریبل کھلاڑیوں کو ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘  کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.app.com.pk/sports/pakistan-scrabble-team-denied-visas/"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ویزے نہ ملنے کے سبب ایشیا یوتھ اسکریبل چیمپئن شپ کے لیے پاکستان ٹیم ٹائٹل کے دفاع سے محروم ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسکریبل ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر طارق پیریز  نے بتایا کہ 2 ماہ قبل درخواستیں جمع کروانے کے باوجود بھارتی ہائی کمیشن نے تاخیر سے پروسیس کیا، جبکہ کچھ پلیئرز کو آخری لمحات میں ویزے دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ نصف ٹیم کو بغیر وضاحت کے ویزے دینے سے انکار کیا گیا، اس میں وہ کھلاڑی بھی شامل ہیں، جنہوں نے 2022 میں بھارت میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق پیریز کا کہنا تھا کہ موجودہ ورلڈ یوتھ چیمپئنز اور دفاعی ایشین یوتھ ٹائٹل ہولڈرز کی حیثیت سے پاکستان کی غیر موجودگی ایک اہم دھچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ٹیم ویزے ملنے کی امید کے ساتھ لاہور آئی لیکن اب مایوس ہو کر واپس کراچی لوٹ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسکریبل ایسوسی ایشن نے بھارت کی جانب سے کھیلوں کی اسپرٹ برقرار رکھنے میں ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم اب مزید سازگار نتائج کی امید کے ساتھ آنے والے بین الاقوامی مقابلوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے 16 سالہ عفان سلمان ستمبر میں سری لنکا میں ہونے والی 19ویں ورلڈ یوتھ اسکریبل چیمپئن شپ 2024 جیت چکے ہیں، پاکستانی ٹیم نے ٹرافی بھی جیتی اور نمبر ون رینکنگ ٹیم ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا جبکہ 4 کھلاڑیوں میں ٹاپ 10 میں جگہ بنائی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ہائی کمیشن نے زیادہ تر پاکستانی اسکریبل کھلاڑیوں کو ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘  کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.app.com.pk/sports/pakistan-scrabble-team-denied-visas/">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ویزے نہ ملنے کے سبب ایشیا یوتھ اسکریبل چیمپئن شپ کے لیے پاکستان ٹیم ٹائٹل کے دفاع سے محروم ہوگئی ہے۔</p>
<p>پاکستان اسکریبل ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر طارق پیریز  نے بتایا کہ 2 ماہ قبل درخواستیں جمع کروانے کے باوجود بھارتی ہائی کمیشن نے تاخیر سے پروسیس کیا، جبکہ کچھ پلیئرز کو آخری لمحات میں ویزے دیے گئے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ نصف ٹیم کو بغیر وضاحت کے ویزے دینے سے انکار کیا گیا، اس میں وہ کھلاڑی بھی شامل ہیں، جنہوں نے 2022 میں بھارت میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی تھی۔</p>
<p>طارق پیریز کا کہنا تھا کہ موجودہ ورلڈ یوتھ چیمپئنز اور دفاعی ایشین یوتھ ٹائٹل ہولڈرز کی حیثیت سے پاکستان کی غیر موجودگی ایک اہم دھچکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ٹیم ویزے ملنے کی امید کے ساتھ لاہور آئی لیکن اب مایوس ہو کر واپس کراچی لوٹ جائیں گے۔</p>
<p>پاکستان اسکریبل ایسوسی ایشن نے بھارت کی جانب سے کھیلوں کی اسپرٹ برقرار رکھنے میں ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم اب مزید سازگار نتائج کی امید کے ساتھ آنے والے بین الاقوامی مقابلوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔</p>
<p>پاکستان کے 16 سالہ عفان سلمان ستمبر میں سری لنکا میں ہونے والی 19ویں ورلڈ یوتھ اسکریبل چیمپئن شپ 2024 جیت چکے ہیں، پاکستانی ٹیم نے ٹرافی بھی جیتی اور نمبر ون رینکنگ ٹیم ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا جبکہ 4 کھلاڑیوں میں ٹاپ 10 میں جگہ بنائی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1246181</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Nov 2024 20:56:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/1120510384a5e1d.jpg?r=205113" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/1120510384a5e1d.jpg?r=205113"/>
        <media:title>— فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
