<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 01:58:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 01:58:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ڈبلیو ڈبلیو ای‘ کی سابق سربراہ لنڈا میک میہن کو وزیر تعلیم نامزد کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1246814/</link>
      <description>&lt;p&gt;نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ (ڈبلیو ڈبلیو ای) کی سابق سربراہ لنڈا میک میہن کو محکمہ تعلیم کا سربراہ نامزد کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے  مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’گزشتہ چار سال سے امریکا فرسٹ پالیسی کے ادارے (اے ایف پی آئی) کی سربراہ لنڈا میک میہن  والدین کے حقوق کی بہت زیادہ حامی ہیں اور انہوں نے  ’اے ایف پی آئی‘ اور ’امریکا فرسٹ ورکس‘ میں محنت کرتے ہوئے 12 ریاستوں میں یونیورسل چوائس کے حصول کے لیے کام کیا تاکہ بچوں کو ان کے علاقے یا آمدنی سے قطع نظر معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نو منتخب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ’وہ پورے امریکا میں ’یونیورسل اسکول چوائس‘ کو پھیلانے کے لیے انتھک محنت کریں گی۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لنڈا میک میہن جو تجارت کی وزارت کے لیے زیر غور تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور میں چھوٹے کاروباروں کی نگرانی کے لیے قائم محکمے ’سمال بزنس ایڈمنسٹریشن‘ کی سربراہ رہ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246573"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ای کی شریک بانی اور سابق سربراہ نے 2019  میں ڈونلڈ ٹرمپ سے منسلک گروپ کی سربراہی کے لیے بطور چیئرمین ’سمال بزنس ایڈمنسٹریشن‘ سے مستعفی ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل انہیں پالیسی کا مسودہ تیار کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ایک عبوری ٹیم کی قیادت کے لیے منتخب کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لنڈا میک میہن وزیر تجارت کے عہدے کے لیے زیر غور تھیں، لیکن منگل کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے بجائے ان کی عبوری ٹیم کے شریک سربراہ، ہاورڈ لٹ نک کو اس عہدے کے لیے منتخب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لنڈا میک مہین اب اس ادارے کی سربراہی کریں گی جس کے بارے میں دونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ اسے ختم کر دیں گے، حالانکہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایسا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ (ڈبلیو ڈبلیو ای) کی سابق سربراہ لنڈا میک میہن کو محکمہ تعلیم کا سربراہ نامزد کرلیا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے  مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’گزشتہ چار سال سے امریکا فرسٹ پالیسی کے ادارے (اے ایف پی آئی) کی سربراہ لنڈا میک میہن  والدین کے حقوق کی بہت زیادہ حامی ہیں اور انہوں نے  ’اے ایف پی آئی‘ اور ’امریکا فرسٹ ورکس‘ میں محنت کرتے ہوئے 12 ریاستوں میں یونیورسل چوائس کے حصول کے لیے کام کیا تاکہ بچوں کو ان کے علاقے یا آمدنی سے قطع نظر معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔‘</p>
<p>نو منتخب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ’وہ پورے امریکا میں ’یونیورسل اسکول چوائس‘ کو پھیلانے کے لیے انتھک محنت کریں گی۔’</p>
<p>لنڈا میک میہن جو تجارت کی وزارت کے لیے زیر غور تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور میں چھوٹے کاروباروں کی نگرانی کے لیے قائم محکمے ’سمال بزنس ایڈمنسٹریشن‘ کی سربراہ رہ چکی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246573"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ای کی شریک بانی اور سابق سربراہ نے 2019  میں ڈونلڈ ٹرمپ سے منسلک گروپ کی سربراہی کے لیے بطور چیئرمین ’سمال بزنس ایڈمنسٹریشن‘ سے مستعفی ہوگئی تھی۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل انہیں پالیسی کا مسودہ تیار کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ایک عبوری ٹیم کی قیادت کے لیے منتخب کیا تھا۔</p>
<p>لنڈا میک میہن وزیر تجارت کے عہدے کے لیے زیر غور تھیں، لیکن منگل کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے بجائے ان کی عبوری ٹیم کے شریک سربراہ، ہاورڈ لٹ نک کو اس عہدے کے لیے منتخب کیا۔</p>
<p>لنڈا میک مہین اب اس ادارے کی سربراہی کریں گی جس کے بارے میں دونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ اسے ختم کر دیں گے، حالانکہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایسا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1246814</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Nov 2024 20:26:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/2020145706521a5.jpg?r=202403" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/2020145706521a5.jpg?r=202403"/>
        <media:title>لنڈا میک میہن — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
