<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 11:05:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Apr 2026 11:05:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا پی ٹی آئی احتجاج کے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1247366/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج اور سویلینز پر طاقت کے استعمال کے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر کو بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247303"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کے علاوہ سردار لطیف کھوسہ نے فورسز کے اہلکاروں کی ’مبینہ‘ فائرنگ سے ’متعدد ہلاکتوں‘ کا دعویٰ کیا تھا، تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ان دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کچھ ہوا ہے تو ’ثبوت کہاں ہیں؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ریاست علی آزاد کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈی چوک پر سویلین پر طاقت کا استعمال انسانی، سیاسی اور معاشرتی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں، طاقت کے استعمال میں ملوث حکام کے خلاف فی الفور کارروائی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعلامیہ میں سپریم کورٹ سے واقعے کا از خود نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد مستعفی ہوجائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج اور سویلینز پر طاقت کے استعمال کے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔</p>
<p>اس سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر کو بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247303"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔</p>
<p>بدھ کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کے علاوہ سردار لطیف کھوسہ نے فورسز کے اہلکاروں کی ’مبینہ‘ فائرنگ سے ’متعدد ہلاکتوں‘ کا دعویٰ کیا تھا، تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ان دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کچھ ہوا ہے تو ’ثبوت کہاں ہیں؟‘</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ریاست علی آزاد کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈی چوک پر سویلین پر طاقت کا استعمال انسانی، سیاسی اور معاشرتی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں، طاقت کے استعمال میں ملوث حکام کے خلاف فی الفور کارروائی کی جائے۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعلامیہ میں سپریم کورٹ سے واقعے کا از خود نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد مستعفی ہوجائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1247366</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Nov 2024 16:18:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/2813004056dd4a3.jpg?r=161857" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/2813004056dd4a3.jpg?r=161857"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
