<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 21:21:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 21:21:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوئٹر سے مماثل پلیٹ فارم ’بلیو اسکائی‘ کی مقبولیت میں اچانک اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1246652/</link>
      <description>&lt;p&gt;مائکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) سے مماثلت رکھنے  والے  ڈی سینٹرلائزڈ مائکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ’بلیو اسکائی‘ کی مقبولیت میں اچانک اضافے نے سب کو حیران کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/c8dm0ljg4y6o"&gt;&lt;strong&gt;’بی بی سی‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق صرف گزشتہ ہفتے کے ایک ہی دن میں ’بلیو اسکائی‘ پر10 لاکھ نئے صارفین نے اکاؤنٹس بنائے اور مذکورہ اکاؤنٹس کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ اتنے اکاؤنٹ گزشتہ ایک سال میں بھی پلیٹ فارم پر نہیں بنائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cbsnews.com/news/what-is-bluesky-why-are-people-leaving-x-platform/"&gt;&lt;strong&gt;’سی بی ایس نیوز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ’بلیو اسکائی‘ کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) نے دعویٰ کیا ہے کہ ہر 15 منٹ میں پلیٹ فارم پر تقریباً 10 ہزار نئے اکاؤنٹس بنائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205846"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیران کن طور پر ’بلیو اسکائی‘ کی مقبولیت گزشتہ ہفتے اچانک اس وقت بڑھنا شروع ہوئی جب کچھ میڈیا کے اداروں سمیت معروف شخصیات نے ایکس یعنی ٹوئٹر کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک متعدد برطانوی، امریکی اور یورپی ممالک کے مختلف میڈیا ہاؤسز ایکس یعنی ٹوئٹر کو چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں جب کہ امریکا کے متعدد سیاست دان، سماجی رہنما اور صحافیوں نے بھی ایکس کے اکاؤنٹس کو غیر فعال کرنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا کے اداروں اور شخصیات کی جانب سے مذکورہ اعلانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب کہ امریکا میں ایکس کے مالک ایلون مسک کو نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم حکومتی عہدہ دینے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی مانے جاتے ہیں اور ان پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈا کو آگے بڑھانے پر بھی تنقید کا سامنا رہتا ہے، اسی وجہ سے بھی لوگوں اور اداروں نے ان کے پلیٹ فارم ایکس کو چھوڑنے کا اعلان کیا، جس کے بعد ’بلیو اسکائی‘ کی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بلیو اسکائی‘ تقریباً ایکس جیسا ہی پلیٹ فارم ہے، اس میں زیادہ تر وہی فیچرز ہیں جو کہ ٹوئٹر میں ہوتے تھے، تاہم فوری طور پر بلیو اسکائی میں ہیش ٹیگز جیسے مقبول فیچرز اچھی طرح کام نہیں کر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بلیو اسکائی‘ کو ڈی سینٹرلائزڈ رکھا گیا ہے، یعنی صارفین کی اپنی مرضی ہوگی کہ وہ اپنے اکاؤنٹ کا ڈیزائن کس طرح تیار کرتے ہیں اور ساتھ ہی انہیں یہ اختیار بھی ہوگا کہ وہ چاہیں تو اپنے اکاؤنٹ کا ڈیٹا بلیو اسکائی کے سرور کے بجائے اپنے سرور پر رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بلیو اسکائی‘ کو 2019 میں بنایا گیا تھا، تاہم اس کی آزمائش اپریل 2023 میں شروع کی گئی تھی، جس کے بعد فروری 2024 میں مذکورہ پلیٹ فارم کو متعارف کرایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ 10 ماہ میں بلیو اسکائی پر بنائے گئے اکاؤنٹس کی تعداد 10 لاکھ سے بھی کم تھی لیکن گزشتہ ایک ہفتے میں پلیٹ فارم پر 10 لاکھ سے زائد نئے اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اب ہر 15 منٹ میں بلیو اسکائی پر 10 ہزار نئے اکاؤنٹس بنائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مائکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) سے مماثلت رکھنے  والے  ڈی سینٹرلائزڈ مائکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ’بلیو اسکائی‘ کی مقبولیت میں اچانک اضافے نے سب کو حیران کردیا۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/c8dm0ljg4y6o"><strong>’بی بی سی‘</strong></a> کے مطابق صرف گزشتہ ہفتے کے ایک ہی دن میں ’بلیو اسکائی‘ پر10 لاکھ نئے صارفین نے اکاؤنٹس بنائے اور مذکورہ اکاؤنٹس کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ اتنے اکاؤنٹ گزشتہ ایک سال میں بھی پلیٹ فارم پر نہیں بنائے گئے تھے۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cbsnews.com/news/what-is-bluesky-why-are-people-leaving-x-platform/"><strong>’سی بی ایس نیوز‘</strong></a> کے مطابق ’بلیو اسکائی‘ کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) نے دعویٰ کیا ہے کہ ہر 15 منٹ میں پلیٹ فارم پر تقریباً 10 ہزار نئے اکاؤنٹس بنائے جا رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205846"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حیران کن طور پر ’بلیو اسکائی‘ کی مقبولیت گزشتہ ہفتے اچانک اس وقت بڑھنا شروع ہوئی جب کچھ میڈیا کے اداروں سمیت معروف شخصیات نے ایکس یعنی ٹوئٹر کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا۔</p>
<p>اب تک متعدد برطانوی، امریکی اور یورپی ممالک کے مختلف میڈیا ہاؤسز ایکس یعنی ٹوئٹر کو چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں جب کہ امریکا کے متعدد سیاست دان، سماجی رہنما اور صحافیوں نے بھی ایکس کے اکاؤنٹس کو غیر فعال کرنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>میڈیا کے اداروں اور شخصیات کی جانب سے مذکورہ اعلانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب کہ امریکا میں ایکس کے مالک ایلون مسک کو نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم حکومتی عہدہ دینے کا اعلان کیا۔</p>
<p>ایلون مسک نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی مانے جاتے ہیں اور ان پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈا کو آگے بڑھانے پر بھی تنقید کا سامنا رہتا ہے، اسی وجہ سے بھی لوگوں اور اداروں نے ان کے پلیٹ فارم ایکس کو چھوڑنے کا اعلان کیا، جس کے بعد ’بلیو اسکائی‘ کی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>’بلیو اسکائی‘ تقریباً ایکس جیسا ہی پلیٹ فارم ہے، اس میں زیادہ تر وہی فیچرز ہیں جو کہ ٹوئٹر میں ہوتے تھے، تاہم فوری طور پر بلیو اسکائی میں ہیش ٹیگز جیسے مقبول فیچرز اچھی طرح کام نہیں کر رہے۔</p>
<p>’بلیو اسکائی‘ کو ڈی سینٹرلائزڈ رکھا گیا ہے، یعنی صارفین کی اپنی مرضی ہوگی کہ وہ اپنے اکاؤنٹ کا ڈیزائن کس طرح تیار کرتے ہیں اور ساتھ ہی انہیں یہ اختیار بھی ہوگا کہ وہ چاہیں تو اپنے اکاؤنٹ کا ڈیٹا بلیو اسکائی کے سرور کے بجائے اپنے سرور پر رکھیں۔</p>
<p>’بلیو اسکائی‘ کو 2019 میں بنایا گیا تھا، تاہم اس کی آزمائش اپریل 2023 میں شروع کی گئی تھی، جس کے بعد فروری 2024 میں مذکورہ پلیٹ فارم کو متعارف کرایا گیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ 10 ماہ میں بلیو اسکائی پر بنائے گئے اکاؤنٹس کی تعداد 10 لاکھ سے بھی کم تھی لیکن گزشتہ ایک ہفتے میں پلیٹ فارم پر 10 لاکھ سے زائد نئے اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اب ہر 15 منٹ میں بلیو اسکائی پر 10 ہزار نئے اکاؤنٹس بنائے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1246652</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Nov 2024 21:08:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/18191915022c80f.jpg?r=191951" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/18191915022c80f.jpg?r=191951"/>
        <media:title>—فوٹو: NurPhoto Agency
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
