<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 21:27:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 29 Apr 2026 21:27:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کا احتجاج کی نگرانی کیلئے ریسکیو 1122 کے ہیڈکوارٹرز میں دفتر قائم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1247020/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل میڈیا ٹیم نے خیبر پختونخوا میں ریسکیو 1122 کے پشاور میں واقع ہیڈکوارٹرز میں اپنا دفتر قائم کرلیا۔ دفتر کے قیام کے لیے مبینہ طور پر چیف سیکریٹری کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1874149/pti-social-media-team-sets-up-office-at-rescue-1122-hqs"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کے لیے ایم پی ایز اور ایم این ایز کی قیادت میں جانے والے جلوسوں کی نگرانی کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو 1122 کے حکام کی جانب سے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کو دفتر کے قیام کے لیے 3 کمرے اور کانفرنس روم فراہم کیے گئے ہیں۔ 25 رکنی سوشل میڈیا ٹیم کے پاس ڈرونز، لیپ ٹاپس اور جدید مواصلاتی آلات بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی قیادت نعمان افضل کر رہے ہیں جو مبینہ طور پر اس سے قبل سابق وزیر اعظم، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سوشل میڈیا ٹیم کی سربراہی کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کی اس سوشل میڈیا ٹیم کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ پارٹی کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کی جانب سے احتجاج کے لیے اپنے ساتھ لائے جانے والے مظاہرین کی نگرانی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246789"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اس سے قبل بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پر پارٹی کے ہر ایم این اے کو 10 ہزار افراد اور ہر ایم پی اے کو 5 ہزار افراد لانے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ تمام ارکان اپنے اپنے جلوسوں کی وڈیوز بناکر پارٹی کے ساتھ شیئر کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے جمعرات کے روز صوبائی حکومت کے افسران کو ہدایات جاری کی تھیں کہ ’کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے سرکاری وسائل، اثاثوں اور اختیارات کے غلط استعمال کے لیے آنے والے دباؤ پر مزاحمت کی جائے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سرکاری افسران کے لیے جاری ایک خط میں تاکید کی تھی کہ صوبائی حکومت کے تمام افسران بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی سرگرمی کی معاونت نہ کریں اور ایسے کسی بھی عمل سے خود کو دور رکھیں، اپنے ماتحت افسران اور وسائل کو بھی استعمال نہ ہونے دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف سیکریٹری نے افسران پر زور دیا کہ سیاسی قیادت کی جانب سے صرف قانون کے دائرے میں آنے والی ہدایات کی تعمیل کی جائے، افسران پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق اور سیاسی طور پر خود کو غیر جانبدار رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں گزشتہ 9 سال سے حکومت ہے اور اس جماعت نے کئی بار ریسکیو 1122 کے وسائل اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کی جانب 5 اکتوبر کے مارچ کے دوران بھی پنجاب پولیس نے خیبر پختونخوا کے ریسکیو 1122 کے 41 اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور 1122 کی 17 گاڑیاں تحویل میں لے لی تھیں جو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد جانے والے جلوس کا حصہ تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1122 کے حراست میں لیے گئے اہلکاروں میں فائر فائٹرز، ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنز اور ڈرائیورز شامل تھے جنہیں پی ٹی آئی کی پشاور سے اسلام آباد کے ریڈ زون ڈی چوک تک ریلی کیساتھ تعینات کیا گیا تھا جبکہ 1122 کی ضبط کی گاڑیوں میں 7 فائر ٹرک، 3 واٹر باؤزر اور 6 ایمبولینسز شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ ریسکیو 1122 کی مجموعی طور پر  40 گاڑیاں پشاور سے ڈی چوک تک جانے والے جلوس میں شامل تھیں جبکہ 120 ریسکیو اہلکار بھی اس احتجاج میں ساتھ گئے تھے  اور اس احتجاج کی قیادت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرفتار کیے گئے اہلکاروں کو یکم نومبر کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل میڈیا ٹیم نے خیبر پختونخوا میں ریسکیو 1122 کے پشاور میں واقع ہیڈکوارٹرز میں اپنا دفتر قائم کرلیا۔ دفتر کے قیام کے لیے مبینہ طور پر چیف سیکریٹری کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1874149/pti-social-media-team-sets-up-office-at-rescue-1122-hqs"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کے لیے ایم پی ایز اور ایم این ایز کی قیادت میں جانے والے جلوسوں کی نگرانی کرنا ہے۔</p>
