<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 07:25:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 07:25:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹریفک کے شور سے انزائٹی بڑھنے کے انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1247529/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک مختصر مگر منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ٹریفک کے شور سمیت دوسرے شور شرابے سے نہ صرف انزائٹی بڑھتی ہے بلکہ اس سے دوسرے مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریفک کے شور  کو ’شور کی آلودگی‘ (Noise pollution) ماحولیاتی شور یا صوتی آلودگی بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسے پہلے بھی ذہنی مسائل کا سبب قرار دیا جاتا رہا ہے، اس سے نہ صرف انسانی زندگی بلکہ جانوروں اور پرندوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.dawnnews.tv/news/'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ تحقیق میں برطانوی ماہرین نے صوتی آلودگی کے انسانی صحت اور خصوصی طور پر ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات جانچنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی جریدے کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sciencedaily.com/releases/2024/11/241127165841.htm"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ماہرین نے 68 طلبہ کی خدمات حاصل کیں، جنہیں انہوں نے مختلف حصوں میں تقسیم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے تمام گروپس کے رضاکاروں کو پہلے قدرتی آوازیں سنائیں، جن میں پرندوں کی چہچہاہٹ سمیت دیگر آوازیں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ماہرین نے تمام گروپس کے رضاکاروں کو ٹریفک اور جہازوں کے شور کی آوازیں سنائیں اور مذکورہ آوازیں مختلف قسم کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے رضاکاروں کو آوازیں سنانے کے بعد ان سے سوالات کیے اور ان کے جوابات کی روشنی میں صوتی آلودگی کو ذہنی صحت سے جوڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے معلوم ہوا کہ قدرتی آوازیں ذہنی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں، یہاں تک کہ وہ دل کی دھڑکن کو بھی ہم آہنگ کرکے ترتیب دیتی ہیں جب کہ اس سے بلڈ پریشر میں بہتری سمیت دوسرے فوائد بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قدرتی آوازیں سننے کے بعد ذہن میں اچھے خیالات آنے سمیت یادداشت کے بہتر ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ٹریفک کے شور شرابے سے قدرتی اور اچھی آوازوں کے اثرات ختم ہوجاتے ہیں اور صوتی آلودگی سے ڈپریشن و انزائٹی بڑھنے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق صوتی آلودگی سے نہ صرف چڑچڑاپن بڑھتا ہے بلکہ اس سے ذہنی صحت بھی داؤ پر لگتی ہے اور صوتی آلودگی میں رہنے والے افراد میں ڈپریشن کی سطح نمایاں حد تک بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک مختصر مگر منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ٹریفک کے شور سمیت دوسرے شور شرابے سے نہ صرف انزائٹی بڑھتی ہے بلکہ اس سے دوسرے مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔</p>
<p>ٹریفک کے شور  کو ’شور کی آلودگی‘ (Noise pollution) ماحولیاتی شور یا صوتی آلودگی بھی کہا جاتا ہے۔</p>
<p>اسے پہلے بھی ذہنی مسائل کا سبب قرار دیا جاتا رہا ہے، اس سے نہ صرف انسانی زندگی بلکہ جانوروں اور پرندوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.dawnnews.tv/news/'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>تازہ تحقیق میں برطانوی ماہرین نے صوتی آلودگی کے انسانی صحت اور خصوصی طور پر ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات جانچنے کی کوشش کی۔</p>
<p>طبی جریدے کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sciencedaily.com/releases/2024/11/241127165841.htm"><strong>مطابق</strong></a> ماہرین نے 68 طلبہ کی خدمات حاصل کیں، جنہیں انہوں نے مختلف حصوں میں تقسیم کیا۔</p>
<p>ماہرین نے تمام گروپس کے رضاکاروں کو پہلے قدرتی آوازیں سنائیں، جن میں پرندوں کی چہچہاہٹ سمیت دیگر آوازیں شامل تھیں۔</p>
<p>بعد ازاں ماہرین نے تمام گروپس کے رضاکاروں کو ٹریفک اور جہازوں کے شور کی آوازیں سنائیں اور مذکورہ آوازیں مختلف قسم کی تھیں۔</p>
<p>ماہرین نے رضاکاروں کو آوازیں سنانے کے بعد ان سے سوالات کیے اور ان کے جوابات کی روشنی میں صوتی آلودگی کو ذہنی صحت سے جوڑا۔</p>
<p>تحقیق سے معلوم ہوا کہ قدرتی آوازیں ذہنی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں، یہاں تک کہ وہ دل کی دھڑکن کو بھی ہم آہنگ کرکے ترتیب دیتی ہیں جب کہ اس سے بلڈ پریشر میں بہتری سمیت دوسرے فوائد بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>قدرتی آوازیں سننے کے بعد ذہن میں اچھے خیالات آنے سمیت یادداشت کے بہتر ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔</p>
<p>تاہم ٹریفک کے شور شرابے سے قدرتی اور اچھی آوازوں کے اثرات ختم ہوجاتے ہیں اور صوتی آلودگی سے ڈپریشن و انزائٹی بڑھنے لگتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق صوتی آلودگی سے نہ صرف چڑچڑاپن بڑھتا ہے بلکہ اس سے ذہنی صحت بھی داؤ پر لگتی ہے اور صوتی آلودگی میں رہنے والے افراد میں ڈپریشن کی سطح نمایاں حد تک بڑھ جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1247529</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Nov 2024 19:25:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/11/301730364199802.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/11/301730364199802.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو : وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
