<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 19:24:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 19:24:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>24 نومبر کو احتجاج میں شرکت نہ کرنے والے رہنما خود کو پارٹی سے علیحدہ سمجھیں، عمران خان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1246735/</link>
      <description>&lt;p&gt;بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان نے 24 نومبر کے احتجاج میں شرکت سے قاصر رہنے والے رہنماؤں اور امیدواروں کو ’پارٹی سے علیحدہ تصور ہونے‘ کی ہدایت جاری کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ ہر شخص 24 نومبر کو  ہونے والے احتجاج میں شرکت کو یقینی بنائے، اگر کوئی بھی پی ٹی آئی رہنما یا امیدوار جلسے میں شرکت کی یقین دہانی نہیں کراسکتا تو خود کو پارٹی سے علیحدہ تصور کرلے کیونکہ یہی وہ فیصلہ کن وقت ہوگا جب پوری قوم آزادی کے لیے نکلے گی۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ’ قوم اس فیصلہ کن موقع پر کسی قسم کا بہانہ قبول نہیں کرے گی۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/11/19200259656f8ad.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان نے احتجاج کو پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ غلام قومیں آخر کار تباہ ہوجاتی ہیں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیراعظم نے 8 فروری کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’ وہ پوری قوم کو احتجاج میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں کیونکہ ملک میں جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکی جاچکی ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/11/1920032521f9d88.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کا کہنا تھا کہ’ 24 نومبر کو آپ سب اسی جوش اور ولولے کے ساتھ نکلیں جس کا مظاہرہ آپ نے 8 فروری کو کیا تھا جب آپ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اپنے ووٹ کی طاقت دکھانے کے لیے نکلے تھے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ملک میں جمہوریت کے بنیادی ستونوں قانون، صاف اور شفاف انتخابات اور آزادی اظہار پر قدغن کے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ’ میرے بیانات نشر کرنے پر مکمل پابندی ہے اور میڈیا کو بھی سخت نگرانی مین کام کرنا پڑ رہا ہے،مزید کہا کہ انٹرنیٹ سروسز میں تعطل کی وجہ سے ملک کو رواں سال 550 ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/11/1920032521f9d88.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں پی ٹی آئی ورکرز کی جبری گمشدگیوں، ان پر ہونے والے تشدد اور ظلم پر افسوس کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے واقعات ہمارے سیکیورٹی اداروں  کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/11/19200404af78762.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانی پی ٹی آئی کا اپنے پیغام میں مذاکرات کے حوالے سے کہنا تھا کہ’ میں ہمیشہ ملک کی خاطر بات چیت کے لیے تیار رہا ہوں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا تھا کہ’ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کسی سطح پر بھی مذاکرات نہیں ہورہے اور نہ ہوں گے، احتجاج کو کسی صورت نہیں ختم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246639"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا گزشتہ روز پی ٹی آئی نے چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی، آئین کی بحالی اور عمران خان کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب احتجاج کے پیش نظر حکومت نے سخت حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں 2 ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی جس کے تحت کسی بھی قسم کے مذہبی، سیاسی اجتماع پر پابندی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اسلام آباد پولیس نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے 40 ہزار آنسو گیس شیلز اور 2 ہزار ٹیئر گیس شیل خریدنے کا فیصلہ بھی کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے تحت 2500 بندوقوں کے ساتھ 50 ہزار ربڑ کی گولیاں بھی منگوائی جائیں گی، 5000 اینٹی رائٹیس کٹس بھی منگوا لی گئیں جب کہ رینجرز ایف سی پنجاب اور سندھ سمیت 22 ہزار جوان 24نومبر کو اسلام آباد تعینات ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ  پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے، سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے واضح کیا تھا کہ احتجاج میں رہنماؤں کی کارکردگی کی بنیاد پر اگلے عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بشریٰ بی بی نے پارٹی رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ احتجاج کے دوران گرفتاریوں سے بچیں جبکہ احتجاج کے لیے مؤثر تحریک اور وفاداری کی بنیاد پر ہی پی ٹی آئی میں ان کے مسقبل کا فیصلہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے متنبہ کیا تھا کہ کسی بھی رہنما کی پارٹی کے ساتھ دیرینہ وابستگی بھی انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کی ضمانت نہیں دے گی اگر وہ احتجاج کے دوران توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والا احتجاج آپ لوگوں کی پی ٹی آئی سے وفاداری کا امتحان ہے، ہمارا ہدف عمران خان کی رہائی کو یقینی بنانا ہے اور ہم ان کے بغیر اسلام آباد سے واپس نہیں آئیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان نے 24 نومبر کے احتجاج میں شرکت سے قاصر رہنے والے رہنماؤں اور امیدواروں کو ’پارٹی سے علیحدہ تصور ہونے‘ کی ہدایت جاری کردی۔</p>
