<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 09:29:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 09:29:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین: ژوہائی میں تیز رفتار گاڑی ہجوم پر چڑھ گئی، 35 افراد ہلاک، 43 زخمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1246260/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین کے جنوبی شہر ژوہائی میں ایک تیز رفتار گاڑی اسپورٹس سینٹر کے باہر لوگوں پر چڑھ دوڑی جس کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک اور 43 زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے رائٹرز نے پولیس حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی شام کو پیش آیا، جب ایک چھوٹی آف روڈ گاڑی شہر کے اسپورٹس سینٹر کے باہر ورزش کرنے والی لوگوں کی ایک بڑی تعداد پر چڑھ دوڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ژوہائی پولیس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ 62 سالہ فین نامی مشتبہ کار ڈرائیور اپنی کار میں چاقو سے خود کو زخمی کرنے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کی شام جائے وقوعہ پر موجود رائٹرز کے رپورٹر نے بتایا کہ ژوہائی کے اسپورٹس سینٹر کے باہر  لوگوں نے بڑی تعداد میں پھول رکھے جبکہ کچھ افراد نے مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی جانب سے تصدیق شدہ جائے وقوعہ کی ایک ویڈیو میں حادثے کے بعد کم از کم 20 لوگوں کو زمین پر لیٹے ہوئے دیکھا گیا جبکہ کچھ افراد کو دہشت گرد’ چلاتے سنا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی سرکاری میڈیا ’بیجنگ ڈیلی‘ کے مطابق ژوہائی شہر اور گوانگ ڈونگ صوبے سے سینکڑوں ریسکیو اہلکاروں کو ہنگامی طبی امداد کی فراہمی کے لیے تعینات کیا گیا  جبکہ پانچ اسپتالوں کے 300 سے زائد طبی عملے نے جانیں بچانے کے لیے دن رات کام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ  ڈرائیور کو واقعہ کے بعد فرار ہونے سے قبل ہی گرفتار کرلیا تھا، مزید بتایا کہ ڈرائیور نے خود کو ایک چاقو سے زخمی کیا تھا جس کے نتیجے میں اس کی گردن پر شدید چوٹیں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے اس بات کا پتا چلا ہے کہ واقعہ طلاق کے بعد ناراضگی کی وجہ سے پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی سرکاری میڈیا ’سی سی ٹی وی‘ نے صدر شی جن پنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور مجرم کو سخت سزا دینے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/china/beijing-stabbing-wounds-five-rare-knife-assault-chinese-police-say-2024-10-28/"&gt;اکتوبر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں چینی دارالحکومت بیجنگ میں چاقو کے حملے کے نتیجے میں شہر کے ایک ممتاز پرائمری اسکول کے باہر 5 افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ اس سے ایک ماہ قبل شینزین میں ایک جاپانی طالب علم کو اس کے اسکول کے باہر چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین کے جنوبی شہر ژوہائی میں ایک تیز رفتار گاڑی اسپورٹس سینٹر کے باہر لوگوں پر چڑھ دوڑی جس کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک اور 43 زخمی ہوگئے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے رائٹرز نے پولیس حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی شام کو پیش آیا، جب ایک چھوٹی آف روڈ گاڑی شہر کے اسپورٹس سینٹر کے باہر ورزش کرنے والی لوگوں کی ایک بڑی تعداد پر چڑھ دوڑی۔</p>
<p>ژوہائی پولیس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ 62 سالہ فین نامی مشتبہ کار ڈرائیور اپنی کار میں چاقو سے خود کو زخمی کرنے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج ہے۔</p>
<p>منگل کی شام جائے وقوعہ پر موجود رائٹرز کے رپورٹر نے بتایا کہ ژوہائی کے اسپورٹس سینٹر کے باہر  لوگوں نے بڑی تعداد میں پھول رکھے جبکہ کچھ افراد نے مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کی۔</p>
<p>رائٹرز کی جانب سے تصدیق شدہ جائے وقوعہ کی ایک ویڈیو میں حادثے کے بعد کم از کم 20 لوگوں کو زمین پر لیٹے ہوئے دیکھا گیا جبکہ کچھ افراد کو دہشت گرد’ چلاتے سنا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چینی سرکاری میڈیا ’بیجنگ ڈیلی‘ کے مطابق ژوہائی شہر اور گوانگ ڈونگ صوبے سے سینکڑوں ریسکیو اہلکاروں کو ہنگامی طبی امداد کی فراہمی کے لیے تعینات کیا گیا  جبکہ پانچ اسپتالوں کے 300 سے زائد طبی عملے نے جانیں بچانے کے لیے دن رات کام کیا۔</p>
<p>پولیس نے بتایا کہ  ڈرائیور کو واقعہ کے بعد فرار ہونے سے قبل ہی گرفتار کرلیا تھا، مزید بتایا کہ ڈرائیور نے خود کو ایک چاقو سے زخمی کیا تھا جس کے نتیجے میں اس کی گردن پر شدید چوٹیں آئیں۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے اس بات کا پتا چلا ہے کہ واقعہ طلاق کے بعد ناراضگی کی وجہ سے پیش آیا۔</p>
<p>چینی سرکاری میڈیا ’سی سی ٹی وی‘ نے صدر شی جن پنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور مجرم کو سخت سزا دینے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/china/beijing-stabbing-wounds-five-rare-knife-assault-chinese-police-say-2024-10-28/">اکتوبر</a></strong> میں چینی دارالحکومت بیجنگ میں چاقو کے حملے کے نتیجے میں شہر کے ایک ممتاز پرائمری اسکول کے باہر 5 افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ اس سے ایک ماہ قبل شینزین میں ایک جاپانی طالب علم کو اس کے اسکول کے باہر چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1246260</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Nov 2024 20:55:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/12204505832b97b.jpg?r=204528" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/12204505832b97b.jpg?r=204528"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/122045398bba8a9.jpg?r=204546" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/122045398bba8a9.jpg?r=204546"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
