<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 02:52:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Apr 2026 02:52:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سری لنکا میں سمندری طوفان، سیلاب سے 4 افراد ہلاک، ڈھائی لاکھ سے زیادہ بے گھر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1247385/</link>
      <description>&lt;p&gt;سری لنکا میں طاقت ور طوفان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے 4 بچوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ 4 افراد لاپتا ہیں، اب یہ طوفان سست ہوکر بھارت کی جانب بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق سری لنکا میں سیلاب کے نتیجے میں ہزاروں گھر زیر آب آنے کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 50 ہزار لوگ اپنی رہائش گاہیں چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی محکمہ موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جنوب مغربی خلیج بنگال پر موجود گہرا دباؤ سمندری طوفان میں تبدیل ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندری طوفان (سائیکلون) شمالی بحر اوقیانوس میں سمندری طوفانوں (ہری کین) یا شمال مغربی بحرالکاہل میں آنے والے طوفانوں کے مساوی ہیں، جو خطے کے لیے باقاعدہ اور مہلک خطرہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد یہ ’طوفان‘ شمال کی جانب بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کی طرف بڑھ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ اس بات کے امکانات موجود تھے کہ یہ طوفان ’گہرے دباؤ‘ کی شکل میں جنوبی ریاست تامل ناڈو اور پدوچیری کی ساحلی پٹی سے ہفتے کی صبح ٹکرائے گا، اس دوران 70 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر نے کہا ہے کہ اس وقت 2 لاکھ 76 ہزار شہری اپنے گھروں سے محروم ہونے کے بعد سرکاری عمارات میں عارضی پناہ کی تلاش میں ہیں، سری لنکا کی حکومت نے فوج کو امدادی کاموں میں حصہ لینے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں اب بھی 2 لاپتا بچوں اور 2 مردوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ لوگ ٹریکٹر اور ٹریلر پر سوار تھے جو سیلابی پانی میں بہہ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا میں جان لیوا سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا ہونا معمول ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ان طوفانوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی شدت اور ان سے نقصانات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سری لنکا میں طاقت ور طوفان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے 4 بچوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ 4 افراد لاپتا ہیں، اب یہ طوفان سست ہوکر بھارت کی جانب بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق سری لنکا میں سیلاب کے نتیجے میں ہزاروں گھر زیر آب آنے کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 50 ہزار لوگ اپنی رہائش گاہیں چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔</p>
<p>بھارتی محکمہ موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جنوب مغربی خلیج بنگال پر موجود گہرا دباؤ سمندری طوفان میں تبدیل ہوسکتا ہے۔</p>
<p>سمندری طوفان (سائیکلون) شمالی بحر اوقیانوس میں سمندری طوفانوں (ہری کین) یا شمال مغربی بحرالکاہل میں آنے والے طوفانوں کے مساوی ہیں، جو خطے کے لیے باقاعدہ اور مہلک خطرہ ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سری لنکا کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد یہ ’طوفان‘ شمال کی جانب بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کی طرف بڑھ رہا تھا۔</p>
<p>بھارت کے محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ اس بات کے امکانات موجود تھے کہ یہ طوفان ’گہرے دباؤ‘ کی شکل میں جنوبی ریاست تامل ناڈو اور پدوچیری کی ساحلی پٹی سے ہفتے کی صبح ٹکرائے گا، اس دوران 70 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔</p>
<p>سری لنکا ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر نے کہا ہے کہ اس وقت 2 لاکھ 76 ہزار شہری اپنے گھروں سے محروم ہونے کے بعد سرکاری عمارات میں عارضی پناہ کی تلاش میں ہیں، سری لنکا کی حکومت نے فوج کو امدادی کاموں میں حصہ لینے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں اب بھی 2 لاپتا بچوں اور 2 مردوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ لوگ ٹریکٹر اور ٹریلر پر سوار تھے جو سیلابی پانی میں بہہ گئے تھے۔</p>
<p>جنوبی ایشیا میں جان لیوا سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا ہونا معمول ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ان طوفانوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی شدت اور ان سے نقصانات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1247385</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Nov 2024 16:54:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/281603062c42e34.jpg?r=160625" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/281603062c42e34.jpg?r=160625"/>
        <media:title>فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
