<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 18:45:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 18:45:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیمپئنز ٹرافی: بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث آئی سی سی کو قانونی چارہ جوئی کا خطرہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1246312/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے پاکستان آنے سے انکار کے بعد ایونٹ کے شیڈول کا اعلان تاخیر کا شکار ہے جب کہ مزید چند روز تک اعلان میں ناکامی پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ آئی سی سی نے ایونٹ سے قبل ’100 ڈیز ٹو گو‘ کے موقع پر ٹرافی کے شیڈول کا اعلان کرنے کا پروگرام بنایا تھا مگر حالیہ پاک ۔ بھارت ڈیڈ لاک کی وجہ سے اعلان نہیں کیا جاسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/X3rfuhHZ8Nk?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے مطابق آئی سی سی کو ایونٹ سے 90 روز قبل ہر صورت میں شیڈول کا اعلان کرنا ہے، 20 نومبر تک اعلان نہ کرنے کی صورت میں آئی سی سی کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ کمرشل پارٹنرز کو ایونٹ سے قبل کم از کم اتنا وقت درکار ہوتا ہے، کمرشل پارٹنر کو شیڈول کے مطابق اپنی مارکیٹنگ کرنا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246222"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ آئی سی سی کے لیے پاکستان اور  بھارت کے بغیر ٹورنامنٹ کا انعقاد کرنا ممکن نہیں ہے اور اس سے آئی سی سی کو شدید مالی نقصان ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اگر ایونٹ کو میزبان ملک سے کسی اور ملک منتقل کیا گیا تو پاکستان قانونی چارہ جوئی کا حق استعمال کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس  معاملے پر حکومتی ہدایت پر آئی سی سی کو &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1246222/"&gt;خط لکھا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; جس میں  بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کھیلنے پر انکار کے حوالے سے پاکستانی حکومت کے سخت مؤقف سے آگاہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی ون ڈے ورلڈکپ 1996 اور 2008 کے ایشیا کپ کے بعد پاکستان کو ایک عرصے بعد پہلی بار چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی ملی ہے، جس کے تمام میچز اگلے سال 19 فروری سے 19 مارچ تک پاکستان کے تین بڑے شہروں کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1237540"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے ایشیا کپ 2008 کے بعد سے پاکستان میں کوئی میچ نہیں کھیلا، جبکہ 13-2012 میں پاکستان کے دورہ بھارت کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی دو طرفہ سیریز بھی نہیں کھیلی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال بھی ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان کو ملی تھی لیکن بھارت نے پاکستان آنے سے صاف انکار کردیا تھا جس کے بعد ہائبرڈ ماڈل کے تحت بھارت کے تمام میچز سری لنکا میں شیڈول کیے گئے تھے، جہاں کولمبو میں کھیلے گئے فائنل میں بھارت نے آسانی سے سری لنکا کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس چیمپئنز ٹرافی میں دفاعی چیمپئن کے طور پر شریک ہوگا، آخری بار چیمپئنز ٹرافی 2017 میں ہوئی تھی جو پاکستان نے سرفراز احمد کی قیادت میں جیتی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے پاکستان آنے سے انکار کے بعد ایونٹ کے شیڈول کا اعلان تاخیر کا شکار ہے جب کہ مزید چند روز تک اعلان میں ناکامی پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ آئی سی سی نے ایونٹ سے قبل ’100 ڈیز ٹو گو‘ کے موقع پر ٹرافی کے شیڈول کا اعلان کرنے کا پروگرام بنایا تھا مگر حالیہ پاک ۔ بھارت ڈیڈ لاک کی وجہ سے اعلان نہیں کیا جاسکا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/X3rfuhHZ8Nk?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>معاہدے کے مطابق آئی سی سی کو ایونٹ سے 90 روز قبل ہر صورت میں شیڈول کا اعلان کرنا ہے، 20 نومبر تک اعلان نہ کرنے کی صورت میں آئی سی سی کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ کمرشل پارٹنرز کو ایونٹ سے قبل کم از کم اتنا وقت درکار ہوتا ہے، کمرشل پارٹنر کو شیڈول کے مطابق اپنی مارکیٹنگ کرنا ہوتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246222"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ آئی سی سی کے لیے پاکستان اور  بھارت کے بغیر ٹورنامنٹ کا انعقاد کرنا ممکن نہیں ہے اور اس سے آئی سی سی کو شدید مالی نقصان ہوگا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اگر ایونٹ کو میزبان ملک سے کسی اور ملک منتقل کیا گیا تو پاکستان قانونی چارہ جوئی کا حق استعمال کرے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس  معاملے پر حکومتی ہدایت پر آئی سی سی کو <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1246222/">خط لکھا</a></strong> جس میں  بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کھیلنے پر انکار کے حوالے سے پاکستانی حکومت کے سخت مؤقف سے آگاہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>آئی سی سی ون ڈے ورلڈکپ 1996 اور 2008 کے ایشیا کپ کے بعد پاکستان کو ایک عرصے بعد پہلی بار چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی ملی ہے، جس کے تمام میچز اگلے سال 19 فروری سے 19 مارچ تک پاکستان کے تین بڑے شہروں کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1237540"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارت نے ایشیا کپ 2008 کے بعد سے پاکستان میں کوئی میچ نہیں کھیلا، جبکہ 13-2012 میں پاکستان کے دورہ بھارت کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی دو طرفہ سیریز بھی نہیں کھیلی گئی ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال بھی ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان کو ملی تھی لیکن بھارت نے پاکستان آنے سے صاف انکار کردیا تھا جس کے بعد ہائبرڈ ماڈل کے تحت بھارت کے تمام میچز سری لنکا میں شیڈول کیے گئے تھے، جہاں کولمبو میں کھیلے گئے فائنل میں بھارت نے آسانی سے سری لنکا کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا تھا۔</p>
<p>پاکستان اس چیمپئنز ٹرافی میں دفاعی چیمپئن کے طور پر شریک ہوگا، آخری بار چیمپئنز ٹرافی 2017 میں ہوئی تھی جو پاکستان نے سرفراز احمد کی قیادت میں جیتی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1246312</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Nov 2024 15:59:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/131508322c3453f.png?r=150909" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/131508322c3453f.png?r=150909"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/1315080514df312.png?r=150909" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/1315080514df312.png?r=150909"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
