<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 16 May 2026 23:56:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 16 May 2026 23:56:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں امریکی مداخلت سے متعلق دفتر خارجہ سے منسوب بیان مسترد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1246560/</link>
      <description>&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے مقامی انگریزی اخبار میں اپنے ترجمان سے منسوب پاکستان میں امریکا کی مداخلت سے متعلق بیان کو مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ  نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ متعلقہ اخبار کی  انتظامیہ کے ساتھ  ان کے ادارتی معیار اور صحافتی اخلاقیات پربات چیت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ میڈیا دفتر خارجہ سے منسوب خبر شائع کرنے سے پہلے وزارت خارجہ سےتصدیق کرلیا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ آج ایک انگریزی اخبار  نے رپورٹ کیا تھا کہ حکومت پاکستان، امریکی قانون سازوں کی جانب سے صدر جوبائیڈن کو لکھے گئے خط کو  کوئی اہمیت نہیں دیتی اور اس نے خط کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246554"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1246554/"&gt;جمعہ کو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;  50 کے قریب امریکی قانون سازوں نے خط لکھ کر امریکی صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 20 جنوری کو اپنی مدت صدارت ختم ہونے سے پہلے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ عمران خان کے ساتھ دیگر سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;46 ڈیموکریٹ اور ریپبلکن قانون سازوں کی طرف سے بھیجا جانے والا یہ خط ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں اس طرح کا دوسرا مراسلہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں فروری 2024 کے انتخابات کے بعد پاکستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی  صورتحال کو اجاگر کیا گیا جب کہ یہ انتخابات  مبینہ طور پر متنازع اور  وسیع پیمانے پر بے ضابطگیوں، انتخابی دھوکا دہی، اور پی ٹی آئی پر ریاستی دباؤ سے متاثرہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں الزام لگایا گیا کہ پاکستانی حکام نے انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کے حق میں رائے دہی سے محروم کیا گیا، دھاندلی کرکے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کے حق میں جانے والے نتائج کو تبدیل کیا گیا اور کامن ویلتھ آبزرور گروپ اور یورپی یونین جیسی عالمی تنظیموں سے متعلق الیکشن مانیٹرنگ رپورٹس کو دبایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کیا گیا کہ انتخابات کے بعد سے شہری آزادیوں، خاص طور پر اظہار رائے کی آزادی پر بے انتہا پابندیوں کے باعث صورتحال مزید خراب ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں انٹرنیٹ تک رسائی کو سست کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، بغیر قانونی جواز کے حراستوں اور ڈی فیکٹو فائر وال کے استعمال پر تنقید کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون سازوں کے خط  میں اپیل کا مرکز  عمران خان کی گرفتاری تھی، اس میں کہا گیا کہ عمران  خان کو پاکستان کی  مقبول ترین سیاسی شخصیت سمجھا جاتا ہے جن کی گرفتاری پر عالمی سطح پر تنقید کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا کہ ہم فوری طور پر امریکی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کی حمایت کرے، قانون سازوں نے اقوام متحدہ کی سفارشات کے مطابق ان قیدیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکمران مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے خط کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دفتر خارجہ نے مقامی انگریزی اخبار میں اپنے ترجمان سے منسوب پاکستان میں امریکا کی مداخلت سے متعلق بیان کو مسترد کردیا۔</p>
<p>ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ  نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ متعلقہ اخبار کی  انتظامیہ کے ساتھ  ان کے ادارتی معیار اور صحافتی اخلاقیات پربات چیت کر رہے ہیں۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ میڈیا دفتر خارجہ سے منسوب خبر شائع کرنے سے پہلے وزارت خارجہ سےتصدیق کرلیا کرے۔</p>
<p>یاد رہے کہ آج ایک انگریزی اخبار  نے رپورٹ کیا تھا کہ حکومت پاکستان، امریکی قانون سازوں کی جانب سے صدر جوبائیڈن کو لکھے گئے خط کو  کوئی اہمیت نہیں دیتی اور اس نے خط کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246554"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1246554/">جمعہ کو</a></strong>  50 کے قریب امریکی قانون سازوں نے خط لکھ کر امریکی صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 20 جنوری کو اپنی مدت صدارت ختم ہونے سے پہلے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ عمران خان کے ساتھ دیگر سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔</p>
<p>46 ڈیموکریٹ اور ریپبلکن قانون سازوں کی طرف سے بھیجا جانے والا یہ خط ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں اس طرح کا دوسرا مراسلہ تھا۔</p>
<p>خط میں فروری 2024 کے انتخابات کے بعد پاکستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی  صورتحال کو اجاگر کیا گیا جب کہ یہ انتخابات  مبینہ طور پر متنازع اور  وسیع پیمانے پر بے ضابطگیوں، انتخابی دھوکا دہی، اور پی ٹی آئی پر ریاستی دباؤ سے متاثرہ تھے۔</p>
<p>خط میں الزام لگایا گیا کہ پاکستانی حکام نے انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کے حق میں رائے دہی سے محروم کیا گیا، دھاندلی کرکے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کے حق میں جانے والے نتائج کو تبدیل کیا گیا اور کامن ویلتھ آبزرور گروپ اور یورپی یونین جیسی عالمی تنظیموں سے متعلق الیکشن مانیٹرنگ رپورٹس کو دبایا گیا۔</p>
<p>اس میں کیا گیا کہ انتخابات کے بعد سے شہری آزادیوں، خاص طور پر اظہار رائے کی آزادی پر بے انتہا پابندیوں کے باعث صورتحال مزید خراب ہو گئی۔</p>
<p>خط میں انٹرنیٹ تک رسائی کو سست کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، بغیر قانونی جواز کے حراستوں اور ڈی فیکٹو فائر وال کے استعمال پر تنقید کی گئی۔</p>
<p>قانون سازوں کے خط  میں اپیل کا مرکز  عمران خان کی گرفتاری تھی، اس میں کہا گیا کہ عمران  خان کو پاکستان کی  مقبول ترین سیاسی شخصیت سمجھا جاتا ہے جن کی گرفتاری پر عالمی سطح پر تنقید کی گئی ہے۔</p>
<p>خط میں کہا گیا کہ ہم فوری طور پر امریکی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کی حمایت کرے، قانون سازوں نے اقوام متحدہ کی سفارشات کے مطابق ان قیدیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور زور دیا۔</p>
<p>حکمران مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے خط کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1246560</guid>
      <pubDate>Sun, 17 Nov 2024 15:24:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/171156577035d19.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/171156577035d19.jpg"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