<p>ریسکیو 1122 کے حکام کی جانب سے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کو دفتر کے قیام کے لیے 3 کمرے اور کانفرنس روم فراہم کیے گئے ہیں۔ 25 رکنی سوشل میڈیا ٹیم کے پاس ڈرونز، لیپ ٹاپس اور جدید مواصلاتی آلات بھی موجود ہیں۔</p>
<p>پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی قیادت نعمان افضل کر رہے ہیں جو مبینہ طور پر اس سے قبل سابق وزیر اعظم، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سوشل میڈیا ٹیم کی سربراہی کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>پی ٹی آئی کی اس سوشل میڈیا ٹیم کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ پارٹی کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کی جانب سے احتجاج کے لیے اپنے ساتھ لائے جانے والے مظاہرین کی نگرانی کی جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246789"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ اس سے قبل بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پر پارٹی کے ہر ایم این اے کو 10 ہزار افراد اور ہر ایم پی اے کو 5 ہزار افراد لانے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ تمام ارکان اپنے اپنے جلوسوں کی وڈیوز بناکر پارٹی کے ساتھ شیئر کریں گے۔</p>
<p>چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے جمعرات کے روز صوبائی حکومت کے افسران کو ہدایات جاری کی تھیں کہ ’کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے سرکاری وسائل، اثاثوں اور اختیارات کے غلط استعمال کے لیے آنے والے دباؤ پر مزاحمت کی جائے۔‘</p>
<p>انہوں نے سرکاری افسران کے لیے جاری ایک خط میں تاکید کی تھی کہ صوبائی حکومت کے تمام افسران بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی سرگرمی کی معاونت نہ کریں اور ایسے کسی بھی عمل سے خود کو دور رکھیں، اپنے ماتحت افسران اور وسائل کو بھی استعمال نہ ہونے دیں۔</p>
<p>چیف سیکریٹری نے افسران پر زور دیا کہ سیاسی قیادت کی جانب سے صرف قانون کے دائرے میں آنے والی ہدایات کی تعمیل کی جائے، افسران پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق اور سیاسی طور پر خود کو غیر جانبدار رکھیں۔</p>
<p>پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں گزشتہ 9 سال سے حکومت ہے اور اس جماعت نے کئی بار ریسکیو 1122 کے وسائل اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد کی جانب 5 اکتوبر کے مارچ کے دوران بھی پنجاب پولیس نے خیبر پختونخوا کے ریسکیو 1122 کے 41 اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور 1122 کی 17 گاڑیاں تحویل میں لے لی تھیں جو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد جانے والے جلوس کا حصہ تھیں۔</p>
<p>1122 کے حراست میں لیے گئے اہلکاروں میں فائر فائٹرز، ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنز اور ڈرائیورز شامل تھے جنہیں پی ٹی آئی کی پشاور سے اسلام آباد کے ریڈ زون ڈی چوک تک ریلی کیساتھ تعینات کیا گیا تھا جبکہ 1122 کی ضبط کی گاڑیوں میں 7 فائر ٹرک، 3 واٹر باؤزر اور 6 ایمبولینسز شامل تھیں۔</p>
<p>ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ ریسکیو 1122 کی مجموعی طور پر  40 گاڑیاں پشاور سے ڈی چوک تک جانے والے جلوس میں شامل تھیں جبکہ 120 ریسکیو اہلکار بھی اس احتجاج میں ساتھ گئے تھے  اور اس احتجاج کی قیادت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کی تھی۔</p>
<p>گرفتار کیے گئے اہلکاروں کو یکم نومبر کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1247020</guid>
      <pubDate>Sat, 23 Nov 2024 15:03:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد اشفاق)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/23150048db707ff.jpg?r=150244" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/23150048db707ff.jpg?r=150244"/>
        <media:title>پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی قیادت نعمان افضل کر رہے ہیں — فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
