<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 18:21:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 18:21:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹرنیٹ پر کڑی پابندیاں، پاکستان تابناک مستقبل سے پیچھے رہ جائے گا، ماہرین</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1247365/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت سیاسی محاذ آرائی کے دوران انٹرنیٹ پر ’کڑی پابندیاں‘ نافذ کر رہی ہے، ماہرین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں پاکستان متوقع ’تابناک مستقبل‘ سے پیچھے رہ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1875232/web-controls-suppress-dissent-stifle-potential"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر فروری سے پابندی ہے، انٹرنیٹ کی بندش معمول بنتی جارہی ہے، حکومت کی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیے جانے والے ویب ٹولز بھی جلد ہی انفرادی سطح پر استعمال کے لیے ممنوع ہوجائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ چند سالوں کے دوران حزب اختلاف کی جماعتوں کے لانگ مارچ یا بڑے سیاسی اجتماعات کے دوران انٹرنیٹ کی بندش میں اضافہ دیکھا گیا ہے، موبائل ڈیٹا کے ساتھ ساتھ اب گھریلو انٹرنیٹ کنکشن بھی بند کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کی رائے میں عمران خان کے ٹیکنالوجی سے واقف نوجوان حامیوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو اسلام آباد کے مارچ میں ’چیلنج‘ کرنے کے بعد ان اقدامات میں اضافہ ہوا، وفاقی دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں میں جھڑپیں شروع ہونے کے بعد ’موبائل ڈیٹا‘ بلاک کیا گیا، سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے گھریلو انٹرنیٹ کنکشنز بھی متاثر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1227071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل رائٹس کے حوالے سے سرگرم  سماجی رہنما اسامہ خلجی نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اس وقت پاکستان میں انٹرنیٹ پر جس سطح کی سینسرشپ اور نگرانی دیکھی جارہی ہے، اس کے نتیجے میں معاشرے میں ’بے چینی‘ پھیل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو 2022 میں حکومت سے ہٹائے جانے کے بعد پی ٹی آئی کے احتجاج اور مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ کی بندش ہوتی رہی ہے لیکن گھریلو انٹرنیٹ کو بند کرنا غیر معمولی ہے، تاہم وفاقی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اسلام آباد کے مخصوص علاقوں میں انٹرنیٹ بند کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائرلیس انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سربراہ شہزاد ارشد نے کہا کہ ’ماضی کے احتجاج کے دوران اسلام آباد کے رہائشیوں نے اپنے وائی فائی ’اوپن‘ کر دیے تھے، اس لیے اس بار گھریلو انٹرنیٹ بھی پابندی کی زد میں آگیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسسٹنٹ پروفیسر محمد فہیم خان نے کہا کہ ’انٹرنیٹ کنکشن کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہمیں ’دہرے‘ لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا، میں یونیورسٹی میں پڑھانے کے لیے نہیں جا سکا اور انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے آن لائن کلاسز بھی نہیں دے سکا، انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے جاری منصوبے رک گئے، کوئی کام نہیں ہوسکا اور زندگی ’پھیکی‘ پڑ گئی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2023 میں پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ چکا تھا، جس سے بچنے کی واحد صورت غیر ملکی ’بیل آؤٹ پیکیج‘ رہ گیا تھا، اس کے بعد موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کی بحالی کے لیے ٹیکنالوجی کو ’لائف لائن‘ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبہ اور بلاگر خدیجہ رضوی کہتی ہیں کہ اس بار انٹرنیٹ کی ’بدترین‘ بندش کی گئی، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، اس تمام صورتحال نے انہیں بےحد مایوس کیا ہے، اگر انٹرنیٹ کی بندش کا یہی معمول جاری رہا تو ’بامقصد ترقی‘ ممکن نہیں ہوسکے گی، حالیہ انٹرنیٹ کی بندش کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ تمام صلاحیتیں اور قیمتی وقت برباد ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام صورتحال میں آن لائن ایپس استعمال کرکے فوڈ ڈیلیوری کرنے والے ہزاروں رائیڈرز اور ڈرائیورز کا روزگار بھی متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کی آبادی محض 10 لاکھ افراد پر مشتمل ہے تاہم دوسرے شہروں میں بسنے والے 24 کروڑ پاکستانی بھی اگست سے جاری انٹرنیٹ کی بندش سے متاثر ہوتے ہیں، ڈیجیٹل تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت فائروال کا تجربہ کرتی رہی ہے، جس کی بدولت اسے یہ طاقت ملی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ریلیوں یا مظاہروں کی شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی صارفین اور فری لانسرز حکومت کی انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے وی پی این استعمال کرتے رہے ہیں تاکہ وہ بیرون ملک موجود اپنے گاہکوں کو خدمات فراہم کرکے روزگار کماتے رہیں، پاکستان فری لانس ایسوسی ایشن کے مطابق 24 لاکھ پاکستانی آن لائن خدمات فراہم کرکے روزگار کما رہے ہیں تاہم رواں ماہ اسلامی نظریاتی کونسل نے غیر قانونی مواد تک رسائی کے لیے وی پی این کا استعمال غیر شرعی قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کہا ہے کہ یکم دسمبر سے صرف رجسٹرڈ وی پی اینز ہی استعمال کیے جاسکیں گے، ان کا صرف کمرشل استعمال ہی کیا جاسکے گا، غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کو بلاک کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ فری لانسرز کو بھی وی پی اینز کی سہولت مل سکے گی تاہم ان کا کسی آجر سے منسلک ہونا ضروری ہے، ایسے فری لانسرز کو اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنا ہوں گی تاکہ ان کی نگرانی کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائریکٹر ولسن سینٹر، ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ مائیکل کوگل مین کہتے ہیں کہ ’پاکستان اپنی ڈیجیٹل اکانومی کو مضبوط تر بنانے کی خواہش رکھتا ہے تاہم آن لائن مواد کی نگرانی کے لیے سخت اقدامات بھی کر رہا ہے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت سیاسی محاذ آرائی کے دوران انٹرنیٹ پر ’کڑی پابندیاں‘ نافذ کر رہی ہے، ماہرین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں پاکستان متوقع ’تابناک مستقبل‘ سے پیچھے رہ جائے گا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1875232/web-controls-suppress-dissent-stifle-potential"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر فروری سے پابندی ہے، انٹرنیٹ کی بندش معمول بنتی جارہی ہے، حکومت کی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیے جانے والے ویب ٹولز بھی جلد ہی انفرادی سطح پر استعمال کے لیے ممنوع ہوجائیں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ چند سالوں کے دوران حزب اختلاف کی جماعتوں کے لانگ مارچ یا بڑے سیاسی اجتماعات کے دوران انٹرنیٹ کی بندش میں اضافہ دیکھا گیا ہے، موبائل ڈیٹا کے ساتھ ساتھ اب گھریلو انٹرنیٹ کنکشن بھی بند کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کی رائے میں عمران خان کے ٹیکنالوجی سے واقف نوجوان حامیوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو اسلام آباد کے مارچ میں ’چیلنج‘ کرنے کے بعد ان اقدامات میں اضافہ ہوا، وفاقی دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں میں جھڑپیں شروع ہونے کے بعد ’موبائل ڈیٹا‘ بلاک کیا گیا، سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے گھریلو انٹرنیٹ کنکشنز بھی متاثر ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1227071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈیجیٹل رائٹس کے حوالے سے سرگرم  سماجی رہنما اسامہ خلجی نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اس وقت پاکستان میں انٹرنیٹ پر جس سطح کی سینسرشپ اور نگرانی دیکھی جارہی ہے، اس کے نتیجے میں معاشرے میں ’بے چینی‘ پھیل رہی ہے۔</p>
