<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Peshawar</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 01:03:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Apr 2026 01:03:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد دھڑا دھڑ قانون سازی کررہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1246578/</link>
      <description>&lt;p&gt;سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد دھڑا دھڑ قانون سازی کی جارہی ہے، آئینی ترمیم کی روح کی نفی کرنا قابل مذمت ہے، حکومت کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلور ہاؤس پشاور میں سابق سینیٹر الیاس بلور کی تعزیت کے بعد  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں سیکیورٹی کے معاملات بہت خراب ہیں، یہ معاملہ آج سے نہیں بلکہ گزشتہ 15 سال سے ہے جس کی وجہ سے صوبے کی عوام کرب سے گزر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف بلوچستان میں بھی یہی صورتحال ہے، حکومتی رٹ کہیں پر بھی نظر نہیں آرہی، حکومتیں عوام کی حفاظت پر توجہ مرکوز کرنے  کے بجائے اپنی سیاست پر ساری توانائیاں صرف کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے لیکن اختلاف کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے بعد ایسے بل لائے جارہے ہیں جو قانون کے ضمرے میں آتے ہیں اور انہیں دھڑا دھڑ منظور کیا جارہا ہے، 26 ویں آئینی ترمیم کی روح کی نفی کرنا قابل مذمت ہے، حکومت کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر 26 ویں آئینی ترمیم سے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق  شق نمبر 8 نکالنا اور اس کے بعد شق کی بنیاد پر کسی کو بھی گرفتار کرنے سے آج ہر پاکستانی پیدائشی طور پر مشکوک ہوگیا ہے، یہ چیزیں بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد دھڑا دھڑ قانون سازی کی جارہی ہے، آئینی ترمیم کی روح کی نفی کرنا قابل مذمت ہے، حکومت کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔</p>
<p>بلور ہاؤس پشاور میں سابق سینیٹر الیاس بلور کی تعزیت کے بعد  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں سیکیورٹی کے معاملات بہت خراب ہیں، یہ معاملہ آج سے نہیں بلکہ گزشتہ 15 سال سے ہے جس کی وجہ سے صوبے کی عوام کرب سے گزر رہی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف بلوچستان میں بھی یہی صورتحال ہے، حکومتی رٹ کہیں پر بھی نظر نہیں آرہی، حکومتیں عوام کی حفاظت پر توجہ مرکوز کرنے  کے بجائے اپنی سیاست پر ساری توانائیاں صرف کررہی ہیں۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے لیکن اختلاف کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔</p>
<p>سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے بعد ایسے بل لائے جارہے ہیں جو قانون کے ضمرے میں آتے ہیں اور انہیں دھڑا دھڑ منظور کیا جارہا ہے، 26 ویں آئینی ترمیم کی روح کی نفی کرنا قابل مذمت ہے، حکومت کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر 26 ویں آئینی ترمیم سے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق  شق نمبر 8 نکالنا اور اس کے بعد شق کی بنیاد پر کسی کو بھی گرفتار کرنے سے آج ہر پاکستانی پیدائشی طور پر مشکوک ہوگیا ہے، یہ چیزیں بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1246578</guid>
      <pubDate>Sun, 17 Nov 2024 19:54:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/171839138452910.jpg?r=185832" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/171839138452910.jpg?r=185832"/>
        <media:title>جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن— فائل فوٹو/ آئی این پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
