<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 14 May 2026 16:43:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 14 May 2026 16:43:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’آئینی روح کے منافی قانون سازی، دینی مدارس کے متفقہ ڈرافٹ پر اعتراض حکومت کیلئے وبال بن سکتا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1247320/</link>
      <description>&lt;p&gt;جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ  26ویں ترمیم کی منظوری کے دوران جن نکات پر حکومت قانون سازی سے دست بردار ہوئی، ایکٹ ذریعے ان کی منظوری اور  دینی مدارس کے متفقہ ڈرافٹ پر اعتراضات حکومت کے لیے وبال بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بے امنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں پرتشدد واقعات کی مذمت کرتا ہوں، پی ٹی آئی کے مظاہرین نے ڈی چوک جانے کااعلان کیا، اتنے بندوبست کے باوجود وہ وہاں تک کیسے پہنچے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فضل الرحمٰن نے کہا کہ مذاکرات اور بات چیت ہو تو راستہ نکل آتا ہے، ایک فریق کہے کہ ایک شخص کو جیل میں رکھنا ہے اور دوسرا کہے کہ ہم نے اسے چھڑانا ہے تو نتیجہ انارکی کے سوا کچھ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245045"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ کسی پارٹی کے اندرونی معاملات کو زیربحث نہیں لاناچاہتا،
آج کے حالات 8فروری کے الیکشن کی وجہ سے ہیں، اداروں کو الیکشن سے دور ہونا ہوگا تب ہی عوام کو سکون آئےگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سوال پر کہ مدارس کے حوالے سے بل پر اب تک صدر مملکت آصف زرداری نے دستخط نہیں کیے، جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر کل تک دستخط نہیں کیے تو پھر آنے والی اپنی کانفرنس میں اس پر بات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تو اپنا کام، اپنی نیت دکھا دی جن چیزوں پر وہ 26ویں ترمیم میں دست بردار ہوئے، 56 کلاز میں سے وہ صرف 22 پر متفق ہوئی، ان میں  5 کا بعد میں ہم نے اضافہ کیا،  اس کے بعد پھر قانون سازی کرنا اور ایکٹ کے ذریعے ایسے قوانین پاس کرنا جو آئین کی روح اور 26 ویں ترمیم کی روح کے منافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان قوانین پر تو آصف زرداری دستخط کریں اور دینی مدارس کے اس ڈرافٹ پر جو الیکشن سے پہلے پی ڈی ایم کے دور حکومت میں پیپلز پارٹی کی موجودگی میں طے ہوا تھا اور اس پر اتفاق رائے پیدا ہوا تھا، 5 گھنٹے بلاول ہاؤس میں میٹنگ کرکے اس پر اتفاق رائے ہوا، 5 گھنٹے ہم نے لاہور میں میاں نواز شریف کے گھر میں اس پر اتفاق کیا، آج اس پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں، یہ چیزیں ان کے لیے وبال بن سکتی ہیں، اتنا بھی آسان نہیں ہے لیکن میں نے کہا ہے کہ میں کل اس پر بات کروں گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ  26ویں ترمیم کی منظوری کے دوران جن نکات پر حکومت قانون سازی سے دست بردار ہوئی، ایکٹ ذریعے ان کی منظوری اور  دینی مدارس کے متفقہ ڈرافٹ پر اعتراضات حکومت کے لیے وبال بن سکتے ہیں۔</p>
<p>لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بے امنی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں پرتشدد واقعات کی مذمت کرتا ہوں، پی ٹی آئی کے مظاہرین نے ڈی چوک جانے کااعلان کیا، اتنے بندوبست کے باوجود وہ وہاں تک کیسے پہنچے؟</p>
<p>فضل الرحمٰن نے کہا کہ مذاکرات اور بات چیت ہو تو راستہ نکل آتا ہے، ایک فریق کہے کہ ایک شخص کو جیل میں رکھنا ہے اور دوسرا کہے کہ ہم نے اسے چھڑانا ہے تو نتیجہ انارکی کے سوا کچھ نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1245045"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ کسی پارٹی کے اندرونی معاملات کو زیربحث نہیں لاناچاہتا،
آج کے حالات 8فروری کے الیکشن کی وجہ سے ہیں، اداروں کو الیکشن سے دور ہونا ہوگا تب ہی عوام کو سکون آئےگا۔</p>
<p>اس سوال پر کہ مدارس کے حوالے سے بل پر اب تک صدر مملکت آصف زرداری نے دستخط نہیں کیے، جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر کل تک دستخط نہیں کیے تو پھر آنے والی اپنی کانفرنس میں اس پر بات کریں گے۔</p>
<p>ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تو اپنا کام، اپنی نیت دکھا دی جن چیزوں پر وہ 26ویں ترمیم میں دست بردار ہوئے، 56 کلاز میں سے وہ صرف 22 پر متفق ہوئی، ان میں  5 کا بعد میں ہم نے اضافہ کیا،  اس کے بعد پھر قانون سازی کرنا اور ایکٹ کے ذریعے ایسے قوانین پاس کرنا جو آئین کی روح اور 26 ویں ترمیم کی روح کے منافی ہے۔</p>
<p>اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان قوانین پر تو آصف زرداری دستخط کریں اور دینی مدارس کے اس ڈرافٹ پر جو الیکشن سے پہلے پی ڈی ایم کے دور حکومت میں پیپلز پارٹی کی موجودگی میں طے ہوا تھا اور اس پر اتفاق رائے پیدا ہوا تھا، 5 گھنٹے بلاول ہاؤس میں میٹنگ کرکے اس پر اتفاق رائے ہوا، 5 گھنٹے ہم نے لاہور میں میاں نواز شریف کے گھر میں اس پر اتفاق کیا، آج اس پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں، یہ چیزیں ان کے لیے وبال بن سکتی ہیں، اتنا بھی آسان نہیں ہے لیکن میں نے کہا ہے کہ میں کل اس پر بات کروں گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1247320</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Nov 2024 18:42:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/2717461261cc776.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/2717461261cc776.jpg"/>
        <media:title>جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان—۔فوٹو/ آئی این پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/27174556f231daa.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/27174556f231daa.jpg"/>
        <media:title>فوٹو:ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
