<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style - Celebrity</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 00:05:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 01 Jul 2026 00:05:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برداشت کم ہونے کی وجہ سے طلاقیں زیادہ ہو رہی ہیں، حنا خواجہ بیات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1246962/</link>
      <description>&lt;p&gt;سینیئر اداکارہ حنا خواجہ بیات نے کہا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب مرد و خواتین میں برداشت کم ہونے کی وجہ سے زیادہ طلاقیں ہو رہی ہیں، تاہم خواتین کا مالی طور پر مستحکم ہونا بھی ایک سبب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حنا خواجہ بیات نے حال ہی میں ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=ZnQ1msoVUTc&amp;amp;t=1516s"&gt;&lt;strong&gt;پوڈکاسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں شرکت کی، جہاں انہوں نے طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں خواتین حد سے زیادہ باتیں برداشت کرتی تھیں جو کہ غلط تھا، ماضی میں خواتین کو اتنا زیادہ برداشت نہیں کرنا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1149521"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ماضی میں خواتین کو کسی چیز کا کوئی احساس نہیں تھا، اب خواتین کو معلوم ہوچکا ہےکہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیا برداشت نہیں کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حنا خواجہ بیات کے مطابق ماضی میں صرف عورتیں ہی برداشت کرتی تھیں لیکن اب دونوں طرف برداشت ختم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ذاتی طور پر وہ سمجھتی ہیں کہ مرد اور خواتین میں برداشت کے فقدان کی وجہ سے شادیاں جلد ٹوٹ رہی ہیں، دوسرا سبب خواتین کا معاشی طور پر خود مختار ہونا بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اب خواتین یہ بھی سمجھتی ہیں کہ ان کے پاس وسائل آگئے، ان کے پاس پیسے ہیں تو وہ چیزیں برداشت نہیں کرتیں لیکن ماضی میں خواتین میں بہت زیادہ برداشت تھی جو کہ اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا یہ کہنا غلط ہے کہ طلاقوں کی بڑھتی شرح میں سوشل میڈیا کا ہاتھ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حنا خواجہ بیات کا کہنا تھا کہ ہر رشتے اور تعلق میں برداشت لازمی ہوتی ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات ملازمت کی جگہ پر بھی کسی کی دوسرے ساتھی کے ساتھ نہیں بنتی، اس وقت اسے برداشت کرنا پڑتا ہے، اسی طرح شادی کے رشتے میں بھی کچھ چیزوں کو برداشت کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ نے واضح کیا کہ برداشت کی ایک حد ہوتی ہے، ہر کوئی اپنی حدود بنا لے کہ یہاں تک چیزیں برداشت کی جا سکتی ہیں، اس کے بعد چیزوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیئر اداکارہ کے مطابق جسمانی تشدد ایک طرف خواتین پر جذباتی تشدد کرنا زیادہ خطرناک ہوتا ہے، اسے طعنے دے دے کر اسے اپنی نظروں میں گرایا جاتا ہے، جس کے بعد وہ کچھ کر ہی نہیں سکتی، اس لیے ایسی چیزیں نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سینیئر اداکارہ حنا خواجہ بیات نے کہا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب مرد و خواتین میں برداشت کم ہونے کی وجہ سے زیادہ طلاقیں ہو رہی ہیں، تاہم خواتین کا مالی طور پر مستحکم ہونا بھی ایک سبب ہے۔</p>
<p>حنا خواجہ بیات نے حال ہی میں ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=ZnQ1msoVUTc&amp;t=1516s"><strong>پوڈکاسٹ</strong></a> میں شرکت کی، جہاں انہوں نے طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔</p>
<p>اداکارہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں خواتین حد سے زیادہ باتیں برداشت کرتی تھیں جو کہ غلط تھا، ماضی میں خواتین کو اتنا زیادہ برداشت نہیں کرنا چاہیے تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1149521"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ماضی میں خواتین کو کسی چیز کا کوئی احساس نہیں تھا، اب خواتین کو معلوم ہوچکا ہےکہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیا برداشت نہیں کرنا۔</p>
<p>حنا خواجہ بیات کے مطابق ماضی میں صرف عورتیں ہی برداشت کرتی تھیں لیکن اب دونوں طرف برداشت ختم ہو چکی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ذاتی طور پر وہ سمجھتی ہیں کہ مرد اور خواتین میں برداشت کے فقدان کی وجہ سے شادیاں جلد ٹوٹ رہی ہیں، دوسرا سبب خواتین کا معاشی طور پر خود مختار ہونا بھی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق اب خواتین یہ بھی سمجھتی ہیں کہ ان کے پاس وسائل آگئے، ان کے پاس پیسے ہیں تو وہ چیزیں برداشت نہیں کرتیں لیکن ماضی میں خواتین میں بہت زیادہ برداشت تھی جو کہ اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا یہ کہنا غلط ہے کہ طلاقوں کی بڑھتی شرح میں سوشل میڈیا کا ہاتھ ہے۔</p>
<p>حنا خواجہ بیات کا کہنا تھا کہ ہر رشتے اور تعلق میں برداشت لازمی ہوتی ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات ملازمت کی جگہ پر بھی کسی کی دوسرے ساتھی کے ساتھ نہیں بنتی، اس وقت اسے برداشت کرنا پڑتا ہے، اسی طرح شادی کے رشتے میں بھی کچھ چیزوں کو برداشت کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>اداکارہ نے واضح کیا کہ برداشت کی ایک حد ہوتی ہے، ہر کوئی اپنی حدود بنا لے کہ یہاں تک چیزیں برداشت کی جا سکتی ہیں، اس کے بعد چیزوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>سینیئر اداکارہ کے مطابق جسمانی تشدد ایک طرف خواتین پر جذباتی تشدد کرنا زیادہ خطرناک ہوتا ہے، اسے طعنے دے دے کر اسے اپنی نظروں میں گرایا جاتا ہے، جس کے بعد وہ کچھ کر ہی نہیں سکتی، اس لیے ایسی چیزیں نہیں ہونی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1246962</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Nov 2024 19:00:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/22162542208b951.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/22162542208b951.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
