<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Peshawar</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 09:17:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 09:17:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی کا احتجاج کے دوران کارکنوں کی مبینہ اموات کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1247480/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد میں پارٹی کے 24 نومبر کو اعلان کردہ احتجاج  کے دوران کارکنوں کی مبینہ اموات کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ
حکومت کی جانب سے  پُرامن مظاہرین پر فائرنگ  کے نتیجے میں کم از کم 12 کارکن جاں بحق ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت نے  ہماری پارٹی کے پرامن مظاہرین پر اسلام آباد میں فائرنگ کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/poqqmtN2TVs?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد احتجاج میں پی ٹی آئی کے 12 کارکن شہید ہوئے، کئی کارکن اب بھی لاپتا ہیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے پُرامن مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کروائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس رجیم نے دعویٰ کیا کہ ایک بھی گولی نہیں چلی ہم نے،  آپ کو ثبوتوں کے ساتھ دیکھایا کہ گولی بھی چلی اور جنازے بھی اٹھے، ان کی فسطائیت چھپ نہیں سکتی، اس کی آواز آئندہ کئی سالوں تک گونجتی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ شفیق لنڈ کی میت پمز میں پڑی رہی، ان کے اہل خانہ، تحریک انصاف، صحافی کوائف، میت دینے کا کہتے رہے لیکن 2 دن تک انکار کیا جاتا رہا کہ میت یہاں نہیں اور پھر پنڈی کے ہسپتال سے میت دی گئی اور کہا گیا کہ ان کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا جب کہ انہیں گولی لگنے کی وڈیو موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247473"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اسلام آباد احتجاج میں پی ٹی آئی کارکنوں کی مبینہ اموات پر چیف جسٹس سپریم کورٹ سے جوڈیشل انکوائری کامطالبہ کیا اور الزام عائد کیا کہ ان پر بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;24 نومبر کو بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کے علاوہ سردار لطیف کھوسہ نے فورسز کے اہلکاروں کی ’مبینہ‘ فائرنگ سے ’متعدد ہلاکتوں‘ کا دعویٰ کیا تھا، تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ان دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کچھ ہوا ہے تو ’ثبوت کہاں ہیں؟‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد میں پارٹی کے 24 نومبر کو اعلان کردہ احتجاج  کے دوران کارکنوں کی مبینہ اموات کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ
حکومت کی جانب سے  پُرامن مظاہرین پر فائرنگ  کے نتیجے میں کم از کم 12 کارکن جاں بحق ہوئے۔</p>
<p>پشاور میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت نے  ہماری پارٹی کے پرامن مظاہرین پر اسلام آباد میں فائرنگ کرائی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/poqqmtN2TVs?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد احتجاج میں پی ٹی آئی کے 12 کارکن شہید ہوئے، کئی کارکن اب بھی لاپتا ہیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے پُرامن مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کروائی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس رجیم نے دعویٰ کیا کہ ایک بھی گولی نہیں چلی ہم نے،  آپ کو ثبوتوں کے ساتھ دیکھایا کہ گولی بھی چلی اور جنازے بھی اٹھے، ان کی فسطائیت چھپ نہیں سکتی، اس کی آواز آئندہ کئی سالوں تک گونجتی رہے گی۔</p>
<p>پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ شفیق لنڈ کی میت پمز میں پڑی رہی، ان کے اہل خانہ، تحریک انصاف، صحافی کوائف، میت دینے کا کہتے رہے لیکن 2 دن تک انکار کیا جاتا رہا کہ میت یہاں نہیں اور پھر پنڈی کے ہسپتال سے میت دی گئی اور کہا گیا کہ ان کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا جب کہ انہیں گولی لگنے کی وڈیو موجود ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247473"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس موقع پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اسلام آباد احتجاج میں پی ٹی آئی کارکنوں کی مبینہ اموات پر چیف جسٹس سپریم کورٹ سے جوڈیشل انکوائری کامطالبہ کیا اور الزام عائد کیا کہ ان پر بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>24 نومبر کو بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔</p>
<p>26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔</p>
<p>بدھ کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کے علاوہ سردار لطیف کھوسہ نے فورسز کے اہلکاروں کی ’مبینہ‘ فائرنگ سے ’متعدد ہلاکتوں‘ کا دعویٰ کیا تھا، تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ان دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کچھ ہوا ہے تو ’ثبوت کہاں ہیں؟‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1247480</guid>
      <pubDate>Fri, 29 Nov 2024 23:28:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/29232246ce25e93.png?r=232306" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/29232246ce25e93.png?r=232306"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/292309244d9ee3d.jpg?r=232306" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/292309244d9ee3d.jpg?r=232306"/>
        <media:title>فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
