<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 19 Jun 2026 19:48:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 19 Jun 2026 19:48:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی سی سی پراسیکیوٹر نے میانمار جنتا چیف کے وارنٹ گرفتاری کی استدعا کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1247327/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے چیف پراسیکیوٹر نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مبینہ انسانیت سوز جرائم کے ضمن میں میانمار کی فوجی جنتا کے سربراہ من آنگ ہلینگ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق میانمار کی اعلیٰ سطح حکومتی شخصیت کے خلاف روہنگیا میں مظالم کے سلسلے میں عالمی فوجداری عدالت میں دائر کی جانے والی یہ  وارنٹ گرفتاری کی پہلی درخواست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریم خان نے ایک بیان میں کہا کہ ’ ایک جامع، آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ میانمار کے قائم مقام صدر اور سینیئر جنرل من آنگ ہلینگ کے خلاف انسانی جرائم کا ارتکاب کرنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ان جرائم میں مبینہ طور پر 25 اگست اور 31 دسمبر 2017 کے درمیان جلاوطنی اور نسل کشی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنتا کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241576"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ آئی سی سی پراسیکیوٹر نے 2017 اور  2019 میں میانمار، شورش زدہ ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جرائم کی تحیقیقات کا آغاز کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان جرائم کی وجہ سے یہاں پر مقیم 7 لاکھ 50 ہزار   اقلیتی آبادی پر مشتمل مسلمان پڑوسی ملک بنگہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریم خان کا کہنا تھا کہ مبینہ جرائم کا ارتکاب میانمار کی آرمی، بدنام زمانہ فوج ’تتمادو‘ نے کیے جسے ملکی، سرحدی پولیس اور غیر روہنگیا شہریوں کی حمایت حاصل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریم خان نے مزید درخواستوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ میانمار کی کسی بھی اعلیٰ سطح کی حکومتی شخصیت کے خلاف وارنٹ گرفتاری کی پہلی درخواست ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2021 میں فوج کی جانب سے آنگ سان سوچی کو معزول کرنے کے بعد میانمار، فوج اور مختلف مسلح گروپوں کے درمیان حکمرانی کو لے کر تنازعات کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنتا گزشتہ سال سے باغیوں کی جانب سے بغاوت کی بڑی کارروائیوں کا سامنا کررہی ہے جس میں چین سے ملحقہ اس کی سرحد کے بڑے حصے پر قبضہ  بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی  کی جانب سے اگر وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں تو اس کے 124 ممبران اصولی طور پر جنتا کے چیف کو اپنے ملک کا دورہ کرنے کی صورت میں حراست میں لینے کے پابند ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، میانمار کی جنتا کو اسلحہ فراہم کرنے والا اہم اتحادی چین عالمی عدالت انصاف کا ممبر نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کریم خان کی درخواست آئی سی سی کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، ان کے سابق وزیر دفاع یووگیلنٹ اور حماس کے سربراہ کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے کچھ روز  بعد دائر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیموں نے کریم خان کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ظلم اور بربریت کے خاتمے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اگست 2017 میں میانمار میں مسلمان اقلیت روہنگیا کے خلاف بدترین کارروائیاں کی گئی تھیں، جس کے بعد لاکھوں روہنگیا مسلمان پڑوسی ملک بنگلہ دیش منتقل ہوگئے تھے جہاں ان کے لیے مہاجر کیمپ تشکیل دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والی بدترین کارروائیوں کا الزام میانمار کی سیکیورٹی فورسز پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے چیف پراسیکیوٹر نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مبینہ انسانیت سوز جرائم کے ضمن میں میانمار کی فوجی جنتا کے سربراہ من آنگ ہلینگ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کردی۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق میانمار کی اعلیٰ سطح حکومتی شخصیت کے خلاف روہنگیا میں مظالم کے سلسلے میں عالمی فوجداری عدالت میں دائر کی جانے والی یہ  وارنٹ گرفتاری کی پہلی درخواست ہے۔</p>
<p>کریم خان نے ایک بیان میں کہا کہ ’ ایک جامع، آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ میانمار کے قائم مقام صدر اور سینیئر جنرل من آنگ ہلینگ کے خلاف انسانی جرائم کا ارتکاب کرنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔’</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ان جرائم میں مبینہ طور پر 25 اگست اور 31 دسمبر 2017 کے درمیان جلاوطنی اور نسل کشی شامل ہے۔</p>
<p>جنتا کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241576"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ آئی سی سی پراسیکیوٹر نے 2017 اور  2019 میں میانمار، شورش زدہ ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جرائم کی تحیقیقات کا آغاز کیا تھا۔</p>
<p>ان جرائم کی وجہ سے یہاں پر مقیم 7 لاکھ 50 ہزار   اقلیتی آبادی پر مشتمل مسلمان پڑوسی ملک بنگہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔</p>
<p>کریم خان کا کہنا تھا کہ مبینہ جرائم کا ارتکاب میانمار کی آرمی، بدنام زمانہ فوج ’تتمادو‘ نے کیے جسے ملکی، سرحدی پولیس اور غیر روہنگیا شہریوں کی حمایت حاصل تھی۔</p>
<p>کریم خان نے مزید درخواستوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ میانمار کی کسی بھی اعلیٰ سطح کی حکومتی شخصیت کے خلاف وارنٹ گرفتاری کی پہلی درخواست ہے۔’</p>
<p>فروری 2021 میں فوج کی جانب سے آنگ سان سوچی کو معزول کرنے کے بعد میانمار، فوج اور مختلف مسلح گروپوں کے درمیان حکمرانی کو لے کر تنازعات کا شکار ہے۔</p>
<p>جنتا گزشتہ سال سے باغیوں کی جانب سے بغاوت کی بڑی کارروائیوں کا سامنا کررہی ہے جس میں چین سے ملحقہ اس کی سرحد کے بڑے حصے پر قبضہ  بھی شامل ہے۔</p>
<p>آئی سی سی  کی جانب سے اگر وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں تو اس کے 124 ممبران اصولی طور پر جنتا کے چیف کو اپنے ملک کا دورہ کرنے کی صورت میں حراست میں لینے کے پابند ہوں گے۔</p>
<p>دریں اثنا، میانمار کی جنتا کو اسلحہ فراہم کرنے والا اہم اتحادی چین عالمی عدالت انصاف کا ممبر نہیں ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ کریم خان کی درخواست آئی سی سی کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، ان کے سابق وزیر دفاع یووگیلنٹ اور حماس کے سربراہ کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے کچھ روز  بعد دائر کی گئی ہے۔</p>
<p>انسانی حقوق کی تنظیموں نے کریم خان کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ظلم اور بربریت کے خاتمے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ اگست 2017 میں میانمار میں مسلمان اقلیت روہنگیا کے خلاف بدترین کارروائیاں کی گئی تھیں، جس کے بعد لاکھوں روہنگیا مسلمان پڑوسی ملک بنگلہ دیش منتقل ہوگئے تھے جہاں ان کے لیے مہاجر کیمپ تشکیل دیے گئے ہیں۔</p>
<p>روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والی بدترین کارروائیوں کا الزام میانمار کی سیکیورٹی فورسز پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1247327</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Nov 2024 18:51:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/2718452126bab8f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/2718452126bab8f.jpg"/>
        <media:title>میانمار کی فوجی جنتا کے سربراہ من آنگ ہلینگ — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