<p>پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو 2022 میں حکومت سے ہٹائے جانے کے بعد پی ٹی آئی کے احتجاج اور مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ کی بندش ہوتی رہی ہے لیکن گھریلو انٹرنیٹ کو بند کرنا غیر معمولی ہے، تاہم وفاقی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اسلام آباد کے مخصوص علاقوں میں انٹرنیٹ بند کیا گیا تھا۔</p>
<p>وائرلیس انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سربراہ شہزاد ارشد نے کہا کہ ’ماضی کے احتجاج کے دوران اسلام آباد کے رہائشیوں نے اپنے وائی فائی ’اوپن‘ کر دیے تھے، اس لیے اس بار گھریلو انٹرنیٹ بھی پابندی کی زد میں آگیا‘۔</p>
<p>اسسٹنٹ پروفیسر محمد فہیم خان نے کہا کہ ’انٹرنیٹ کنکشن کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہمیں ’دہرے‘ لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا، میں یونیورسٹی میں پڑھانے کے لیے نہیں جا سکا اور انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے آن لائن کلاسز بھی نہیں دے سکا، انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے جاری منصوبے رک گئے، کوئی کام نہیں ہوسکا اور زندگی ’پھیکی‘ پڑ گئی۔‘</p>
<p>سال 2023 میں پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ چکا تھا، جس سے بچنے کی واحد صورت غیر ملکی ’بیل آؤٹ پیکیج‘ رہ گیا تھا، اس کے بعد موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کی بحالی کے لیے ٹیکنالوجی کو ’لائف لائن‘ قرار دیا تھا۔</p>
<p>طالبہ اور بلاگر خدیجہ رضوی کہتی ہیں کہ اس بار انٹرنیٹ کی ’بدترین‘ بندش کی گئی، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، اس تمام صورتحال نے انہیں بےحد مایوس کیا ہے، اگر انٹرنیٹ کی بندش کا یہی معمول جاری رہا تو ’بامقصد ترقی‘ ممکن نہیں ہوسکے گی، حالیہ انٹرنیٹ کی بندش کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ تمام صلاحیتیں اور قیمتی وقت برباد ہوگیا۔</p>
<p>اس تمام صورتحال میں آن لائن ایپس استعمال کرکے فوڈ ڈیلیوری کرنے والے ہزاروں رائیڈرز اور ڈرائیورز کا روزگار بھی متاثر ہوا۔</p>
<p>اسلام آباد کی آبادی محض 10 لاکھ افراد پر مشتمل ہے تاہم دوسرے شہروں میں بسنے والے 24 کروڑ پاکستانی بھی اگست سے جاری انٹرنیٹ کی بندش سے متاثر ہوتے ہیں، ڈیجیٹل تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت فائروال کا تجربہ کرتی رہی ہے، جس کی بدولت اسے یہ طاقت ملی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ریلیوں یا مظاہروں کی شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر کو روکا جا سکے۔</p>
<p>کئی صارفین اور فری لانسرز حکومت کی انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے وی پی این استعمال کرتے رہے ہیں تاکہ وہ بیرون ملک موجود اپنے گاہکوں کو خدمات فراہم کرکے روزگار کماتے رہیں، پاکستان فری لانس ایسوسی ایشن کے مطابق 24 لاکھ پاکستانی آن لائن خدمات فراہم کرکے روزگار کما رہے ہیں تاہم رواں ماہ اسلامی نظریاتی کونسل نے غیر قانونی مواد تک رسائی کے لیے وی پی این کا استعمال غیر شرعی قرار دیا تھا۔</p>
<p>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کہا ہے کہ یکم دسمبر سے صرف رجسٹرڈ وی پی اینز ہی استعمال کیے جاسکیں گے، ان کا صرف کمرشل استعمال ہی کیا جاسکے گا، غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کو بلاک کر دیا جائے گا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ فری لانسرز کو بھی وی پی اینز کی سہولت مل سکے گی تاہم ان کا کسی آجر سے منسلک ہونا ضروری ہے، ایسے فری لانسرز کو اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنا ہوں گی تاکہ ان کی نگرانی کی جاسکے۔</p>
<p>ڈائریکٹر ولسن سینٹر، ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ مائیکل کوگل مین کہتے ہیں کہ ’پاکستان اپنی ڈیجیٹل اکانومی کو مضبوط تر بنانے کی خواہش رکھتا ہے تاہم آن لائن مواد کی نگرانی کے لیے سخت اقدامات بھی کر رہا ہے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1247365</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Nov 2024 12:47:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/28121838b1af060.jpg?r=122142" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/28121838b1af060.jpg?r=122142"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