<p>عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ ہر شخص 24 نومبر کو  ہونے والے احتجاج میں شرکت کو یقینی بنائے، اگر کوئی بھی پی ٹی آئی رہنما یا امیدوار جلسے میں شرکت کی یقین دہانی نہیں کراسکتا تو خود کو پارٹی سے علیحدہ تصور کرلے کیونکہ یہی وہ فیصلہ کن وقت ہوگا جب پوری قوم آزادی کے لیے نکلے گی۔’</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ’ قوم اس فیصلہ کن موقع پر کسی قسم کا بہانہ قبول نہیں کرے گی۔’</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/11/19200259656f8ad.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>عمران خان نے احتجاج کو پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ غلام قومیں آخر کار تباہ ہوجاتی ہیں۔’</p>
<p>سابق وزیراعظم نے 8 فروری کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’ وہ پوری قوم کو احتجاج میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں کیونکہ ملک میں جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکی جاچکی ہے۔’</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/11/1920032521f9d88.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>عمران خان کا کہنا تھا کہ’ 24 نومبر کو آپ سب اسی جوش اور ولولے کے ساتھ نکلیں جس کا مظاہرہ آپ نے 8 فروری کو کیا تھا جب آپ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اپنے ووٹ کی طاقت دکھانے کے لیے نکلے تھے۔’</p>
<p>انہوں نے ملک میں جمہوریت کے بنیادی ستونوں قانون، صاف اور شفاف انتخابات اور آزادی اظہار پر قدغن کے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ’ میرے بیانات نشر کرنے پر مکمل پابندی ہے اور میڈیا کو بھی سخت نگرانی مین کام کرنا پڑ رہا ہے،مزید کہا کہ انٹرنیٹ سروسز میں تعطل کی وجہ سے ملک کو رواں سال 550 ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔’</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/11/1920032521f9d88.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں پی ٹی آئی ورکرز کی جبری گمشدگیوں، ان پر ہونے والے تشدد اور ظلم پر افسوس کا اظہار کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے واقعات ہمارے سیکیورٹی اداروں  کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/11/19200404af78762.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>بانی پی ٹی آئی کا اپنے پیغام میں مذاکرات کے حوالے سے کہنا تھا کہ’ میں ہمیشہ ملک کی خاطر بات چیت کے لیے تیار رہا ہوں۔’</p>
<p>قبل ازیں، پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا تھا کہ’ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کسی سطح پر بھی مذاکرات نہیں ہورہے اور نہ ہوں گے، احتجاج کو کسی صورت نہیں ختم کیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246639"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دریں اثنا گزشتہ روز پی ٹی آئی نے چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی، آئین کی بحالی اور عمران خان کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب احتجاج کے پیش نظر حکومت نے سخت حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں 2 ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی جس کے تحت کسی بھی قسم کے مذہبی، سیاسی اجتماع پر پابندی ہوگی۔</p>
<p>ادھر اسلام آباد پولیس نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے 40 ہزار آنسو گیس شیلز اور 2 ہزار ٹیئر گیس شیل خریدنے کا فیصلہ بھی کرلیا ہے۔</p>
<p>فیصلے کے تحت 2500 بندوقوں کے ساتھ 50 ہزار ربڑ کی گولیاں بھی منگوائی جائیں گی، 5000 اینٹی رائٹیس کٹس بھی منگوا لی گئیں جب کہ رینجرز ایف سی پنجاب اور سندھ سمیت 22 ہزار جوان 24نومبر کو اسلام آباد تعینات ہوں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ  پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے، سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے واضح کیا تھا کہ احتجاج میں رہنماؤں کی کارکردگی کی بنیاد پر اگلے عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ دیا جائے گا۔</p>
<p>بشریٰ بی بی نے پارٹی رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ احتجاج کے دوران گرفتاریوں سے بچیں جبکہ احتجاج کے لیے مؤثر تحریک اور وفاداری کی بنیاد پر ہی پی ٹی آئی میں ان کے مسقبل کا فیصلہ ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے متنبہ کیا تھا کہ کسی بھی رہنما کی پارٹی کے ساتھ دیرینہ وابستگی بھی انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کی ضمانت نہیں دے گی اگر وہ احتجاج کے دوران توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والا احتجاج آپ لوگوں کی پی ٹی آئی سے وفاداری کا امتحان ہے، ہمارا ہدف عمران خان کی رہائی کو یقینی بنانا ہے اور ہم ان کے بغیر اسلام آباد سے واپس نہیں آئیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1246735</guid>
      <pubDate>Tue, 19 Nov 2024 20:07:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/19200559960db40.png?r=200628" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/19200559960db40.png?r=200628"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:  فوٹو بشکریہ فیس بُک/ عمران خان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
