<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 08:07:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 08:07:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیورا لنک کی ڈیوائس کینیڈا کے معذور انسانوں پر آزمائی جائے گی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1247040/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایلون مسک کی ٹیلی پیتھی میڈیکل ڈیوائس کمپنی ’نیورالنک‘ نے تصدیق کی ہے کہ کینیڈا کی وزارت صحت نے ان کی ڈیوائس وہاں کے 6 معذور انسانوں پر آزمانے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/canadian-neurosurgeons-seek-six-patients-musks-neuralink-brain-study-2024-11-22/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق نیورا لنک نے کینیڈا کی ایک یونیورسٹی سے اشتراک کیا، وہاں کے نیوروسرجنز چاہتے ہیں کہ مذکورہ ڈیوائس کو وہاں کے معذور افراد پر بھی آزمایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیورا لنک نے کینیڈا کے حکام اور یونیورسٹی سے ایک سال قبل رابطہ کیا تھا اور اب وہاں کی حکومت نے مذکورہ ڈیوائس کو کینیڈا کے 6 معذور انسانوں پر آزمانے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1225800"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح نہیں ہے کہ نیورا لنک کی ڈیوائس کب تک کینیڈا کے معذور انسانوں پر آزمائی جائے گی، تاہم مذکورہ ڈیوائس کو اب تک صرف امریکا کے دو معذور افراد کے دماغوں میں داخل کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے انسان کے دماغ میں اگست 2024 میں نیورا لنک کی ڈیوائس نصب کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نیورالنک‘ نے پہلی بار جنوری 2024 میں انسانی دماغ میں چپ نصب کی تھی، جو کہ فالج سمیت دیگر معذوریوں کے شکار افراد کو ڈیجیٹل ڈیوائسز سے منسلک کرنے سمیت انہیں چہل قدمی میں مدد فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نیورا لنک‘ ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کی کمپنی ہے، جسے 2016 میں بنایا گیا تھا، اس کمپنی کا مقصد ایسی کمپیوٹرائزڈ چپ تیار کرنا ہے، جنہیں انسانی دماغ اور جسم میں داخل کرکے انسان ذات کو بیماریوں سے بچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کمپنی نے 2020 میں تیار کردہ کمپیوٹرائزڈ چپ کو جانوروں کے دماغ میں داخل کرکے اس کی آزمائش بھی کی تھی اور پھر کمپیوٹرائزڈ چپ والے جانوروں کو دنیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مذکورہ چپ کی انسانوں پر آزمائش کے لیے امریکی محکمہ صحت سے اجازت طلب کی تھی اور مئی 2023 کو نیورا لنک کو آزمائش کی اجازت دے دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایلون مسک کی ٹیلی پیتھی میڈیکل ڈیوائس کمپنی ’نیورالنک‘ نے تصدیق کی ہے کہ کینیڈا کی وزارت صحت نے ان کی ڈیوائس وہاں کے 6 معذور انسانوں پر آزمانے کی اجازت دے دی۔</p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/canadian-neurosurgeons-seek-six-patients-musks-neuralink-brain-study-2024-11-22/"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق نیورا لنک نے کینیڈا کی ایک یونیورسٹی سے اشتراک کیا، وہاں کے نیوروسرجنز چاہتے ہیں کہ مذکورہ ڈیوائس کو وہاں کے معذور افراد پر بھی آزمایا جائے۔</p>
<p>نیورا لنک نے کینیڈا کے حکام اور یونیورسٹی سے ایک سال قبل رابطہ کیا تھا اور اب وہاں کی حکومت نے مذکورہ ڈیوائس کو کینیڈا کے 6 معذور انسانوں پر آزمانے کی اجازت دے دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1225800"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ واضح نہیں ہے کہ نیورا لنک کی ڈیوائس کب تک کینیڈا کے معذور انسانوں پر آزمائی جائے گی، تاہم مذکورہ ڈیوائس کو اب تک صرف امریکا کے دو معذور افراد کے دماغوں میں داخل کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>دوسرے انسان کے دماغ میں اگست 2024 میں نیورا لنک کی ڈیوائس نصب کی گئی تھی۔</p>
<p>’نیورالنک‘ نے پہلی بار جنوری 2024 میں انسانی دماغ میں چپ نصب کی تھی، جو کہ فالج سمیت دیگر معذوریوں کے شکار افراد کو ڈیجیٹل ڈیوائسز سے منسلک کرنے سمیت انہیں چہل قدمی میں مدد فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>’نیورا لنک‘ ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کی کمپنی ہے، جسے 2016 میں بنایا گیا تھا، اس کمپنی کا مقصد ایسی کمپیوٹرائزڈ چپ تیار کرنا ہے، جنہیں انسانی دماغ اور جسم میں داخل کرکے انسان ذات کو بیماریوں سے بچانا ہے۔</p>
<p>اسی کمپنی نے 2020 میں تیار کردہ کمپیوٹرائزڈ چپ کو جانوروں کے دماغ میں داخل کرکے اس کی آزمائش بھی کی تھی اور پھر کمپیوٹرائزڈ چپ والے جانوروں کو دنیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>کمپنی نے مذکورہ چپ کی انسانوں پر آزمائش کے لیے امریکی محکمہ صحت سے اجازت طلب کی تھی اور مئی 2023 کو نیورا لنک کو آزمائش کی اجازت دے دی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1247040</guid>
      <pubDate>Sat, 23 Nov 2024 20:17:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/231907389b370d0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/231907389b370d0.jpg"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ یوٹیوب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
